BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘
جسٹس افتخار کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتوں سے جاری ہے
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ کے سامنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر منگل کو سماعت کےدوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جب خلفیہ دوئم حضرت عمر سے سوال پوچھا جا سکتا ہے تو صدر جنرل پرویز مشرف عدالت میں کیوں پیش نہیں ہو سکتے۔

چیف جسٹس کی آئینی درخواست پر سماعت کےدوران منگل کو بحث اسی نکتے پر مرکوز رہی کہ کیا صدر کو اس مقدمے میں فریق بنایا جاسکتا ہے یا نہیں۔

مقدمے کی کارروائی کے آغاز ہی پر بنچ کےسربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے حکومتی وکلاء اور خاص طور پر سید شریف الدین پیرزادہ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے اس نکتے پر اصرار کرتے ہیں صدر کو اس مقدمے میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے جواباً کہا کہ صدر مشرف کو اس مقدمے میں کسی طور فریق نہیں بنایا جاسکتا اور وہ اپنی اس استدعا پر اصرار بھی کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت
 اگر خلیفہ دوئم حضرت عمر سے ان کی عبا کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے تو پھر صدر مشرف کو اس مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔
اعتزاز احسن

شریف الدین پیرزادہ نے ایک مرتبہ پھر آئینی کی شق 248 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر اپنے کس فعل کے بارے میں عدالت کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔

تاہم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کے پینل کے سربراہ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ صدر کو اس مقدمے میں فریق بنانے کی استدعا پر اصرار کرتے ہیں۔

اعتزاز احسن کے اصرار پر بنچ کے کچھ ججوں نے کہا کہ صدر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس وزیر اعظم کے کہنے پر بھیجا تھا اور اس کے علاوہ عدالت کے سامنے وفاقی حکومت جواب دینے کے لیے موجود ہے تو پھر صدر کو فریق بنانے کی کیا ضرورت ہے۔

اعتزاز احسن نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس درخواست میں بہت سارے الزامات صدر پر لگائے گئے ہیں اور ان کا جواب صرف صدر ہی دے سکتے ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم کے مشورے پر ریفرنس بھجینے والے نکتے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریفرنس صرف وزیر اعظم کے مشورے پر ہی بھیجا جاتا تو صدر کا کردار اس سارے معاملے میں ڈاک خانے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس سارے معاملے میں صدر کا کردار اس حد تک ہی محدور رہتا تو چیف جسٹس کو ایوان صدر کیمپ آفس راولپنڈی طلب نہ کیا جاتا اور ان کو ساڑھے پانچ گھنٹے تک محبوس نہ رکھا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے صدر مشرف پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب وفاقی حکومت نہیں دے سکتی اور صدر کو اس معاملے میں فریق بنایا جانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو جنرل مشرف کی طرف سے نواز شریف کی حکومت کو ختم کیئے جانے کے بعد سید ظفر علی شاہ کی طرف سے دائر کردہ مقدمے کا بھی حوالے دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں صدر جنرل مشرف کو ایک فریق بنایا گیا تھا۔

اعتزاز احسن کی اس دلیل پر ایک جج نے کہا کہ اس وقت جنرل مشرف صدر نہیں تھے اور ان کے پاس چیف ایگزیکیوٹو کا عہدہ تھا۔

جواباً اعتزاز احسن نے کہا کہ اس وقت جنرل مشرف کے پاس صدر کے علاوہ وزیر اعظم کے بھی اختیارات تھے۔

تیرہ رکنی بنچ میں شامل جج جسٹس نواز عباسی نے پوچھا کہ اگر آئینی کی اسلامی شق 2A کو صدر کے اختیارات کے بارے میں شق 248 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس کا کیا اثر پڑے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اسلامی روایات کا حوالہ دینا نہیں چاہتے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فاضل جج کی طرف سے پوچھے جانے پر وہ کہیں گے کہ اگر خلیفہ دوئم حضرت عمر سے ان کی عبا کے بارے میں سوال کیا جاسکتا ہے تو پھر صدر مشرف کو اس مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد