BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 07:04 GMT 12:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیف جسٹس کا حلف، بار کا بائیکاٹ

جسٹس جاوید اقبال
سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال سے حلف لیا
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی پیر کو بیرون ملک روانگی کے بعد جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان اور حکومت کے حامی وکلاء نے شرکت کی جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تقریب کا بائیکاٹ کیا۔

اٹارنی جنرل مخدوم علی خان اور سینئر حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزادہ بھی تقریب میں موجود نہیں تھے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال سے حلف لیا۔

قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس جاوید اقبال نے ان کے حلف پر وکلاء برادری اور سپریم کورٹ بار کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے بارے میں کہا کہ سپریم کورٹ کو زندہ اور فعال رکھنے کے لیے ان کے پاس حلف اٹھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

سپریم کورٹ بار کا مؤقف ہے کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں کسی اور جج کو قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے پر فائز نہیں کیا جا سکتا اور اسی اعتراض کی بنا پر انہوں نے پیر کو جسٹس جاوید اقبال کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی۔

جسٹس جاوید اقبال نے بار کی طرف سے حلف برداری کی تقریب کے بائیکاٹ پر کہا کہ سپریم کورٹ بار اپنے فیصلہ کرنے کے بارے میں آزاد ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے اس بارے میں مزید بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے اور وہ اس پر مزید بات چیت نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ کے ججوں پر دباؤ کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ججوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کو عدالت سے باہر رونما ہونے والے واقعات سے زیادہ سرو کار نہیں ہوتا وہ تو ان حقائق پر فیصلہ کرتے ہیں جو ان کے سامنے عدالت میں پیش کیئے جاتے ہیں۔

لاپتہ افراد کے بارے میں جاری مقدمے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر اس مقدمے کی سماعت کے دوران بنچ پر موجود نہیں رہ سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کئی لاپتہ افراد اس مقدمے کی بنا پر سامنے آئے ہیں اور مقدمے کی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بنچ کا حصہ ہیں اور اس کی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جبکہ ایک شخص بھی لاپتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقدمے کے ختم ہونے تک اس بنچ کا حصہ رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ خود لکھیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد