حکومتی درخواست کی سماعت ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے وکلاء سمینار میں ’قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق حکومتی درخواست کی سماعت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں اس کی توجہ سپریم کورٹ میں ہونے والے سیمینار میں وکلاء کے نمائندوں کی طرف سے ہونے والی تقاریر کی طرف دلائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ آفس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو حکومت کی درخواست قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے دو رکنی بینچ کے سامنے رکھی جائے گی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے’ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے ایک سیمینار سپریم کورٹ میں منعقد کیا گیا تھا جس میں بعض وکلاء کی جانب سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر کی گئی تھیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ عدالت نے دو شرائط کی بنیاد پر سیمینار کے انعقاد کی اجازت دی تھی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور دوسری یہ کہ کسی کی کردار کشی نہ کی جائے۔ لیکن بقول حکومت دونوں شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہوئی جوکہ عدالت کے تقدس کی پامالی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس سیمینار سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے بھی خطاب کیا تھا اور اس سیمینار کے دوران وکلاء کی جانب سے’یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ اور ’ کھال اتارو، ملک سنوارو‘ جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’عدالت کا تقدس پامال ہوا ہے‘29 May, 2007 | پاکستان وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل26 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||