BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 May, 2007, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ

جسٹس افتخار محمد چودھری
سپریم کورٹ کے سامنے جسٹس افتخار کی درخواست کے ساتھ کئی اور درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ عدالت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کا فیصلہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیا جائے گا۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ اگر عدالت نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ان کے فیصلے کے نتائج کیا ہوں اور انتظامیہ اس کو مانے گی یا نہیں تو پھر وہ ایسے ہی فیصلے کرے گی جیسا کہ جسٹس محمد منیر نے پہلی قانون ساز اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کیا تھا۔

چند روز پہلے جسٹس خلیل الرحمن نے کہا تھا کہ پہلی آئین ساز اسمبلی کی تحلیل سے متعلق جسٹس محمد منیر کا فیصلہ عدلیہ کے لیے طعنہ بن چکا ہے۔

سماعت کے اختتام پر تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے چیف جسٹس کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کےدائرہ سے متعلق اپنے دلائل ختم کر کے آئینی درخواست میں اٹھائے گئے اصلی نکات پردلائل شروع کریں۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے جب اپنے دائیں اور بائیں طرف بیٹھے ججوں سے مشورہ کیا تو پھر انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور کہا کہ عدالت نے چونکہ عدالتی دائرہ کار سے متعلق مفصل دلائل سنے ہیں اور وہ باہمی مشورے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونےیا نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔

پیر کے روز جب عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اعتزاز احسن نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اپنے دلائل جاری رکھے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے جب 1988 کی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے متعلق مقدمے کا حوالہ دیا تو جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ چیف جسٹس کی درخواست کا اس سے تعلق نہیں بنتا ہے۔

جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ عدالت نے اسمبلی کی تحلیل سے متعلق حاجی سیف اللہ کی درخواست کو اس لیے سننے کے لیے قبول کیا تھا کیونکہ اسمبلی کی تحلیل کا حتمی حکم جاری ہو چکا تھا جبکہ موجودہ مقدے میں چیف جسٹس کے خلاف ابھی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔

 اگر عدالت نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ان کے فیصلے کے نتائج کیا ہوں اور انتظامیہ اس کو مانے گی یا نہیں تو پھر وہ ایسے ہی فیصلے کرے گی جیسے کہ جسٹس محمد منیر نے پہلی قانون ساز اسمبلی کے بارے میں فیصلہ کیا تھا۔
اعتزاز احسن

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے اس لیے آئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس پر کارروائی کی مجاز نہیں اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو کرنا چاہیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل اس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ چیف جسٹس پر بدعملی کا الزام غلط ہے تو وہ الزام لگانے والے کے بارے کوئی رائے دینے کی مجاز نہیں ہے جبکہ سپریم کورٹ اس کی طاقت رکھتی ہے۔

جسٹس فقیر کھوکھر نے کہا کہ سپریم کورٹ صدر کی ’بدعملی‘ پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جو صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔

جب جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ شاید چیف جسٹس نے وقت سے پہلے درخواست دائر کر دی ہے تو اعتزاز احسن نے فارسی کا ایک شعر پڑھا’ تا تریاق از عراق آوردہ شود، مار گزیدہ مردہ شود‘( جب تریاق عراق سے آئے گا اس وقت تک سانپ کا ڈسا ہوا مر چکا ہو گا)۔

جسٹس فقیر کھوکھر نے کہا ہے کہ ریفرنس بھیجنے سے متعلق ’بدنیتی‘ کے الزام کا فیصلہ بھی صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب سپریم جوڈیشل کونسل اپنی رائے مرتب کر لے۔

 سپریم کورٹ صدر کی ’بدعملی‘ پر فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے جو صدر کا مواخذہ کر سکتی ہے۔
جسٹس فقیر محمد کھوکھر

اعتزاز احسن نے جب لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے صوبائی اسمبلی کو بحال کر دیا تھا تو بینچ کے سربراہ خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ پرویز الہی مقدمے میں عدالت نے کئی مہینوں تک دلائل سننے کے بعد جب اسمبلی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت کے گورنر نےصرف دو منٹ بعد اسے دوبارہ تحلیل کر دیا تھا اور اعتزاز احسن اسمبلی کو تحلیل کرنے والوں کے وکیل تھے۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ جنہوں نے اسمبلی کو دو منٹوں میں دوبارہ تحلیل کر دیا تھا وہ حکومتی وکیل جسٹس (ریٹائرڈ) ملک عبد القیوم کے دوست تھے۔ گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین لاہور ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس اور سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبر جسٹس افتخار حسین چودھری کے بھائی تھے۔

اعتزاز احسن نےسپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کی آئینی درخواست پر قومی اسمبلی کو بحال کر دیا تھا تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا ہوا، کیا کسی نے اس اسمبلی کو کام کرنے دیا ؟

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ اعتزاز احسن صرف ججوں کو چھٹیاں اور نیندیں خراب کر رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سارے ملک میں کوئی بھی سکون کی نیند نہیں سو رہا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے اسمبلی بحال ہونے کے بعد وزیراعظم اسمبلی کو دوبارہ توڑنے کی سفارش کر دی تو عدالت کو اس سے پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس نے نہ تو پہلے استعفی دیا ہے اور اگر بحال کر دیا گیا تو پھر بھی استعفی نہیں دیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس بات پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ان کا فیصلہ مانا جائے گا یا نہیں کیونکہ پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور عدالت کو فخر کرنا چاہیے کہ چیف جسٹس نے دباؤ کے باوجود استعفی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وکیل یقین رکھیں کہ عدالت اس مقدمے کا فیصلہ ضرور کرے گی لیکن ساتھ ایک واقعہ بھی سنایا جس کا لب لباب یہ تھا کہ آپ تو ہمیں طاقت ور ہونے کا کہہ کر فیصلہ اپنے حق کروانے کی کوشش کر رہے ہو لیکن اس کے نتائج تو ہمیں ہی بھگتنا پڑیں گے۔

اعتزاز احسن نے انڈین سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے پارلیمنٹ کے ممبران کو بھی مقدمات کا سامنا کرنے کا حکم دیا حالانکہ وہ عدالتی کارروائی سے مستثنیٰ تھے۔

جسٹس فقیر کھوکھر نے کہا کہ انڈین سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں پاکستان کی سپریم کورٹ سے بہت ہی آگے ہیں تو چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ انڈین سپریم کورٹ اس لیے آگے ہے کہ وہاں فوج نے چار دفعہ اقتدار پر قبضہ کر کے مارشل لا نافذ نہیں کیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ دنیا میں فوجیں مارشل لاء صرف مفتوحہ علاقوں پر ہی نافذ کرتی ہیں لیکن پاکستان میں چار دفعہ اپنے ہی ملک میں مارشل لاء لگایا جا چکا ہے۔

اعتزاز احسن نے جب آئین کے آرٹیکل 248 سے متعلق اپنے دلائل شروع کیے تو جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ جب وفاق پاکستان مقدمے کا ایک فریق ہے تو صدر کو فریق بنانےکی کیا ضرورت ہے ۔ آرٹیکل 248 کے تحت صدر اپنے فرائض کی انجام دہی میں عدالت کو جوابدہ نہیں ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر کا مقدمے کا فریق رہنا اس لیے ضرروی ہے کہ ان کے موکل نے صدر کے خلاف ’بغض‘ کا الزام عائد کیا ہے اور وفاقی حکومت صدر جنرل مشرف کے بغض کا جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ وہ منگل کے روز اپنے عدالتی دائرہ کار سے متعلق اپنے دلائل ختم کر لیں گے جس کے بعد فخرالدین جی ابراہیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دلائل شروع کریں گے۔

مقدمے کی کارروائی منگل کو بھی جاری رہے گی۔

لال مسجداسلام آباد ڈائری
عدالتی بحران، لال مسجد، تاش کا کھیل اورخفیہ ہاتھ
جواد ایس خواجہپاکستان اور عدلیہ
’عدلیہ کی آزادی کےلئے نیت صحیح ہو‘۔
بے نظیرسیاست جمی رہی
بے نظیر کی ڈیل، جسٹس کا جلوس،مشرف کاجلسہ
جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
اسی بارے میں
فل کورٹ میں سماعت آج سے
14 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد