BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی ہڑتال ملتوی کر دی گئی

کراچی میں بدھ کے روز جماعت اسلامی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا
کراچی میں پشتون ایکشن کمیٹی کی جانب سے جمعے کو ہونے والی ہڑتال آٹھ جون تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے بدھ کو عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پشتون ایکشن کمیٹی کے چئرمین شاہی سید کا کہنا کہ حکومتی حکام نے چودھ دن کا وقت مانگا تھا اور مطالبات تسلیم کرنے کی بھی یقین دہائی کروائی تھی جس کے بعد ہڑتال مؤخر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہلاک ہونے والے فی فرد کے لیے آٹھ لاکھ روپے معاوضہ مانگا تھا جبکہ حکومت نے تین لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا جو اب پانچ لاکھ روپے کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل گورنر سندھ نے مردان ہاؤس میں اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی سے ملاقات کی اور کارکنوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ وہ کوئی بات طے کرنے نہیں آئے، ایک حادثہ ہوا ہے اور جو لوگ جاں بحق ہوئے ہیں وہ ان کی فاتحہ کے لیے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ولی خان اور الطاف حسین کی دانشمندی تھی کہ انہوں نے ایک ہم آہنگی کی فضا پیدا کی۔ ’اس کی بنیاد اتنی کمزور نہیں ہونی چاہیئے اور ایسا نہیں ہونا چاہیئے کے ان کی محنت اور کاوش کو نقصان پہنچے اس لیے وہ خود ان کے پاس آئے ہیں۔‘

گورنر سندھ نے واضح کیا کہ انہوں نے مسائل پر بات چیت نہیں کی۔

اسفند یار ولی کا کہنا تھا کہ وہ گورنر سندھ کی آمد کو خوش آئند سمجھتے ہیں اور ’پشتون روایت کے مطابق جب کوئی فاتحہ کے لیے آتا ہے تو اس سے اور معاملات پر بات نہیں کی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا انہوں نے کہا کہ ’یہ سب لوگوں کے مفاد میں ہے کہ کراچی کو دوبارہ اس کی روشنیاں لوٹا دی جائیں، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں مگر انہیں سیاسی پلیٹ فارم سے حل کرنا چاہیئے۔‘

اسفند یار کا کہنا تھا کہ اے این پی کی تو ساری زندگی عدم تشدد کی سوچ کے تحت گزری ہے۔ ’یہ سیاسی مسائل ہیں انہیں سیاسی طریقے سے حل کریں گے اور کل اگر جدوجہد کرنی پڑی تو وہ سیاسی جدوجہد ہوگی۔

اسفندر یار ولی کا کہنا تھا کہ ہڑتال کی کال عوامی نیشنل پارٹی نے نہیں دی ہے۔ ’ہڑتال کی کال پشتون ایکشن کمیٹی نے دی ہے اور اس کے بارے میں کسی بھی فیصلے کا اختیار وہی رکھتی ہے۔‘

بعد میں گورنر سندھ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائین زیرو گئے جہاں انہوں نے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انور عالم اور ڈاکٹر فاروق ستار سے بات چیت کی۔

متحدہ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات پر وہ اشکبار ہیں اور ان کی جماعت اس دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند ہے اور وہ شہر میں امن و امان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنائی گی۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد نے بعد میں جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر غفور سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی ہے۔

پروفیسر غفور کا کہنا تھا کہ کچھ معاملات پر ہم آہنگی ہوئی ہے اور کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو میڈیا پر نہیں لانا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد