BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 May, 2007, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بندوق بردار کو کیسے ہٹایا جائے‘

فخرالدین جی ابراہیم کے دلائل
News image
ریفرنڈم کسی شخص کو ملک کا صدر بنانے کا طریقۂ کار نہیں ہے بلکہ کسی اہم معاملے پر عوام کی رائے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ صدر کے انتخاب کے لیے آئین میں ایک واضح اصول موجود ہے جس کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوان اور صوبائی اسمبلیاں صدر کو منتخب کرتی ہیں۔
’جب صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت پر اعتراض اٹھایا جائے تو جواباً کہا جاتا ہے کہ جسے شوق ہو وہ انہیں عدم اعتماد کے ذریعے کرسیِ صدارت سے ہٹا دے۔ لیکن ایک ایسے شخص کو منصبِ صدارت سے کیسے ہٹایا جا سکتا ہے جو بندوق لے کر بیٹھا ہو‘۔یہ دلیل بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے سابق وزیرِ قانون اور سابق سینئر جج فخرالدین جی ابراہم نے سپریم کورٹ کے اس تیرہ رکنی بینچ کے سامنے پیش کی جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے عدالت کے دائرہ اختیار پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ پچھلے گیارہ روز سے چیف جسٹس کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل سن رہا ہے۔

فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ آئین صدر کو عدالتی کارروائی سے مسثتنٰی رکھتا ہے اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں انہیں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

فخرالدین نے کہا کہ مقدموں میں فریق نہ بنائے جانے کی سہولت صرف اس صدر کو حاصل ہے جو آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق صدر منتخب ہوا ہو نہ کہ جنرل پرویز مشرف کو جو ایک ریفرنڈم کے نتیجے کے زور پر اپنے آپ کو صدر کہنے پر بضد ہیں۔

فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ جب اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تو معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پہنچ گیا اور سپریم کورٹ نے ظفر علی شاہ کے نام سے جانے والے مقدمے میں نظریۂ ضرورت کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں اقتدار کے لیے تین سال دینے کے علاوہ قانونی سازی کی محدود اجازت بھی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل مشرف صرف ایسی قانون سازی کر سکتے تھے جو عبوری دور میں حکومت چلانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہو لیکن جنرل مشرف نے سپریم کورٹ کے دیے گئے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے 2002 میں ایک ریفرنڈم آرڈر جاری کر دیا اور کہا کہ اگر عوام مقامی حکومتوں کے سسٹم، جمہوریت کی بحالی اور ملک سے فرقہ واریت اور شدت پسندی کا خاتمہ چاہتے ہیں، تو انہیں صدر منتخب کر لیا جائے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ آئین میں ریفرنڈم اہم ملکی امور پر عوام کی رائے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور یہ ہرگز صدارتی انتخاب کے طریقۂ کار کا نعم البدل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر کا انتخاب قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور سینیٹ کرتی ہیں۔

فخرالدین نے کہا کہ جب جنرل مشرف نے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا تو کچھ لوگوں نے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ درخواستیں وقت سے پہلے دائر کر دی گئیں اور عدالتیں مفروضوں پر فیصلے نہیں کیا کرتیں لیکن اسی مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں ریفرنڈم کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا گیا کہ کسی معاملے پر عوام سے رجوع کرنے کو غیر جمہوری عمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔

انہوں نے آٹھویں ترمیم سے متعلق محمود خان اچکزئی کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا عدالت نے یہ قرار دیا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ بھی وفاقی نظام حکومت، پارلیمانی نظام، اسلامی دفعات اور عدلیہ کی آزادی سے منافی کوئی قانونی سازی نہیں کر سکتی۔

فخرالدین نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی ’ماتحت‘ پارلیمنٹ سے اپنے اقدامات کی توثیق کروا لی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ عدالتیں صحیح فیصلے کریں اور ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ صورت ہے جس کے اختیار کرنے سے پاکستان پر ناکام ریاست جیسے الزامات لگنے بند ہوں گے۔

فخر الدین جی ابراہیم کے دلائل ختم ہونے کے بعد ایک درخواست گزار فخر امام کے وکیل افتخار گیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے دائرہ اختیار پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے جب عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس اپنے آپ کو احتساب سے بالا تر نہیں سمجھتے اور ان کو صرف احتسابی فورم پر اعتراض ہے تو اس سے ان کی بہت پریشانی ختم ہو گئی ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وکیل حامد خان نے کہا کہ صدر کسی جج کے خلاف ریفرنس کابینہ سے منظوری کے بعد ہی بھیج سکتے ہیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہو گیا کہ کابینہ ججوں کے بارے میں فیصلے کی مجاز ہے تو پھر بھی وکلاء کو اعتراضات ہوں گے اور وکلاء کے نمائندوں کو ابھی سے سوچ لینا چاہیے کہ ججوں کی تعیناتی اور ان کو ہٹانے کے لیے سیاستدانوں کے ایک بڑے گروپ کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس رمدے نے کہا ججوں کی تعیناتی کو خفیہ رکھنے کی حکمت ان کی سمجھ سے بالاتر ہے اور انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ تعیناتی سے پہلے ممکنہ ججوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے تاکہ اگر کسی کو جج پر اعتراض ہے تو وہ سامنے آئے۔

حامد خان نے کہا کہ ججوں کی نکالنے کا عمل ان کو تعینات کرنے کے عمل سے زیادہ مشکل ہونا چاہیے تاکہ ججوں کو انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جا سکے۔ مقدمے کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد