BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 May, 2007, 07:39 GMT 12:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور سے جانا منع، کراچی آنا منع

عمران خان (فائل فوٹو)
سندھ حکومت نے عمران کے صوبے میں داخلے پر ایک ماہ کی پابندی لگائی ہے
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور کے ہوائی اڈے سے کراچی کےسفر سے روک دیا گیا۔ پنجاب کی حکومت نے ان پر لاہور سے باہر جانے پر تین روز کی پابندی عائد کردی ہے۔

سندھ حکومت نے ان کے صوبہ سندھ میں داخل ہونے پر ایک ماہ کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

قومی اسمبلی کے ممبر اور اپنی پارٹی کے سربراہ عمران خان اپنے دو ساتھیوں جاوید اقبال اور عمر چیمہ کے ہمراہ اتوار کی صبح کراچی جانے کے لیے لاہور ائرپورٹ پہنچے تو پولیس اور وفاقی انٹلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔

عمران خان لاؤنج میں پہنچے لیکن انہیں سفر کے لیے بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔

لاہور ائر پورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تیس برس سے پاکستانی عوام انہیں جانتی ہے اور گیارہ برس سے وہ سیاست میں ہیں لیکن انہوں نے یا ان کی پارٹی کے کارکنوں نے کبھی کوئی قانون نہیں توڑا اور کبھی پر تشدد کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کاصاف مطلب ہے کہ امن عامہ کا مسئلہ ان کی ذات یا ان کی پارٹی سے نہیں ہے بلکہ مسئلہ اس کا ہے جو فرعون بنا بیٹھے ہیں اور کراچی کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ چونکہ انہوں نے یہ جرآت کی ہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف لندن میں ایک مقدمہ دائر کریں گے اور اس لیے ان پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو ایک فاشسٹ پارٹی قرار دیا اور کہا کہ ایک آدمی لندن میں بیٹھ کر کراچی کو اور پورے ملک کو بلیک میل کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محض اس لیے روکا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ الطاف حسین کی جاگیر ہے۔

الطاف حسین (فائل فوٹو)
عمران خان کا کہنا تھاکہ چونکہ انہوں نے الطاف حسین کے خلاف لندن میں مقدمہ دائر کرنے کو کہا ہے، اس لیے ان پر پابندی لگائی جارہی ہے

تحریک انصاف کے ترجمان نے بتایا کہ اس موقع پر انہیں حکومت سندھ اورحکومت پنجاب کی جانب سے مذکورہ پابندی کے دو تحریری نوٹس فراہم کیے گئے۔ یہ دونوں نوٹس امن وامان کے آرڈیننس کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

عمران خان اتوار کو کراچی میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرنا چاہتے تھے اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ بارہ مئی کو ہلاک ہونے والے اپنے پارٹی کارکنوں کے گھروں میں جاکر تعزیت کریں گے۔ انہیں حیدرآباد میں سندھ قوم پرست جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی شرکت کرنا تھی لیکن پابندی کے بعد بظاہر یہ شرکت بھی ممکن نظر نہیں آرہی۔

کراچی میں دو روز قبل ہی ان کے خلاف وال چاکنگ کی گئی تھی جس میں ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ عمران خان نے اس کے بعد ہی کراچی آنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کراچی جاکر دو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ کراچی پر پورے پاکستان کا حق ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ایم کیو ایم کے حربوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر دورہ کراچی کےدوران انہیں نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری صدر مشرف اور الطاف حسین پر عائد ہوگی۔

تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ ان دونوں پابندیوں کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کریں گے۔

عمران خان ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف لندن میں عدالتی چارہ جوئی اور انہیں برطانیہ سے بدر کروانے کی کوششوں کے سلسلے میں دو جون کو لندن جا رہے ہیں۔

لاہور میں لگائی جانے والی پابندی تین روز کی ہے اور اگر اس پابندی میں توسیع نہ ہوئی تو توقع ہے کہ وہ اپنے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق دوجون کو لندن پہنچ جائیں گے جہاں انہوں نے تین جون کو اپنی پارٹی کےایک جلسے سے خطاب کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد