کراچی میں وکلاء پر حملے کی FIR بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نے 12 مئی کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ، سندھ حکومت اور پولیس کے خلاف مقدمے کی ایف آئی آر بحال کردی ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد عظیم کی عدالت نے کراچی بار ایسو سی ایشن کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی کی دائر درخواست پر سندھ حکومت، متحدہ قومی موومنٹ کے ذمے داران اور پولیس افسران کے بارے میں دائر ایف آئی آر کو بحال کردیا ہے اور مقدمہ تحقیقات کے لیے تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کیے جانے کا حکم جاری کیا ہے۔ بارہ مئی کو جب کراچی بار سے وکلاء نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبال کے لیے جلوس نکالا تھا تو اس پر نامعلوم افراد نے حملہ اور فائرنگ کی تھی۔ کراچی بار ایسو سی ایشن کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے بیس مئی کو اس واقعے کے خلاف سٹی کورٹ تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ بارہ مئی کو وکلاء حبس بے جا میں رکھے گئے، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور قاتلانہ حملے کے لیے ان پر فائرنگ کی گئی۔ اس کارروائی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ذمے داران، سندھ حکومت اور پولیس حکام ملوث ہیں۔ پولیس حکام نے کچھ گھنٹوں کے بعد یہ ایف آئی آر بغیر کسی تحقیقات کے خارج کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف نعیم قریشی نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ ایس ایچ او کو ایف آئی آر خارج کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نعیم قریشی نے سٹی کورٹ پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ سٹی پولیس ایف آئی آر میں فریق ہے اس لیے ان سے غیر جانبدرانہ تحقیقات کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ | اسی بارے میں کراچی تشدد، متحدہ کی وڈیو جاری19 May, 2007 | پاکستان ’دعوت ملی تو پھر کراچی جائیں گے‘16 May, 2007 | پاکستان کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا؟15 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہلاکتیں، اسمبلی میں ہنگامہ15 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||