BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 March, 2007, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس بھگوان کے تقرر کے احکام

جسٹس بھگوان داس
جسٹس بھگوان داس جمعرات کو کراچی سپریم کورٹ بھی آئے
صدر پرویز مشرف نے جسٹس رانا بھگوان داس کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

وزات قانون و انصاف کے ایک اعلان کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے سینئر جج رانا بھگوان داس کو اس دن سے سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں جس دن وہ کام پر واپس آئیں گے۔

اس سے پہلے کی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس بھگوان داس سنیچر کو کراچی میں قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے اسٹنٹ رجسٹرار مقبول منگریو کے مطابق حلف برداری کی تقریب ساڑھے دس بجے منعقد ہوگی اور موجودہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال جسٹس بھگوان داس سے حلف لیں گے۔

جسٹس بھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھانے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی شامل ہو جائیں گے۔

جسٹس بھگوان داس جمعرات کو کراچی سپریم کورٹ بھی آئے جہاں انہوں نے اپنے چیمبر میں سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل انور منصور خان سمیت سینئر وکلا سے ملاقات کی۔ تاہم اس موقع پر بھی جسٹس بھگوان داس نے حالات پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

جسٹس بھگوان داس بدھ کی شام دلی سے کراچی پہنچے تھےاور انہوں نے کہا تھا کہ جب صدارتی حکم نامہ جاری ہوگا تو وہ حلف اٹھانے جائیں گے۔

جسٹس بھگوان داس چار مارچ سے بیس دن کی چٹھی پر تھے اور اس دوران وہ مذہبی اجتماع میں شرکت کے لیے بھارت کے شہر لکھنؤگئے تھے۔ اس دوران پاکستان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال بنایا گیا اور ان کی غیر موجودگی میں جسٹس جاوید اقبال کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جسٹس افتخار محمد چودھری نے کراچی میں جمعہ کو منعقد ہونے والی سپریم کورٹ کے یوم تاسیس کی اختتامی تقریب میں شریک ہونے سے معذرت کی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ابرار الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس افتخار محمد نے یہ کہہ کر تقریب میں شریک ہونے سے معذرت کی کہ موجودہ حالات میں وہ تئیس مارچ کو نہیں آ سکتے اور تین اپریل کے بعد وہ کوئی تاریخ دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس افتخار محمد کے نہ آنے کی وجہ سے یوم تاسیس کی تقریب کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد