BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘

چیف جسٹس کہتے ہیں
News image
میرے خلاف اقدامات کی وجہ سے میرے بچے اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ سکول اور یونیورسٹی نہیں جا پا رہے ہیں۔ میری ایک بیٹی فرسٹ ائیر کے امتحانات میں شامل میں نہیں ہو سکی جبکہ دوسری بیٹی غیر حاضریوں کی وجہ اپنے سمسٹر کے امتحانات میں شامل نہیں ہو پا رہی ہے جبکہ چھوٹا بیٹا سکول نہیں جا پا رہا

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ نو مارچ کو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہ مانا تو خفیہ ایجنیسوں کے سربراہ کئی گھنٹوں تک ان کو مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ منگل کے روز سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا جس میں انہوں نے آرمی ہاؤس میں صدر جنرل مشرف سے ملاقات اور اس کے بعد پیش آنے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔

چیف جسٹس نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ نو مارچ کو ساڑھے گیارہ بجے آرمی ہاؤس پہنچے تو ان کو ایک ویٹنگ روم میں بٹھایا گیا اور پانچ منٹ بعد صدر پرویز مشرف یونیفارم پہنے کمرے میں آگئے۔ جوں ہی صدر مشرف اپنی سیٹ پر بیٹھے تو کئی ٹی وی کیمرہ مین اور فوٹو گرافر بھی کمرے میں آگئے۔

کس نے کیا کہا
 آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل، انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل، اور صدر پرویز مشرف کے چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ استعفی دے دیں
چیف جسٹس افتخار چودھری

چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مشرف نے سارک کانفرنس سے متعلق کچھ باتیں کرنے کے بعد انہیں بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ان کے بارے میں شکایت بھیجی ہے جس میں ان پر الزامات لگائے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کو بتایا کہ شکایت حقائق پر مبنی نہیں ہے اور اس مقدمے کا فیصلہ دو ججوں پر مشتمل بینچ نے کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس موقع پر صدر مشرف نے کہا کہ کچھ اور شکایت بھی ہیں اور اپنے عملے سے کہا کہ وہ اور لوگوں کو بھی بلا لیا جائے۔

’جب اور لوگ آئے تو ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی آئی ایس آئی، ڈی آئی بی، اور صدر کے چیف آف سٹاف تھے۔ ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ تمام اہلکار یونیفارم میں تھے۔‘

’معطلی‘ سے آگاہ کس نے کیا
 پانچ بجے ڈی جی ایم آئی کمرے میں آئے اور کہا کہ گاڑی لگ چکی ہے اور مجھے بطور جج اور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور مجھے مختلف راستے سے واپس اسلام آباد جانا ہو گا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری

چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مشرف نے کاعذ کے کچھ ٹکڑوں سے کچھ پڑھنا شروع کر دیا اور ان میں وہی کچھ تھا جو چند روز پہلے ایڈوکیٹ نعیم بخاری کی طرف سے جاری ہونے کی خط میں لکھا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے ان الزامات کی پرزو تردید کی اور کہا یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں نے الزامات کی تردید کی تو صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے خاندان کے لیے کاریں حاصل کر رکھی ہیں۔ ’جب میں نے تردید کی تو کہا گیا کہ آپ خود مرسیڈیز گاڑی استعمال کرتے ہیں۔‘

چیف جسٹس کے مطابق اس پر انہوں نے کہا کہ یہ سوال وزیر اعظم سے پوچھیں جنہوں نے خود مرسیڈیز کار بھیجی تھی۔ وزیر اعظم نے کوئی جواب نہ دیا۔

کمرے میں کون کون تھا
 ’جب اور لوگ آئے تو ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی آئی ایس آئی، ڈی آئی بی، اور صدر کے چیف آف سٹاف تھے۔ ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ تمام اہلکار یونیفارم میں تھے‘
چیف جسٹس افتخار چودھری

’پھر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آپ لاہور ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تجاویز پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔‘

چیف جسٹس نے کہا صدر مشرف نے انہیں کہا کہ اگر وہ مستعفی ہو جائیں تو انہیں اکوموڈیٹ کیا جائے گا۔

چیف جسٹس کے مطابق صدر مشرف نے کہا اگر انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو پھر انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے انہیں زیادہ شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔

نعیم بخاری کے خط جیسے ٹکڑے
 صدر مشرف نے کاعذ کے کچھ ٹکڑوں سے کچھ پڑھنا شروع کر دیا اور ان میں وہی کچھ تھا جو چند روز پہلے ایڈوکیٹ نعیم بخاری کی طرف سے جاری ہونے کی خط میں لکھا تھا
جسٹس افتخار

چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں نے استعفی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ بے گناہ ہیں اور ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں توصدر مشرف غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ وزیر اعظم ،صدر کے چیف آف سٹاف اور ملٹری سیکرٹری کمرے سے چلے گئے اور کہا یہ لوگ آپ کو شواہد دکھائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی ایم آئی، ڈی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی کمرے میں موجود رہے لیکن کسی نے کوئی شہادت نہیں دکھائی اور صرف یہ کہا کہ انہوں نے بطور جج اپنے بیٹے کو بولان میڈیکل کالج میں داخلہ دلوایا۔

اکوموڈیٹ کیا جائے گا
 صدر مشرف نے کہا کہ اگر میں مستعفی ہو جاؤں تو مجھے اکوموڈیٹ کیا جائے گا
چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو کئی گھنٹوں تک انہیں اسی کمرے میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب خفیہ ادراوں کے سربراہ کمرے سے چلے جاتے تھے تو تو وہ کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتے لیکن ہر بار انہیں فوجی افسر روک لیتے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ آرمی ہاؤس سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ہر دفعہ ان سے کہا جاتا تھا کہ انتظار کریں۔’جب انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے سٹاف سے ملنے دیا جائے تو کہا گیا کہ ملاقات نہیں ہو سکتی۔‘

نہیں تو ریفرنس کا سامنا ہوگا
 صدر مشرف نے کہا اگر میں نے استعفیٰ نہ دیا تو پھر مجھے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے مجھے زیادہ شرمندگی اٹھانا پڑے گی
جسٹس افتخار چودھری

چیف جسٹس نے کہا پانچ بجے ڈی جی ایم آئی کمرے میں آئے اور کہا کہ گاڑی لگ چکی ہے اور ’مجھے بطور جج اور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور مجھے مختلف راستے سے واپس اسلام آباد جانا ہو گا۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں کار دیکھی تو اس پر سے جھنڈا اتر چکا تھا اور اس دوران ان کے سٹاف نے بتایا کہ جسٹس جاوید اقبال نے بطور قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لے لیا ہے۔

انکار پر جنرل مشرف کا غصہ
 جب میں نے استعفی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں بے گناہ ہوں اور ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں توصدر مشرف غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے
چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں ان کے ڈرائیور نے بتایا کہ اسے ہدایت دی گئی ہے کہ واپس جاتے ہوئے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کی عمارت میں لے کر نہ جائے اور سیدھا رہائش گاہ پر جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ راولپنڈی سے واپس آتے ہوئے جب انہوں نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف جائے تو ایک آرمی افسرنےاسلام آباد سپورٹس کمپلکس کے پاس ان کی گاڑی کو روک لیا ۔ اس دوران اسلام آباد پولیس کے ایس پی طارق مسعود یاسین نے ان کے ڈرائیور اور گن مین سے کہا کہ وہ گاڑی سے باہر نکل آئیں کیونکہ وہ خود گاڑی چلائیں گے۔

چیف جسٹس نے اپنے بیانِ حلفی میں کہا ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ سپریم کورٹ نہیں جائیں گے تو تب ان کے ڈرائیور اور گن مین کو واپس گاڑی میں آنے دیا گیا۔

کیمپ آف سے نکلنے کی ناکام کوشش
 جب خفیہ ادراوں کے سربراہ کمرے سے چلے جاتے تھے تو میں کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتا لیکن ہر بار فوجی افسر روک لیتے تھے
چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ جب وہ پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھرواپس پہنچے تو ان کے گھر میں ہر طرف بغیر یونیفارم کے اہلکار موجود تھے، ٹیلی فون لائن اور ٹی وی کیبلز کاٹ دی گئی تھیں اور ڈی ایس ایل کو جیم کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا کئی روز تک بیرونی دنیا سے رابطہ منطقع رہا۔

نو مارچ کی رات نو بجے ان کے زیرِ استعمال مرسیڈیز کار کو لفٹر کے ذریعے اٹھا لیا گیا اور اسی رات ایک اور کار گھر میں کھڑی کر دی گئی لیکن اس کی چابیاں ان کے حوالے نہیں کی گئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دس مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے انہیں ایک نوٹس ملا جس میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔ اس نوٹس کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کا ایک حکم بھی تھا جس میں کہا تھا کہ انہیں بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روکا جا چکا ہے۔

لائنز اور کیبلز کاٹ دی گئی
 جب پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھر واپس پہنچا تو میرے گھر میں ہر طرف بغیر یونیفارم پہنے ہوئے اہلکار موجود تھے، ٹیلی فون لائن اور ٹی وی کیبلز کاٹ دی گئی تھیں اور ڈی ایس ایل کو جیم کیا جا چکا تھا
جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں ان کے خاندان کے ہمراہ نو سے تیرہ مارچ تک حراست میں رکھا اور جب تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلے تو گھر کے باہر پولیس اہلکاروں نے ان کو روکا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ جوڈیشل انکوائری میں آ چکا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے تیرہ مارچ کو اس لیے پیدل جانے کی کوشش کی کیونکہ ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے عملے کو غائب کر دیا گیا۔نہ صرف سپریم کورٹ میں کام کرنے والے عملے کو غائب کیا بلکہ گھر پر کام کرنے والے لوگوں کو دو تین روز تک خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سوالات کا سامنا رہا اور گھر کے لیے سامان لانے والے شخص کے ساتھ خفیہ اہلکار مارکیٹ تک جاتے تھے۔

میرے ساتھ ناروا سلوک ہوا
 مجھے میرے خاندان کے ہمراہ نو سے تیرہ مارچ تک حراست میں رکھا گیا اور جب میں تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلا تو گھر کے باہر پولیس اہلکاروں نے مجھے روکا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی
چیف جسٹس افتخار چودھری

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے چیمبر کو سر بمہر کر دیا گیا اور نئے مقرر ہونے والے رجسٹرار کی موجودگی میں کچھ فائلیں آئی ایس آئی کے حوالے کر دی گئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے گھر پر پولیس کی تعیناتی کے بعد کسی شخص کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے موجودہ اور ریٹائرڈ ججوں کو بھی ان سے نہیں ملنے دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تیرہ مارچ کو جب وہ اپنے وکلاء سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو پھر ان پر استعفے کے لیے دباؤ کم کر دیا گیا۔

میرے عملے کو غائب کردیا گیا
 سپریم کورٹ میں میرے ساتھ کام کرنے والے عملے کو غائب کر دیا گیا۔نہ صرف سپریم کورٹ میں کام کرنے والے عملے کو غائب کیا بلکہ گھر پر کام کرنے والے لوگوں کو دو تین روز تک خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سوالات کا سامنا رہا اور گھر کے لیے سامان لانے والے شخص کے ساتھ خفیہ اہلکار مارکیٹ تک جاتے تھے
جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ان کے گھر میں خفیہ آلات نصب کیے جا چکے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے سامنے سندھ ہاؤس میں بیٹھے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ان سے ملاقات کے لیے آنے والوں ہر شخص پر نظر رکھتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے خلاف ان اقدامات کی وجہ سے ان کے بچے اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ سکول اور یونیورسٹی میں نہیں جا پا رہے ہیں۔ ’میرے خلاف کارروائی کی وجہ سے میری ایک بیٹی فرسٹ ائیر کے امتحانات میں شامل میں نہیں ہو سکی جبکہ دوسری بیٹی غیر حاضریوں کی وجہ اپنے سمسٹر کے امتحانات میں شامل نہیں ہو پا رہی ہے جبکہ چھوٹا بیٹا سکول نہیں جا پا رہا ہے۔‘

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی بینچ کو اپنے دلائل کے آخر میں عدالت کو بتایا کہ انہوں نے چیف جسٹس کا بیان حلفی عدالت میں داخل کیا ہے تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد