BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 September, 2005, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صوفی بزرگ اڈیرو لال کا دوسرا جنم

نکیتا
لڑکی ہونے کے باوجود اڈیرو لال کا ’روپ دھارنے‘ کی وجہ سےنکیتا کو مذکر پکارا جاتا ہے
سندھ میں ان دنوں ہندو اور مسلم دونوں کے لیے قابل احترام صوفی بزرگ اڈیرو لال کے دوسرے جنم کا چرچا ہے۔

صوفی بزرگ کےدوسرے جنم کی دعویدار بھارت کے شہرگودرہ میں جنم لینے والی بارہ سالہ بچی نکیتا ہے۔ لڑکی ہونے کے باوجود اڈیرو لال کا ’روپ دھارنے‘ کی وجہ سے اسے مذ کر پکارا جاتا ہے۔

حیدرآباد کے قریب واقع اڈیرو لال کا مزار مسلم اور ہندو دونوں کے لیے قابل احترام ہے۔ ہندو ان کو بھوج امر لال اور مسلمان شیخ طاہر محمد کے نام سے جانتے ہیں۔

درگاہ کی دائیں جانب مسجد اور بائیں جانب مندر ہے۔ ان کے عقیدت مند پاکستان کے علاوہ بھارت میں بھی موجود ہیں۔

دعویدار
 گذشتہ دنوں اڈیرو لال کے دوسرے جنم کی دعویدار بچی نکتیا اور ان کی ماں پمی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینے آئی ہوئی تھیں۔

مزار کے اندر اڈیرو لال کی ایک خیالی تصویر لگی ہوئی ہے جس میں ان کے چہرے پر سفید ڈاڑھی ہے اور وہ دریائے سندھ میں ایک مچھلی پر سوار ہیں۔

گذشتہ دنوں اڈیرو لال کے دوسرے جنم کی دعویدار بچی نکتیا اور ان کی والدہ پمی بزرگ کی درگاہ پر حاضری دینے آئی ہوئی تھیں۔

شریمتی پمی بتاتی ہیں کہ نکیتا جب ڈھائی سال کی تھیں تب سائیں اڈیرولال نےدرشن دیا تھا۔

پمی کے مطابق وہ بہت تنگ دستی میں تھے، اس اثنا میں سائیں کا درشن ہوا۔ ’انہوں نے مجھے کہا کہ بچہ جو چاہیے مانگ تیری مراد پوری ہوگی‘۔

پمی بتاتی ہیں کہ وہ یہ پیغام سمجھ نہ سکیں اور انہوں نے مارپیٹ کر نکیتا کو سلادیا۔ انہوں نے مجھ کہا کہ ’اب تم بھٹکوگی، تمہیں مشکل سے درشن ملیں گے‘۔

پمی کے مطابق اس واقعے کے ڈھائی سال کے بعد جل (پانی ) میں بھوج امر لال نے درشن دیا۔ جیسے سائیں اشنان کے وقت جل سے بات کرتے تھے، اسی روپ میں درشن ملا۔ انہوں نے ہدایات دینا شروع کردیں کہ فلاں کام کرو، فلاں نہ کرو۔

نکیتا
نکیتا کی ماں شریمتی پمی کے مطابق درشن دینے کے بعد نکتیا نے کہا کہ انہیں اپنا گرو دیکھنا ہے

سروپ لینے کے بارے میں وہ بتاتی ہیں کہ ’پھر وہ بچی کو ایک مسلمان عالم کے پاس لےگئے۔ جنہوں نے ان کی تین پرکشا (امتحان) لینے کے بعد اس کوگدی پر بٹھایا دیا۔یوں ان میں اڈیرو لال کا سروپ آگیا‘۔

ان کے مطابق سندھ میں اڈیرو لال اور بھارت میں ورند دیو کہا جاتا ہے۔

پمی کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جس میں نکیتا سب سے بڑی ہے۔

شریمتی پمی کے مطابق درشن دینے کے بعد نکتیا نے کہا کہ انہیں اپنا گرو دیکھنا ہے۔ سروپ میں موجود سائیں کے الفاظ تھے کہ ’انہیں پاکستان لے چلو وہاں سندھ میں نصرپور ان کا دیس ہے۔ ان کا جنم وہاں کا ہے‘۔

پمی بتاتی ہیں کہ وہ دو سال سے پاکستان آنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ آخر یہاں پہنچ گئے۔ یہاں لوگ سائیں کے بہت عقیدت مند ہیں ایک ماہ کا ویزا لےکر آئے تھے ڈھائی ماہ گذر چکے ہیں۔ یہاں جھولے لال کی جے جے کار زیادہ ہے۔

نکیتا نے بتایا کہ ’پاکستان میں سائیں کی جنم بھومی دیکھنے کا بہت من ہوتا تھا۔ وہاں پر وہ ادھورے تھے یہاں آکر مکمل ہوگئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نصرپور میں انہوں نے اپنا بچپبن محسوس کیا اور وہ مقامات دیکھے جہاں سائیں نے اپنا بچپن گذارا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ گودھرا میں سائیں کا آشرم ہے جہاں ہر جمعہ اور اتوار کومیلہ لگتا ہے۔

نکیتا کی ماں
 نکیتا کا کہنا ہے کہ ان کی ماں نے ان کا بہت ساتھ دیا ہے اور ان کےلیے پورا گھر اور سنسار چھوڑ دیا ہے۔

نکیتانے ایک ہاتھ میں انگوٹھیاں پہنی ہوئی ہیں۔ جبکہ وہ صاف سندھی بولتی ہیں اور لوگوں کو بچڑا (بچہ) پکارتی
ہیں۔

ان کے ایک کان میں بالی ہے اور لڑکوں کی طرح بالوں کٹے ہوئے ہیں۔ چہرے کے ایک طرف سرخ نشان ہے۔ جس کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ اڈیرو لال کے بھی ایسا ہی نشان تھا۔

عمر کم ہونے کی وجہ سے کسی دشواری پیش آنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ہیں جو ایسا سمجھتے ہیں۔ مگر ان کو سمجھنے میں وقت لگےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا تو کچھ بھی نہیں سائیں کا ہی نام گایا اور پکارا جاتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہی نہیں ہے کہ میں بچہ ہوں، اندر سائیں بیٹھے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ ساتویں کلاس میں پڑھتی ہیں۔وہ امتحان میں چھپن فیصد مارکس لیتی ہیں وہ سال میں صرف ایک ماہ پڑھتی ہیں۔

آج کل کے ماحول کےبارے میں انہوں نے کہا کہ بچوں میں پیار ہے مگر کبھی کبھی بھٹک جاتے ہیں۔’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ سب کے من اندر جوت جگائیں‘۔

نکیتا
سندھ میں قیام کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے درشن کو آئے

وہ ساری رات لوگوں کے سوالات کے جواب دیتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان سوالوں سے پریشان نہیں ہوتے۔ لوگ ان سے پیار کرتے ہیں، وہ دکھی ہیں اس لیے سوال پوچھتے ہیں۔وہ ’جھولے تیرا جھنڈا امر تیری جوت‘ کا نعرہ لگاتی ہیں۔

سندھ میں قیام کے دوران ہزاروں کی تعداد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے درشن کو آئے جن کو وہ پرشاد کے طور پر خشک اور تازہ میوہ دیتی رہیں۔ اور لوگوں کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا بھی کرتی رہیں۔

نکیتا کا کہنا ہے کہ ان کی ماں نے ان کا بہت ساتھ دیا ہے اور ان کےلیے پورا گھر اور سنسار چھوڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد