BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ سکیورٹی پلان، نئی چوکیاں

سردار عطاءاللہ مینگل
فوجی دستے پر حملہ باؤچر کے کوئٹہ دورے کی مناسبت سے ہوا: مینگل
کوئٹہ میں مختلف مقامات پر پولیس اور فرنٹیئر کور کی مشترکہ چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں اور صوبہ بھر میں مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں جبکہ دو روز پہلے فوجیوں پر حملے کی تحقیات مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کی سربراہی میں جمعہ کے روز امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے تھے جن پر عملدرآمد ایک دو روز میں شروع کر دیا جائے گا۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں حفاطتی انتظامات بہتر کیے جا رہے ہیں اور اس کے لیے کوئی تین سو فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کی مدد طلب کی گئی ہے۔

اس نئے منصوبے کے تحت کوئٹہ کے تمام داخلی راستوں پر چوکیاں قائم کی جائیں گی جہاں پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار مشترکہ ڈیوٹی دیں گے۔ ان چوکیوں پر چار اہلکار پولیس کے اور چھ اہلکار نیم فوجی دستے کے ہوں گے۔ کوئٹہ میں اس وقت کوئی دس داخلی اور خارجی راستے ہیں جن میں تین چھاؤنی کے علاقے میں اور سات شہر میں ہیں۔

تمام داخلی راستوں پر چوکیاں
 اس نئے منصوبے کے تحت کوئٹہ کے تمام داخلی راستوں پر چوکیاں قائم کی جائیں گی جہاں پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار مشترکہ ڈیوٹی دیں گے۔ ان چوکیوں پر چار اہلکار پولیس کے اور چھ اہلکار نیم فوجی دستے کے ہوں گے۔ کوئٹہ میں اس وقت کوئی دس داخلی اور خارجی راستے ہیں جن میں تین چھاؤنی کے علاقے میں اور سات شہر میں ہیں۔
اس کے علاوہ شہر کے اندر کوئی پندرہ سے بیس کے لگ بھگ چوکیاں قائم کی جائیں گی۔ یہ چوکیاں شہر میں سیٹلائیٹ ٹاؤن سریاب روڈ سبزل روڈ جائیٹ روڈ جناح ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں قائم کی جائیں گی اور یہاں بھی پولیس اور ایف سی کے اہلکار مشترکہ ڈیوٹی دیں گے۔

یہ اقدامات جمعرات کی رات کوئٹہ میں زرغون روڈ پر فوجیوں کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعہ میں سات فوجیوں سمیت نو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ اس وقت اس واقعہ کی تحقیقات مختلف زاویوں سے کی جارہی ہے جس میں بیرونی مداخلت کی طرف زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے اعلی حکام ایک دو روز میں کوئٹہ پہنچ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ بھر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کہا گیا ہے کہ تمام مشتبہ افراد کا ریکارڈ یکجا کرکے ان سے تفتیش کی جائے۔ کوئٹہ میں کوئی دو سو کے لگ بھگ ایسے افراد ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

پولیس نے اب تک کوئی پچیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکن شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بی این پی کی جانب سے ایسے بیانات جاری کیے گئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ پانچ ماریں گے تو دس ماریں گے اس لیے ان سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جاری ہے۔

بی این پی کے سربراہ سردار عطاء اللہ مینگل نے کہا ہے کہ اس حملے میں ایجنسیوں کا ہاتھ ہے کیونکہ بی ایل اے وغیرہ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ سادہ کپڑوں میں سپاہی کب اور کس وقت پہنچ رہے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ سب امریکہ کو دکھا نے کے لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ جس روز واقعہ پیش آیا اسی روز امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کوئٹہ کا دورہ کیا تھا اور اس کا مقصاد امریکہ سے مزید امداد حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندھیرے میں میرے گھر پر چھاپے لگائے جا تے ہیں اور جب میں کچہری میں کام کے لیے آتا ہوں تو کچھ نہیں کہا جاتا۔

بلوچ اور’گریٹ گیم‘
بلوچستان: طاقت کی رسہ کشی میں پھنسایا گیا
شاہ محمود قریشیتصوف اور اقتدار
زکریا کا عرس، خدمت خلق اور اقتدار سے قربت
رسول بخش پلیجوبلوچستان پر سیمینار
قوم پرست رہنماؤں کے گلے شکوے
گوادرگوادر: کونسا گوادر؟
ترقی کے طویل سفر کا پہلا قدم
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن (فائل فوٹو)ایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی کیلیے دباؤ
تفتان دیوار’بلوچوں کی تقسیم‘
پاکستان اور ایران کے درمیان دیوار پر تشویش
بے بس بلوچ بے بس و بے گھربلوچ
بلوچستان آپریشن نے بلوچوں کو کیا دیا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد