BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت کا تقدس پامال ہوا ہے‘

سپریم کورٹ
’ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے سیمینار سپریم کورٹ میں منعقد ہوا تھا
حکومت نے سپریم کورٹ میں گزشتہ سنیچر ایک سیمینار میں حکومت مخالف سیاسی نعرہ بازی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر اٹھاتے ہوئے عدالت عظمی کو ایک خط لکھا ہے جس میں اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ بات وزارت داخلہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران بتائی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے’ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے ایک سمینار سپریم کورٹ میں منعقد کیا تھا، جس میں بعض وکلاء کی جانب سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر ہوئی تھیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا ہے جس میں عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی ہے۔ وزارت داخلہ نے یہ خط سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو ارسال کیا ہے جس میں قائم مقام چیف جسٹس سے اس خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ عدالت اس معاملے پر غور ضرور کرے گی۔

سییمینار
حکومت کے مطابق سیمینار میں وکلاء نے حکومت مخالف نعرے لگائے تھے
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے دو شرائط کی بنیاد پر سیمنار کے انعقاد کی اجازت دی تھی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور دوسری یہ کہ کسی کی کردار کشی نہ کی جائے۔ لیکن بقول ان کے دونوں شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہوئی جوکہ عدالت کے تقدس کی پامالی ہے۔

انہوں نے اس سمینار میں سیاسی تقاریر کی مذمت کرتے ہوئے عدالت سے کارروائی کی استدعا کی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ عدالت کی جانب سے کارروائی نہ کرنے کی صورت میں حکومت مزید کن آپشنز پر غور کر رہی ہے، جاوید اقبال چیمہ نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا۔

سمینار میں بعض وکلاء نے اپنی تقاریر اور نعروں میں صدر اور فوج کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سمینار کے اگلے روز حکومت کے دو وزراء اور ایک وکیل نے، بقول ان کے، سپریم کورٹ کی عمارت کے تقدس کی پامالی اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر احتجاج کرتے ہوئے عدالت سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

لیکن دو روز تک بظاہر کسی ردعمل کے سامنے نہ آنے پر اب حکومت نے یہ خط لکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد