BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 February, 2007, 14:23 GMT 19:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ

پولیس
پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ حالیہ بم دھماکوں کے بعد پولیس جوانوں کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے
پشاور پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملوں میں ایک ہی سوچ کے حامل افراد ملوث ہیں جن کا ہدف وردی والوں اور حکومتی مشینری کو ٹارگٹ بنانا تھا تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جاسکے۔

جمعرات کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف کیپٹل سٹی پولیس عبد المجید مروت نے کہا کہ حساس اداروں کے مطابق پشاور میں تخریب کاری کی مزید وارداتوں کے اطلاعات ملی ہیں جس کے بعد شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بم دھماکوں کے بعد پولیس جوانوں کو خصوصی تربیت دی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں تخریب کاری کی وارداتوں کا موثر انداز میں تدارک کیا جاسکے۔

مجید مروت نے بتایا کہ اسلام آباد، پشاور اور ڈیرہ اسمعیل خان میں ہونے والے خودکش حملوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہے جن کا مقصد وردی والوں کو نشانہ بنانا ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔

 پشاور پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے عبدالمجید مروت کا ذرائع ابلاغ کے ساتھ یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی

پولیس سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیسنگ کا مطلب ہے کہ مجرمان کو گرفتار کرکے انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے لیکن خودکش حملہ آور کو کسی چیز کا خوف نہیں ہوتا اور اسے روکنا انتہائی مشکل کام ہے تاہم اس کے باوجود پولیس نے شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندیاں کر رکھی ہیں جبکہ اس سلسلے میں سکیورٹی بھی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔

اس موقع پر موجود ایس ایس پی پشاور افتخار خان نے بتایا کہ خودکش حملے روکنا پولیس کی بس کی بات نہیں بلکہ یہ کام حساس اداروں ایم آئی اور آئی ایس آئی کا ہے کہ ہمیں انٹیلیجنس معلومات فراہم کرے۔

واضع رہے کہ پشاور پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے عبدالمجید مروت کی ذرائع ابلاغ کے ساتھ یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔ پشاور خودکش حملے میں ڈی آئی جی ملک سعد کی موت کے بعد عبد المجید مروت کو ان کی جگہ پشاور پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

 سعدخود کش حملہ
پشاور پولیس کا دوہرا نقصان
عینی شاہدوں کے بیان
بس یہ لگا جیسے کسی نے کوئی چیز ڈال دی ہو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد