’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ نو مارچ کو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہ مانا تو خفیہ ایجنیسوں کے سربراہ کئی گھنٹوں تک ان کو مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ منگل کے روز سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا جس میں انہوں نے آرمی ہاؤس میں صدر جنرل مشرف سے ملاقات اور اس کے بعد پیش آنے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ چیف جسٹس نے عدالت کو بتایا کہ جب وہ نو مارچ کو ساڑھے گیارہ بجے آرمی ہاؤس پہنچے تو ان کو ایک ویٹنگ روم میں بٹھایا گیا اور پانچ منٹ بعد صدر پرویز مشرف یونیفارم پہنے کمرے میں آگئے۔ جوں ہی صدر مشرف اپنی سیٹ پر بیٹھے تو کئی ٹی وی کیمرہ مین اور فوٹو گرافر بھی کمرے میں آگئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مشرف نے سارک کانفرنس سے متعلق کچھ باتیں کرنے کے بعد انہیں بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ان کے بارے میں شکایت بھیجی ہے جس میں ان پر الزامات لگائے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کو بتایا کہ شکایت حقائق پر مبنی نہیں ہے اور اس مقدمے کا فیصلہ دو ججوں پر مشتمل بینچ نے کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس موقع پر صدر مشرف نے کہا کہ کچھ اور شکایت بھی ہیں اور اپنے عملے سے کہا کہ وہ اور لوگوں کو بھی بلا لیا جائے۔ ’جب اور لوگ آئے تو ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی آئی ایس آئی، ڈی آئی بی، اور صدر کے چیف آف سٹاف تھے۔ ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ تمام اہلکار یونیفارم میں تھے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ صدر مشرف نے کاعذ کے کچھ ٹکڑوں سے کچھ پڑھنا شروع کر دیا اور ان میں وہی کچھ تھا جو چند روز پہلے ایڈوکیٹ نعیم بخاری کی طرف سے جاری ہونے کی خط میں لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے ان الزامات کی پرزو تردید کی اور کہا یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت انہیں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں نے الزامات کی تردید کی تو صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے خاندان کے لیے کاریں حاصل کر رکھی ہیں۔ ’جب میں نے تردید کی تو کہا گیا کہ آپ خود مرسیڈیز گاڑی استعمال کرتے ہیں۔‘ چیف جسٹس کے مطابق اس پر انہوں نے کہا کہ یہ سوال وزیر اعظم سے پوچھیں جنہوں نے خود مرسیڈیز کار بھیجی تھی۔ وزیر اعظم نے کوئی جواب نہ دیا۔
’پھر صدر پرویز مشرف نے کہا کہ آپ لاہور ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تجاویز پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔‘ چیف جسٹس نے کہا صدر مشرف نے انہیں کہا کہ اگر وہ مستعفی ہو جائیں تو انہیں اکوموڈیٹ کیا جائے گا۔ چیف جسٹس کے مطابق صدر مشرف نے کہا اگر انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو پھر انہیں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے انہیں زیادہ شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں نے استعفی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ بے گناہ ہیں اور ریفرنس کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں توصدر مشرف غصے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ وزیر اعظم ،صدر کے چیف آف سٹاف اور ملٹری سیکرٹری کمرے سے چلے گئے اور کہا یہ لوگ آپ کو شواہد دکھائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی ایم آئی، ڈی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی کمرے میں موجود رہے لیکن کسی نے کوئی شہادت نہیں دکھائی اور صرف یہ کہا کہ انہوں نے بطور جج اپنے بیٹے کو بولان میڈیکل کالج میں داخلہ دلوایا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو کئی گھنٹوں تک انہیں اسی کمرے میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب خفیہ ادراوں کے سربراہ کمرے سے چلے جاتے تھے تو تو وہ کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتے لیکن ہر بار انہیں فوجی افسر روک لیتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے کئی دفعہ آرمی ہاؤس سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ہر دفعہ ان سے کہا جاتا تھا کہ انتظار کریں۔’جب انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے سٹاف سے ملنے دیا جائے تو کہا گیا کہ ملاقات نہیں ہو سکتی۔‘
چیف جسٹس نے کہا پانچ بجے ڈی جی ایم آئی کمرے میں آئے اور کہا کہ گاڑی لگ چکی ہے اور ’مجھے بطور جج اور چیف جسٹس کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور مجھے مختلف راستے سے واپس اسلام آباد جانا ہو گا۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ جب انہوں کار دیکھی تو اس پر سے جھنڈا اتر چکا تھا اور اس دوران ان کے سٹاف نے بتایا کہ جسٹس جاوید اقبال نے بطور قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لے لیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں ان کے ڈرائیور نے بتایا کہ اسے ہدایت دی گئی ہے کہ واپس جاتے ہوئے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ کی عمارت میں لے کر نہ جائے اور سیدھا رہائش گاہ پر جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ راولپنڈی سے واپس آتے ہوئے جب انہوں نے اپنے ڈرائیور سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف جائے تو ایک آرمی افسرنےاسلام آباد سپورٹس کمپلکس کے پاس ان کی گاڑی کو روک لیا ۔ اس دوران اسلام آباد پولیس کے ایس پی طارق مسعود یاسین نے ان کے ڈرائیور اور گن مین سے کہا کہ وہ گاڑی سے باہر نکل آئیں کیونکہ وہ خود گاڑی چلائیں گے۔ چیف جسٹس نے اپنے بیانِ حلفی میں کہا ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ سپریم کورٹ نہیں جائیں گے تو تب ان کے ڈرائیور اور گن مین کو واپس گاڑی میں آنے دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب وہ پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھرواپس پہنچے تو ان کے گھر میں ہر طرف بغیر یونیفارم کے اہلکار موجود تھے، ٹیلی فون لائن اور ٹی وی کیبلز کاٹ دی گئی تھیں اور ڈی ایس ایل کو جیم کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا کئی روز تک بیرونی دنیا سے رابطہ منطقع رہا۔ نو مارچ کی رات نو بجے ان کے زیرِ استعمال مرسیڈیز کار کو لفٹر کے ذریعے اٹھا لیا گیا اور اسی رات ایک اور کار گھر میں کھڑی کر دی گئی لیکن اس کی چابیاں ان کے حوالے نہیں کی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دس مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے انہیں ایک نوٹس ملا جس میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔ اس نوٹس کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کا ایک حکم بھی تھا جس میں کہا تھا کہ انہیں بطور چیف جسٹس کام کرنے سے روکا جا چکا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں ان کے خاندان کے ہمراہ نو سے تیرہ مارچ تک حراست میں رکھا اور جب تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے گھر سے نکلے تو گھر کے باہر پولیس اہلکاروں نے ان کو روکا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ جوڈیشل انکوائری میں آ چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے تیرہ مارچ کو اس لیے پیدل جانے کی کوشش کی کیونکہ ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے عملے کو غائب کر دیا گیا۔نہ صرف سپریم کورٹ میں کام کرنے والے عملے کو غائب کیا بلکہ گھر پر کام کرنے والے لوگوں کو دو تین روز تک خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے سوالات کا سامنا رہا اور گھر کے لیے سامان لانے والے شخص کے ساتھ خفیہ اہلکار مارکیٹ تک جاتے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے چیمبر کو سر بمہر کر دیا گیا اور نئے مقرر ہونے والے رجسٹرار کی موجودگی میں کچھ فائلیں آئی ایس آئی کے حوالے کر دی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے گھر پر پولیس کی تعیناتی کے بعد کسی شخص کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے موجودہ اور ریٹائرڈ ججوں کو بھی ان سے نہیں ملنے دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تیرہ مارچ کو جب وہ اپنے وکلاء سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوئے تو پھر ان پر استعفے کے لیے دباؤ کم کر دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو یقین ہے کہ ان کے گھر میں خفیہ آلات نصب کیے جا چکے ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے سامنے سندھ ہاؤس میں بیٹھے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ان سے ملاقات کے لیے آنے والوں ہر شخص پر نظر رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے خلاف ان اقدامات کی وجہ سے ان کے بچے اتنے خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ وہ سکول اور یونیورسٹی میں نہیں جا پا رہے ہیں۔ ’میرے خلاف کارروائی کی وجہ سے میری ایک بیٹی فرسٹ ائیر کے امتحانات میں شامل میں نہیں ہو سکی جبکہ دوسری بیٹی غیر حاضریوں کی وجہ اپنے سمسٹر کے امتحانات میں شامل نہیں ہو پا رہی ہے جبکہ چھوٹا بیٹا سکول نہیں جا پا رہا ہے۔‘ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی بینچ کو اپنے دلائل کے آخر میں عدالت کو بتایا کہ انہوں نے چیف جسٹس کا بیان حلفی عدالت میں داخل کیا ہے تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ |
اسی بارے میں ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘28 May, 2007 | پاکستان نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ28 May, 2007 | پاکستان کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز27 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||