BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں سیاسی بے یقینی‘

News image
متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں تمام منتخب اراکین کا تعلق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن گروپ سے ہے اس لیے اس جماعت کے قائدین مبینہ طور پر حکومت سے علیحٰدگی کا مطالبہ تسلیم نہیں کر رہے تھے
قومی سطح پر متحدہ حزب اختلاف کے قیام کے حوالے سے متحدہ مجلس عمل پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی اختیار کرے اور گزشتہ دنوں میں مولانا فضل الرحٰمن نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ان کی جماعت بلوچستان میں حکمران مسلم لیگ سے علیحٰدگی اختیار کر سکتی ہے۔

متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں اگر حکومت سے علیحٰدگی اختیار کر لیتی ہے تو کیا ہوگا؟ کیا ایم ایم اے حزب اختلاف سے مل کر حکومت سازی کرے گی؟ یا مسلم لیگ حزب اختلاف کے ارکان کو توڑ کر اپنی حکومت قائم رکھ سکے گی؟

بلوچستان اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد پر اگر نظر ڈالی جائے تو موجودہ حالات میں دونوں یعنی مسلم لیگ اور ایم ایم اے کے لیے علیحٰدہ علیحٰدہ حکومت بنانا مشکل ہوگا۔

بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتیں مسلم لیگ کے ساتھ ملکر حکومت سازی کرنا نہیں چاہتیں اور ایم ایم اے کی بلوچستان اسمبلی میں کارکردگی سے قوم پرست ناراض ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت متحدہ مجلس عمل اور مسلم لیگ (قائداعظم) کی مخلوط حکومت قائم ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور پشتون بلوچ قوم پرست جماعتیں حزب اختلاف کا حصہ ہیں۔

مرکزی سطح پر پہلے متحدہ مجلس عمل کے اندر یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ بلوچستان حکومت سے علیحٰدگی اختیار کر لی جائے، لیکن چونکہ یہاں متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں تمام منتخب اراکین کا تعلق جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے ہے اس لیے اس جماعت کے قائدین مبینہ طور پر اس مطالبے کو تسلیم نہیں کر رہے تھے۔

حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد
حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد انیس تھی۔ڈاکٹر عبدالحئی کی نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد پانچ۔پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ارکان کے تعداد پانچ۔ جمہوری وطن پارٹی کے چار۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دو۔ایک آزاد رکن بالاچ مری۔

اب اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آرڈی کی طرف سے بھی یہی مطالبہ دہرایا جا رہا ہے جس پر مولانا فضل الرحمان نے لندن میں مسلم لیگ نواز کے رہنما محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ مجلس عمل بلوچستان حکومت سے علیحٰدہ ہو سکتی ہے۔

بلوچستان میں اس وقت ایم ایم اے کے ارکان کے تعداد انیس تھی، لیکن ایک کو نااہل قرار دینے کے بعد یہ تعداد اب اٹھارہ ہوگئی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے ارکان کی تعداد اکیس ہے اور انہیں نیشنل الائینس کے سات ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے اس طرح ان کی تعداد اٹھائیس ہو جاتی ہے۔

حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد تو انیس تھی ان میں ڈاکٹر عبدالحئی کی نیشنل پارٹی کے ارکان کی تعداد پانچ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ارکان کے تعداد پانچ، جمہوری وطن پارٹی کے چار، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2، پاکستان پیپلز پارٹی کے 2 اور ایک آزاد رکن بالاچ مری شامل تھے۔

لیکن اس وقت صورتحال مختلف ہے۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک رکن کو عدالت نے نا اہل قرار دے دیا تھا اور ان کے حلقے میں ضمنی انتخاب بھی ہوا لیکن دونوں جانب سے الزامات اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے ان کا نتیجہ سامنے نہیں آیا اور اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اسی طرح بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں اراکین نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد اسمبلی سے استعفی دے دیا تھا۔ جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں حکمران مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے لیکن یہ اراکین اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے اور بالاچ مری تو بلوچستان اسمبلی کے کسی اجلاس میں بھی نہیں آئے۔ اس ساری صورتحال میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد گیارہ رہ گئی ہے۔

مسلم لیگ سے علیحٰدگی
 مجلس عمل بلوچستان کے رہنما شاید اپنی مرکزی قیادت سے متفق نہ ہوں کیونکہ بلوچستان میں ایم ایم اے کے قائدین نے صدر مشرف سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں اور وہ حکمران مسلم لیگ سے علیحٰدگی اختیار نہیں کریں گے
قائدِ حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ

اب اگر مجلس عمل مسلم لیگ کا ساتھ چھوڑ کر حزب اختلاف سے مل کر حکومت سازی کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتی کیونکہ بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد پینسٹھ ہے اور حکومت سازی کے لیے کم سے کم تینتیس ارکان چاہئیں جبکہ ان کی تعداد چھبیس ہو رہی ہے۔

ادھر اگر مسلم لیگ جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو اپنے ساتھ شامل کرلے تو ان کی تعداد بتیس ہوتی ہے انہیں بھی ایک مزید رکن کی ضرورت رہے گی۔

بلوچستان اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مجلس عمل بلوچستان کے رہنما شاید اپنی مرکزی قیادت سے متفق نہ ہوں کیونکہ بلوچستان میں ایم ایم اے کے قائدین نے صدر مشرف سے خفیہ ملاقاتیں کی ہیں اور وہ حکمران مسلم لیگ سے علیحٰدگی اختیار نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ایم ایم اے کے صوبائی صدر اور رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی نے گزشتہ دنوں ایک اخباری کانفرنس کے بعد بی بی سی سے کہا تھا کہ ’حکومت سازی کے وقت ہماری ترجیح قوم پرست جماعتیں تھیں لیکن قوم پرست جماعتوں کے قائدین کے رویے کی وجہ سے ہم نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور اب بھی اگر قوم پرست جماعتیں حکومت بنانا چاہتی ہیں تو مجلس عمل بغیر کسی وزارت کے مطالبے کے قوم پرست جماعتوں کی مکمل حمایت کو تیار ہے‘۔

نشینل پارٹی کے رہنما کچکول علی ایڈووکیٹ سے جب میں نے ایم ایم اے کے رہنما کے بیان کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے۔ انہوں نے یہ شعر بھی پڑھ کر سنایا۔۔۔

’اب مجھ پہ نزع کا عالم ہے تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تب بوجھ اتارا کرتے ہیں‘

یوسف مریمفادات کی جنگ
بلوچستان: حقوق کی نہیں، مفادات کی جنگ
بلوچستان اسمبلیبلوچستان اسمبلی
چار سال کی کارکردگی پر رپورٹ
پارلیمنٹ بلڈنگحزب اختلاف کون؟
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، اصل حزب اختلاف
اپوزیشن کے دعوے
اپوزیشن جماعتوں کے وہ وعدے جو وفا نہ ہوئے
فائل فوٹوالفاظ کی ہیرا پھیری
’مالی معاونت بلوچوں کے لئے نہیں ہے۔‘
قومی اسمبلیحکومتی حقائق نامہ
تعمیری احتجاج یا قومی دولت کا ضیاع ؟
اسی بارے میں
حکومت کو حزبِ اختلاف کا جواب
27 November, 2004 | پاکستان
حکمراں اتحادمیں شدید اختلاف
06 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد