صحافیوں کودھمکی: لفافوں میں گولیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے تین سرکردہ صحافیوں کی گاڑیوں میں سے منگل کی شب گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ یہ گاڑیاں کراچی پریس کلب کے باہر کھڑی ہوئی تھیں کہ نامعلوم افراد ان میں گولیاں چھوڑ گئے۔ صحافیوں نے اسے فعل کو دھمکی قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندہ مظہر عباس، فوٹو گرافر آصف اور اے پی کے نمائندہ ضرار خان کی گاڑیوں سے یہ گولیاں برآمد ہوئیں۔ مظہر عباس نے بتایا کہ سفید رنگ کے ایک لفافے میں ایک ایک گولی ڈال کر ضرار خان اور آصف کی گاڑیوں کے اندر چھوڑی گئیں جبکہ ان کی کار پر گولی والا لفافہ چسپاں کیا گیا تھا۔ چند روز پہلے مہاجر رابطہ کونسل نامی ایک تنظیم نے صحافیوں کی ایک فہرست اخبارات میں شائع کروائی تھی، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ صحافی مہاجر ہونے کے باوجود ان کے مقصد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ اس فہرست میں مظہر عباس اور ضرار خان کا نام بھی شامل تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے مہاجر رابطہ کونسل سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ مظہر عباس کا کہنا ہے کہ یہ واضح دھمکی ہے اور ان کے خیال میں اس کا تعلق صحافیوں کی مذکورہ فہرست والے معاملے سے ہے۔ انہوں نے بتایا اس واقعہ سے سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور پولیس آگاہ کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی کی دیواریں، عمران مخالف نعرے28 May, 2007 | پاکستان ہم پکا ہاتھ ڈالیں گے: عمران خان28 May, 2007 | پاکستان ’عدالتیں غیر جانبدار نہیں رہیں‘28 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||