حفاظتی انتظامات ناکافی: سپریم کورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف جاری آپریشن کے دوران قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نےسپریم کورٹ میں حفاظت کے انتظامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ بلڈنگ اور ججوں کی رہائش گاہوں پر مکمل حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کےمطابق قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ بلڈنگ اور ججوں کی رہائش پر انتظامات انتہائی ناکافی ہیں۔ ترجمان نے کہا ہے سپریم کورٹ میں تعینات پولیس اہلکار نفری میں کمی اور بعض عہدیداروں کی حفاظتی ڈیوٹیوں کی وجہ سے سپریم کورٹ میں فرائض نہیں انجام دے سکتے اور سپریم کورٹ میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بوقتِ ضرورت سپریم کورٹ سے باہر بھی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا جاتا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے وزارت داخلہ اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی عمارت اور ججوں کی رہائش گاہوں پر حفاظت کے مکمل انتظامات کریں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد سپرنٹنڈنٹ پولیس سیکورٹی خود ان انتظامات کا جائزہ لیں اور ہر ماہ کی تیس تاریخ کو اپنی رپورٹ رجسٹرار سپریم کورٹ کو جمع کرا دیں۔ | اسی بارے میں پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ 15 February, 2007 | پاکستان فرقہ واریت کے بعد سکیورٹی سخت26 April, 2007 | پاکستان کوئٹہ سکیورٹی پلان، نئی چوکیاں 16 June, 2007 | پاکستان برطانوی سفارتی عملے کی سکیورٹی میں اضافہ26 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||