BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 January, 2007, 06:23 GMT 11:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس اپنی حفاظت کے لیے فکر مند

پولیس
عبادت گاہوں کے باہر لوگوں کی تلاشی کا سلسلہ جاری
اس بار عاشورہ محرم پر سکیورٹی کے انتظامات کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ خود پولیس اپنی حفاظت کے لیے فکر مند دکھائی دے رہی ہے۔ سب سے مشکل ڈیوٹی ان پولیس اہلکاروں کی معلوم ہورہی ہے جو تلاشی پر مامور ہیں۔

اس کا حل کئی جگہ یہ نکالا گیا ہے کہ پولیس سے پہلے امام بارگاہوں یا مذہبی تقریبات کے منتظمین تلاشی لیتے تھے اور جہاں جہاں پولیس کو یہ فرض ادا کرنا پڑ رہا ہے وہاں پولیس کا سب سے کمتر عہدے کا اہلکار یہ ڈیوٹی کرتا دکھائی دیا۔

لاہور میں کربلا گامے شاہ پر تعینات دو پولیس کانسٹیبل آنے والوں کی تلاشی لیتےدکھائی دیے خاص طور پر گرم چادریں اوڑھنے والے کی جامہ تلاشی ہوتی رہی کہ وہ کہیں خودکش حملہ آور تو نہیں جبکہ ان کا افسر تھانیدار وہاں سے دور نسبتاً محفوظ مقام پر کھڑا تھا۔

تلاشی پر مامور اہلکارنے بتایا کہ انہیں تاکید کی گئی ہے کہ چادر اوڑھنے والے افراد اور مذہبی مقامات کی جانب تیزی سے جاتی گاڑیوں پر خاص نظر رکھی جائے۔

موچی دروازے کے باہر کھڑے ایک پولیس کانسٹیبل نے کہا کہ اتنا رش ہے کیسے پتہ چلے گا کہ کس چادر میں خودکش بمبار ہے۔ جب اس سے نام پوچھا تو اس نے کہا ’نام کو چھوڑو اصل بات یہ ہے کہ ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ڈر گئے تو یہ نوکری نہیں ہوسکتی‘۔

پولیس
ٹریگر پر انگلی رکھے اہلکار چوکس کھڑے ہیں

لاہور کے شہریوں نے شاید پہلی بار دیکھا کہ پولیس نے فوج کی طرح ریت کی بوریوں کے مورچے لگائے ہیں جن میں ٹریگر پر انگلی رکھے اہلکار چوکس کھڑے ہیں۔

پولیس میں بلٹ پروف جیکٹوں کی گنتی فورس کی تعداد کے لحاظ سے آٹےمیں نمک کے برابر ہے۔

ایک تھانے کے انچارج نے بتایا کہ ان کے تھانے کی نفری ساٹھ اہلکاروں پر مبنی ہے اور بلٹ پروف جیکٹیں صرف چھ تھیں جن میں سے بھی دو پولیس لائن واپس منگوالی گئی ہیں۔

لاہور کے ڈی آئی جی آپریشن آفتاب چیمہ کے مطابق بظاہر یہ حملے پولیس کے خلاف دکھائی دے رہے ہیں اسی لیے حفاظتی اقدامات کے طور پر بلٹ پروف جیکٹیں پہن کر جانےکی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے بغیر کھڑے ایک پولیس کانسٹیبل سےجب پوچھا گیا کہ کیا انہیں خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تو جواب میں اس کانسٹیبل کا الٹا سوال مجھے خاصا اہم لگا اس نے پوچھا تھا کہ ’ذرا سمجھائیں کہ بلٹ پروف جیکٹ بم دھماکے سے کیسے بچائے گی؟‘ اس نے کہا کہ ’مسئلہ تو اس خودکش حملہ آور کا ہے جوگولی نہیں مارنا چاہتا بلکہ مجھ سے بارودی جپھی (معانقہ) کرنا چاہتا ہے‘۔

جب معاملہ پبلک مقام پر کھڑے ہو کر امن و امان کنٹرول کرنےکی کوشش ہو تو پولیس کے ساتھ ساتھ کرائم رپورٹر بھی لازم و ملزوم ہے۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس بار براہ راست پولیس نشانے پر ہے

لاہور کے ایک کرائم رپورٹر نے کہا کہ اب جلسے جلوسوں ہنگاموں میں کوریج کی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی کیونکہ پہلے محفوظ ترین جگہ وہ اعلٰی ترین پولیس افسر ہوتا تھا جو محفوظ مقام پر کھڑا ہو کر ہدایات جاری کرتا تھا لیکن اب اعلی ترین پولیس افسر کی قربت ہی غیر محفوظ ترین مقام ہے۔

تشویش صرف پولیس اہلکاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کے اہل خانہ بھی ان کی حفاظت کے لیے پریشان ہیں۔مغلپورہ کی امام بارگاہ رضویہ کے باہر تعینات ایک پولیس انسپکٹر نے کہا ان کے گھر اور قریبی رشتہ داروں نے فون کر کے بار بار کہا ہے کہ زیادہ بہادری دکھانے کی ضرورت نہیں ہے دھیان سے رہنا تاہم انسپکٹر کا کہنا تھا کہ گھر والوں کی تشویش اپنی جگہ لیکن ڈیوٹی تو کرنی ہے۔

موچی دروازہ میں نثار حویلی سے کئی فرلانگ دور سے جامہ تلاشی کا سلسلہ شروع ہے تاہم اس بار پولیس کی پوزیشنیں ایسی جگہ پر بھی نظر آئیں جہاں سے تلاشی لینے والے اہلکاروں پر مناسب فاصلےسے نظر رکھی جاسکتی تھی۔

پنجاب میں عوام کی سطح پر پولیس کا کچھ زیادہ اچھا تاثرنہیں ہے تاہم ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ اس بار براہ راست پولیس نشانے پر ہے اس کا کیا قصور ہے۔

پنجاب میں عوام کی سطح پر پولیس کا کچھ زیادہ اچھا تاثرنہیں ہے

صوبہ سرحد کے گورنر اپنےایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ حملے بظاہر فرقہ واریت نہیں ہیں بلکہ پولیس پر حملے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو تب بھی یہ سوال اہم ہے کہ حملے عین محرم کے مذہبی طور سے حساس ترین دنوں میں کیوں ہو رہے ہیں؟

سکیورٹی پر تعینات بعض پولیس اہلکار اس بات پر بحث کرتے دکھائی دیئے کہ دہشت گردوں کا نشانہ مذہبی مقامات ہیں یا صرف پولیس اہلکار ہیں۔

تجزیہ نگار کہتےہیں کہ پاکستان جسے بعض ناقدین پولیس سٹیٹ کہتے ہیں وہاں پولیس پر حملوں کو زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں پر تشدد واقعات کے آغاز میں عراق کی پولیس کو نشانہ بنایا گیا تھا اب یہی رجحان پاکستان میں دیکھنے میں آرہا ہے۔

گورنر سرحد اپنےایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پولیس پر حملے کرکےحکومت کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے جس کا سختی سےجواب دیا جائے گا۔

بہرحال اس عاشورہ پر پولیس میں یہ تاثر پایا جارہا ہے کہ اس بار وہ خود بھی نشانہ ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد