BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 May, 2007, 17:22 GMT 22:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کو دھمکی پر احتجاجی مظاہرے

احتجاجی جلوس
صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور دھمکیوں کی مذمت کی
کراچی کے تین سرکردہ صحافیوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے لفافوں میں پستول کی گولیاں بھیجنے کے خلاف بدھ کو پاکستان کے مختلف شہروں میں صحافیوں کی تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

اسلام آباد، کراچی، حیدرآباد اور اندورن سندھ کے بعض شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں صحافیوں نے اپنے ساتھیوں کو پستول کی گولیاں بھیجنے کو آزادی صحافت کا گلہ گھوٹنے اور صحافیوں کو موت کی دھمکیاں دینے کے برابر قرار دیا ہے۔

یہ گولیاں منگل کی شام کراچی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندہ مظہر عباس، فوٹو گرافر آصف اور اے پی کے نمائندہ ضرار خان کی گاڑیوں سے برآمد ہوئی تھیں۔

کراچی میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے صحافیوں کو دھمکی دینے کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی حق اور سچ لکھتے رہیں گے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ان صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں اور سولات اٹھاتے ہیں اور یہ بات کئی لوگوں کو پسند نہیں ہے۔

ضرار خان نے بتایا کہ اس دھمکی سے پہلے نامعلوم لوگ ان کا تعاقب کرتے رہے ہیں’مگر ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ جو بارہ مئی کو گولیوں کے درمیان پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے وہ ان گولیوں سے نہیں ڈریں گے‘۔ ضرار خان نے ان دھمکیوں کو مہاجر رابطہ کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی فہرست کا تسلسل قرار دیا۔

پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انیس سو بانوے میں ان کے گھر پر فائرنگ کی گئی نہ تو وہ تب ڈرے تھے اور نہ اب ڈریں گے۔

دھمکیاں مہاجر رابطہ کونسل کی فہرست کا تسلسل ہیں: ضرار خان

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ’اچھا ہوتا جو گولی لفافے میں آئی تھی وہ ان کے سینے میں لگتی کیونکہ کسی کمنٹمٹ کے ساتھ اگر موت آ جائے تو وہ اعزاز ہے‘۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ غیر جانبدرانہ صحافت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کی مقامی تنظیم نے ہنگامی بنیاد پر اسلام آباد پریس کلب کیمپ آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ صحافیوں نے گولیاں بھیجنے کا الزام متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم پر عائد کیا اور ان کے خلاف سخت نعرے لگائے۔

صحافیوں کے سرکردہ رہنماؤں سی آر شمسی، پرویز شوکت اور افضل بٹ سمیت دیگر نے صحافیوں کو پستول کی گولیاں بھیجنے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے اور حکومتی اتحاد میں شامل جماعت شدت پسندی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس پر صحافیوں نے ’قاتل، قاتل ایم کیو ایم قاتل، کے نعرے بھی لگائے۔

حیدرآباد سندھ سے نامہ نگار علی حسن کے مطابق اندرون سندھ کے کئی شہروں میں بھی صحافیوں نے اپنے ساتھیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔

واضح رہے کہ چند روز پہلے مہاجر رابطہ کونسل نامی ایک تنظیم نے صحافیوں کی ایک فہرست اخبارات میں شائع کروائی تھی، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ صحافی مہاجر ہونے کے باوجود ان کے مقصد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں مظہر عباس اور ضرار خان کا نام بھی شامل تھے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے مہاجر رابطہ کونسل سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ یہ واضح دھمکی ہے اور ان کے خیال میں اس کا تعلق صحافیوں کی مذکورہ فہرست والے معاملے سے ہے۔

لاہور میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایم کیو ایم ،الطاف حسین اور صدر مشرف کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘،’الطاف حسین مردہ باد‘،’ایم کیو ایم مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس موقع پر پی یو جے کے صدر عارف بھٹی اور سیکرٹری عامر رضا نے خطاب کرتے ہوئے کراچی کے صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ حیدرآباد میں بھی صحافیوں نے احتجاجی جلوس نکالا اور صحافیوں کو دھمکیاں دیے جانے کی مذمت کی۔

اس سے قبل بدھ کی صبح کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے پریس کلب پہنچ کر صحافیوں کو تحفظ کی یقین دہانی کروائی اور تحقیقات کا حکم جاری کیا۔ ادھر پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ نے صحافیوں کو دھمکیاں دینے کی مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد