’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس کے دورۂ کراچی کے موقع پر ججز اور وکلاء سے ناروا سلوک کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے فل بنچ نے کہا ہے کہ بارہ مئی کو جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے اور عدالت تمام واقعات کی تہہ میں جا کر جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعات کیسے رونما ہوئے۔ سندھ ہائی کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد سندھ حکومت نے بھی ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور عملے سے پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد کی جانب سے بارہ مئی کے واقعات کا از خود نوٹس لینے کے بعد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے آج اس مقدمے کی پہلی سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عزیز اللہ میمن، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس علی سائین ڈنو میتلو شامل ہیں۔ سماعت کے موقع پر عدالت میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے علاوہ ڈپٹی اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ پولیس، سی سی پی او اور ٹی پی او صدر پیش ہوئے۔ اس موقع پر وکلاء کی ایک بڑی تعداد کمرۂ عدالت کے اندر اور باہر موجود تھی۔ فل بنچ نے کہا کہ آئندہ سماعت کے موقع پر تمام افسران کو پیش ہونے کی ضرورت نہیں اور جسے طلب کیا جائے وہ حاضر ہو۔ وکلاء کی شکایت پر عدالت نے ہدایت کہ بارہ مئی کو جو وکلاء متاثر ہوئے ہیں وہ اپنی بار ایسوسی ایشن کے صدور کو حلف نامے فراہم کریں جو وہ عدالت میں پیش کریں گے ۔ عدالت نے بتایا کہ انہیں یہ درخواست موصول ہوئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر افسران سے نازیبا رویہ اختیار کیا گیا ہے اور غلط قسم کی نعرہ بازی کی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری منیب الرحمان شیخ نے عدالت کو بتایا کہ بار نے اپنے تمام ممبران کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے اور وہ آج افسران کو گیٹ سے خود لے کر آئے ہیں تاکہ انہیں باحفاظت عدالت تک پہنچایا جائے۔ عدالت نے قانونی اور آئینی ماہریں خالد انور اور قاضی فیض عیسٰی کو معاونت کے لیے مقرر کرتے ہوئے سماعت یکم جون کی صبح تک ملتوی کر دی۔ ادھر سندھ حکومت نے بھی ہائی کورٹ کے جج صاحبان اور عملے سے پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صوبائی محکمۂ داخلہ کے سیکرٹری غلام محمد محترم نے پیر کو تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی بچل سانگری کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں دو ایس پی شامل بھی شامل ہیں۔ ٹیم کو دس روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سندھ حکومت نے اب تک کراچی کی سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے اور صوبائی حکومت واضح طور پر اس واقعے کی تحقیقات نہ کرانے کا اعلان کر چکی ہے۔یاد رہے کہ بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ بار کی تقریب میں شرکت کے لیے کراچی آئے تھے اور اس روز شہر میں ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی میں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان ’تسلی نہیں تو بات چیت بھی نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ21 May, 2007 | پاکستان کراچی ہڑتال ملتوی کر دی گئی23 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان ’سڑکوں پر خون بہہ رہا ہے اور ۔۔۔‘25 May, 2007 | پاکستان ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس 26 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||