BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی کی دیواریں، عمران مخالف نعرے

عمران مخالف نعرے
یہ عوام کا فوری اور فطری ردعمل ہے: ایم کیو ایم
کراچی شہر کے لیے وال چاکنگ کوئی نہیں بات نہیں۔ شہر کا نیا یا پرانا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں دیواریں اشتہارات اور سیاسی نعروں اور مطالبوں پر مبنی چاکنگ سے خالی ہوں لیکن شہر میں ان دنوں جا بجا پتھر اور شیشے کی دیواروں پر ایک تازہ چاکنگ نمایاں ہے جس کا موضوع عمران خان ہیں۔

دیواروں پر درج ان نعروں میں اخلاقی حدود کو پھلانگتے ہوئے عمران خان کی ذات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان پر سٹہ بازی اور بدکرداری جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ اسے جماعت کے قائد الطاف حسین کے خلاف مبینہ بیان بازی اور’ہرزہ سرائی‘ پر عوام کا فطری ردعمل قرار دیتی ہے اور اس نے عمران خان کے خلاف پچھلے تین روز سے کراچی سمیت اندرون سندھ کے بعض شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

ایم کیو ایم دباؤ میں
 اس سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ 12 مئی کے بعد شہر میں جو بحران شروع ہوا ہے اور شدت سے جاری ہے، ایم کیو ایم اس سے نکل نہیں پا رہی ہے۔
پروفیسر توصیف احمد

عمران خان بارہ مئی کے بعد سے حزب اختلاف کے دوسرے رہنماؤں کی طرح مسلسل متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور آئندہ ماہ لندن جا کر 12 مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات پر الطاف حسین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔

لیکن کراچی میں ان کے خلاف چاکنگ گزشتہ جمعہ آدھی رات کو اس وقت شروع ہوئی جب دارالحکومت اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کے زیرِ اہتمام کل جماعتی کانفرنس کی طرز پر منعقد ہونے والی قومی مجلسِ مشاورت میں عمران خان نے ایک بار پھر الطاف حسین کو 12 مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نہیں بلکہ الطاف حسین کی ذاتی جماعت ہے اور متحدہ کے ووٹرز الطاف حسین سے نجات حاصل کریں۔

مبصرین کہتے ہیں کہ گزشتہ دو عشروں سے زائد عرصے سے اپنے سیاسی حریفوں سے نبرد آزما ہونے کے باوجود کراچی سمیت سندھ کے بعض بڑے شہروں میں وسیع ووٹ بینک رکھنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے زیراثر علاقوں میں پہلی بار ایسی چاکنگ دیکھنے میں آئی ہے جس میں بقول مبصرین ہر طرح کی مغلظات کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔

پہلی بار ایسی چاکنگ دیکھنے میں آئی ہے جس میں ہر طرح کی مغلظات کا بے دریغ استعمال کیا گیا

متحدہ کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ ’ہم نہ تو اس طرح کی زبان کو مانتے ہیں اور نہ اسے سودمند سمجھتے ہیں اور نہ ہی یہ ہماری روایات و اقدار ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کے خلاف جنرل نصیر اللہ بابر سے لے کر متعدد لوگوں نے وقتاً فوقتاً انتہائی سنگین الزامات لگائے اور وہ وقت آنے پر غلط ثابت ہوئے اس کے باوجود جو آدمی کراچی کے لاکھوں نوجوانوں کا قاتل تھا اس کے خلاف بھی ایم کیو ایم نے کبھی غلیظ زبان استعمال نہیں کی‘۔

انہوں نے کہا کہ’ جو کچھ عمران خان کے حوالے سے کراچی کی کچھ سڑکوں پر لکھا نظر آیا ہے ہم نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں بھی یہ بات واضح کی تھی کہ یہ عوام کا فوری اور فطری ردعمل ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ’قائد تحریک الطاف حسین اور متحدہ کی رابطہ کمیٹی نے عوام اور کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ایک سیاسی رہنما کے اشتعال انگیز بیانات پر ہرگز مشتعل نہ ہوں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں جبکہ اس سلسلے میں پرامن مظاہروں کا سلسلہ بند کردیں اور اس ضمن میں کی گئی چاکنگ کو بھی مٹادیں‘۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے علاقوں میں چاکنگ مٹائے جانے کا کام شروع بھی کر دیا گیا ہے۔

’چاکنگ شہری معاشرے میں اخلاقی انحطاط کی واضح نشاندہی کرتی ہے‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ وال چاکنگ ایم کیو ایم کی سیاست میں بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے اور ایم کیو ایم کے زیر اثر علاقوں میں ہونے والی وال چاکنگ اکثر اوقات بڑی حد تک ان ایشوز کی عکاسی کرتی ہے جن پر پارٹی کی اعلی قیادت سنجیدگی سے غور کررہی ہو اور اس پر رائے عامہ ہموار کرنا چاہتی ہو۔

شہر کے سنجیدہ حلقوں نے دیواروں پر’اخلاقیات سے عاری‘ تنقید کے اس انداز کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا ہے۔ سینئر صحافی اور اردو یونیورسٹی کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ پروفیسر توصیف احمد کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف ہونے والی چاکنگ بارہ مئی کے واقعات کے بعد ایم کیو ایم کو درپیش مشکلات کا اظہار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا’اس سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ 12 مئی کے بعد شہر میں جو بحران شروع ہوا ہے اور بڑی شدت سے جاری ہے، ایم کیو ایم اس سے نکل نہیں پا رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’یہ چاکنگ شہری معاشرے میں اخلاقی انحطاط کی واضح نشاندہی کرتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعت کے پاس اپنے کارکنوں کو دینے کے لیے کوئی مؤثر شے موجود نہیں رہی ہے جس کے باعث وہ اتنے چھوٹے معیار کی چیزوں پر تکیہ کرنے لگے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد