BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 February, 2007, 03:57 GMT 08:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خدمت خلق کے لیے اقتدار سے قربت‘

درگاہ کے موجودہ سجادہ نشین پاکستان پیپلز پارٹی کےمخدوم شاہ محمود قریشی ہیں
اسلامی مہینے صفر کی پانچ، چھ، اور سات تاریخ کے آتے ہی ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ کا رنگ اور ماحول بدل جاتا ہے۔وجہ یہاں کی سب سے بڑی درگاہ پر حاضری کے لیے آنے والے ہزاروں زائرین ہیں۔

یہ زائرین ویسے تو پورے ملک سے آتے ہیں، لیکن ان کی اکثریت سندھ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہے اور انہی سندھیوں کی وجہ سے ان مخصوص دنوں میں قلعہ کہنہ قاسم باغ کا علاقہ سندھ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

یہ زائرین سلسلہ سہروردیہ کے معروف روحانی پیشوا حضرت بہاء الدین زکریا کے مرید ہیں، جن کی درگاہ پچھلے سات سو برس سے زائد عرصے سے ان سے عقیدت کے اظہار کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ زائرین کی ایک بڑی تعداد ہر سال ان کے عرس کے موقع پر یہاں آنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔

گھوٹکی کے احمد علی کا کہنا تھا ’ہماری آٹھ نسلیں اس درگاہ کی مرید رہی ہیں، یہ ہمارے سائیں اورہمارے مرشد ہیں اور سال میں ایک بار آنا ہمارا فرض ہے۔‘

نوڈیرو کے غلام عباس کا کہنا تھا ’ کوئی مخصوص کشش ہے جو ہم اپنا ہرضروری کام چھوڑ کر یہاں آنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، دل میں امید ہوتی ہے کہ مرشد کے پاس جائیں گے اور دل کی مراد پوری ہو جائے گئی۔‘

عقیدت مند سندھ سے اس سال بھی پیدل ملتان پہنچے۔

سندھ کے زیادہ تر عقیدت مندوں کی اس درسگاہ سے وابستگی کئی نسلوں سے ہے اور وہ اپنے کئی بزرگوں کے روایت کو نبھاتے ہوئے سندھ سے اس سال بھی پیدل ملتان پہنچے۔

اس سال یہ قافلے خیرپور، تھرپارکر، پنوں عاقل اور دوسرے علاقوں سے آئے۔

انہی قافلوں میں ایک کے خلیفہ میرو خان چاچڑ کے مطابق خیر پور سے قافلہ سترہ دن، تھرپارکر سے پچیس دن اور پنوں عاقل سے چودہ دن میں پہنچا ہے۔

پیدل آنے والے قافلے کے لوگ روایتی طور پر ملتان پہنچنے پر حضرت بی بی پاک دامن کی درگاہ پر حاضری دینے اور وہاں غسل کرنے کے بعد قلعہ کہنہ قاسم باغ میں بہاء الدین زکریا کے مزار پر آتے ہیں۔

خلیفہ کے مطابق ننگے پاؤں آنے کی بڑی وجہ عقیدت و احترام ہے۔ خیر پور سے آئے ایک عقیدت مند مجیب الرحمان کے مطابق ’ملتان ہمارے مرشد کی سرزمین ہے ہم یہاں جوتے نہیں پہنتے کہ بے ادبی نہ ہو، ہمارے باپ داداد بھی ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔‘

سلسلہ سہروردیہ
 طریقت کے چاروں سلسلوں میں سے واحد سلسلہ سہروردیہ ہے جس نے بادشاہوں سے اپنے تعلقات قائم رکھے لیکن سلاطین وقت کے ساتھ ان کے تعلقات کی بنیاد خدمت خلق ہی تھی۔ بادشاہوں سے روابط کو انہوں نے خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔
صدیق خان قادری
اسی طرح بہاء الدین زکریا کے پنوں عاقل سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند اللہ رکھیو کا کہنا تھا ’ ہم اپنے مرشد کی دھرتی کی مٹی کو پاک سمجھتے ہیں، اس لیے جب اس شہر میں داخل ہوتے ہیں تو جوتے اتار دیتے ہیں۔‘

بہاء الدین زکریا کے عرس کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں عقیدت مند اپنے پورے خاندانوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں اور عرس کے دوران مزار کا احاطہ ہزاروں زائرین کے قیام و طعام کا مرکز بنا رہتا ہے۔

عرس کی تقریبات کا آغاز درگاہ کے سجادہ نشین کی طرف سے درگاہ کے غسل سے ہوتا ہے۔

درگاہ کے موجودہ سجادہ نشین پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم شاہ محمود قریشی ہیں جنہیں یہ گدی وراثتی طور پر اپنے والد سابق گورنر پنجاب اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مخدوم سجاد حسین قریشی کے انتقال کے بعد ملی۔

عرس سے تین دن قبل مزار کو عرق گلاب اور عطر سے دھویا جاتا ہے۔ اس دوران درگاہ کے احاطے میں موجود عقیدت مند مرد اور خواتین وہ عرق اپنی ہتھیلوں پر لے کر چہرے اور باقی جسم پر ملتے ہیں یا اس عطر کو کسی پیالے یا برتن میں جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ان کے لیے تبرک ہے۔

تاریخی حوالوں کی روشنی میں اس درگاہ سے وابستہ گدی نشینوں کے حوالے سے تاثر یہ ہے کہ وہ جہاں خدمت خلق میں نمایاں رہے وہاں اقتدار اور حاکم وقت کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی اور خوشگوار رہے ہیں۔ پاکستان زکریا اکیڈمی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صدیق خان قادری کے مطابق ’ طریقت کے چاروں سلسلوں میں سے واحد سلسلہ سہروردیہ ہے جس نے بادشاہوں سے اپنے تعلقات قائم رکھے لیکن سلاطین وقت کے ساتھ ان کے تعلقات کی بنیاد خدمت خلق ہی تھی۔ بادشاہوں سے روابط کو انہوں نے خدمت خلق کا ذریعہ بنایا۔‘

موجود ہ گدی نشین مخدوم شاہ محمود قریشی بھی اپنے والد کی طرح اقتدار میں رہ چکے ہیں۔ تین بار صوبائی وزیر، چیئرمین ضلع کونسل، وزیر مملکت اور ضلع ناظم رہنے کے بعد وہ اس وقت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک نتحرک رکن قومی اسمبلی ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کا صدر بھی نامزد کیا گیا ہے۔

لیکن یہ بہت کم ہوا ہے کہ بہاءالدین زکریا کی درگاہ کا سجادہ نشین اقتدار کی بجائے حزب مخالف کی سیاست کر رہا ہو۔ یہ سلاطین وقت کے ساتھ مثالی تعلقات رکھنے کی روایت سے انحراف ہے یا اقتدار کی سیڑھیوں کی جانب بڑھتے ہوئے قدم !

عرس کے رنگ
ملتان میں حضرت بہاؤ الدین زکریہ کا عرس
چنئی صوفی فیسٹیولچنئی صوفی فیسٹیول
’خدا نہیں، پر جدا بھی نہیں۔۔۔‘ تصاویر میں
نکیتا صوفی کا دوسراجنم
بچی کےروپ میں بزرگ اڈیرو لال کادوسرا جنم
صوفی اور اسلامصوفی اور اسلام
جدید دور میں صوفی اسلام کا کردار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد