برطانوی سفارتی عملے کی سکیورٹی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی وزارتِ داخلہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں موجود برطانوی سفارتی عملے اور عام برطانوی شہریوں کی سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے جائیں۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ چودھری افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانیہ کے سفارت کاروں اور شہریوں اور ان کے اداروں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان مشکوک افراد پر نظر رکھیں جو ان سفارت کاروں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ یہ احکامات انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے ایک خفیہ رپورٹ پر دیےگئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے بعد مذہبی انتہا پسند برطانوی سفارت کاروں، شہریوں اور اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہٰذا ان کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈنمارک اور جر منی کے سفارت کاروں کی بھی سکیورٹی سخت کر دیں۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ان ملکوں کے اخبارات میں ایسے کارٹون چھپے تھے جن کے خلاف مسلمان تنظیموں اور ممالک نےاحتجاج کیا تھا۔ | اسی بارے میں رشدی مخالف مظاہرے جاری رہے22 June, 2007 | پاکستان بلوچوں نے برطانوی تمغے جلا دیے24 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر قراردادِ مذمت25 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||