BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 June, 2007, 16:15 GMT 21:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی این پی پر پابندی کی تیاری: مینگل

سردار عطاءاللہ مینگل
فوجی دستے پر حملہ باؤچر کے کوئٹہ دورے کی مناسبت سے ہوا: مینگل
بزرگ سیاستدان اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں فوجیوں پر حملے کے پیچھے ایجنسیوں کاہاتھ ہے اور بی این پی کے قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری سے ایسا لگتا ہے کہ اس جماعت پر پابندی لگائی جائے گی لیکن ایسے اقدامات سے ان کی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بلوچستان کے شہر وڈھ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا کہ ’اگر اس واقعہ پر توجہ دی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ یہ کام ایجنسیوں کے سوا کوئی اور کر نہیں سکتا کیونکہ کوئی احمق شخص ہوگا جو اس کارروائی کے لیے اس جگہ کا انتخاب کرے گا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ کارروائی بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کے بس کی بات ہی نہیں ہے کیونکہ بی ایل اے اتنی باوسائل نہیں ہے کہ انہیں پہلے سے معلوم ہو جائے کہ بغیر وردی کے کتنے فوجی ریل گاڑی میں کس وقت آرہے ہیں اور پھر تین منٹ کی ڈرائیو کے بعد ان کو مار دیا جاتا ہے۔‘

 یہ کارروائی بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کے بس کی بات ہی نہیں ہے کیونکہ بی ایل اے اتنی باوسائل نہیں ہے کہ انہیں پہلے سے معلوم ہو جائے کہ بغیر وردی کے کتنے فوجی ریل گاڑی میں کس وقت آرہے ہیں اور پھر تین منٹ کی ڈرائیو کے بعد ان کو مار دیا جاتا ہے۔
سردار عطاءاللہ مینگل
یاد رہے کہ جمعرات کو رات کے وقت نامعلوم افراد نے فیصل آباد سے آنے والے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی جس میں سات فوجیوں سمیت نو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے تھے۔

کوئٹہ میں پولیس نے کوئی پچیس افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین جیسے آغا حسن بلوچ اور موسی بلوچ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

سردار عطاءاللہ مینگل نے کہا کہ ’ان لوگوں نے اپنے بندے خود مارے ہیں، ان کو کریک ڈاؤن کرنا تھا تاکہ بی این پی کو بدنام کیا جائے اور رچرڈ باؤچر جو اس دن کوئٹہ کے دورے پر آیا ہوا تھا، اسے یہ پیغام دینا تھا کہ یہ لوگ آپ کا احترام بھی نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔‘

عطاءاللہ مینگل نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کے کچھ دیر بعد وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کہتے ہیں کہ اس میں کوئی سیاسی جماعت ملوث ہو سکتی ہے تو کیا وزیر اعلی پر الہام ہوا ہے؟ اگر سیاسی پارٹی ہے تو کیا مسلم لیگ کے ناراض ارکان نہیں ہو سکتے اور سیاسی پارٹیاں ہیں لیکن صرف بی این پی پر ہی دھاوا بول دیا ہے۔

عطاء اللہ مینگل نے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ بی این پی پر عنقریب پابندی لگا دی جائے گی، ان کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ کریں اور انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر اس پابندی کا یا ان کی جدوجہد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں ان کی کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے، ان انتخابات کی کوئی حیثیت نہیں ہے جوجنرل پرویز مشرف کے تحت ہوں۔

ان سے جب پوچھا کہ بی این پی کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ان کا بیٹا سردار اختر مینگل اور دیگر افراد پہلے سے گرفتار ہیں۔ ’اور یہ تو صرف گرفتار ہیں نواب اکبر بگٹی کو تو ان لوگوں نے دن دیہاڑے قتل کر دیا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ہم تو اس کھیل میں پہلے سے ملوث ہیں جو اس سے کہیں زیادہ مہنگا کھیل ہے۔‘

بلوچ اور’گریٹ گیم‘
بلوچستان: طاقت کی رسہ کشی میں پھنسایا گیا
شاہ محمود قریشیتصوف اور اقتدار
زکریا کا عرس، خدمت خلق اور اقتدار سے قربت
رسول بخش پلیجوبلوچستان پر سیمینار
قوم پرست رہنماؤں کے گلے شکوے
گوادرگوادر: کونسا گوادر؟
ترقی کے طویل سفر کا پہلا قدم
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن (فائل فوٹو)ایم ایم اے کا امتحان
بلوچستان میں حکومت سے علیحٰدگی کیلیے دباؤ
تفتان دیوار’بلوچوں کی تقسیم‘
پاکستان اور ایران کے درمیان دیوار پر تشویش
بے بس بلوچ بے بس و بے گھربلوچ
بلوچستان آپریشن نے بلوچوں کو کیا دیا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد