رشدی مخالف مظاہرے جاری رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملکہ برطانیہ کی جانب سے مصنف سلمان رشدی کو سر کا اعزاز دئے جانے کے خلاف مذہبی جماعتوں نے ملک کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہروں میں سلمان رشدی کے پتلے نذر آتش کیے گئے اور برطانیہ سے فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنا یہ فیصلہ واپس لے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کی جانب سے جی نائن سیکٹر میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن اور ایم ایم اے کے میاں اسلم اور دیگر رہنماؤں نے کی۔ مولانا فضل الرحمن نے ملکہ برطانیہ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’ہم آج ایک بار پھر برطانیہ کو یہ جتلانا چاہتے ہیں کہ تم پاکستان کے یا عالم اسلام کے اربوں مسلمانوں کے اس غدار کو ایک اعزاز تو دے سکتے ہو لیکن یہ کبھی بھی تمہارا تحفظ نہیں کرسکیں گے اور مسلمان اپنے دشمنوں کا تعاقب کرتے رہیں گے تاوقتیکہ انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچادیں۔‘
قائد حزب اختلاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ اس معاملے پر برطانیہ کا ساتھ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’کوئی بھی مسلمان خواہ کسی بھی حیثیت کا مالک ہو اگر وہ سلمان رشدی کی صف میں کھڑا ہوتا ہے، برطانیہ کی صف میں کھڑا ہوتا ہے وہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتا۔‘ قبل ازیں انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برطانیہ سلمان رشدی کو پاکستان کے حوالے کرے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف توہین رسالت کے جرم میں کارروائی کی جا سکے۔واضح رہے کہ پاکستانی قانون کے تحت توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ دریں اثناء ڈاکٹر طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے بھی جی نائن سیکٹر میں احتجاجی مارچ کیا اور سلمان رشدی، برطانیہ اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔مظاہرے کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز میں سے ایک پر تحریر تھا ’سلمان رشدی کے لیے سر کا خطاب بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔‘ کراچی سے ریاض سہیل کے مطابق متحدہ مجلس عمل کی جانب سے جمعہ نماز کے بعد گرو مندر پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے ایم ایم اے کے رہنما پروفیسر غفور احمد، مولانا غفور حیدری، سینٹر گل نصیب خان اور دیگر نے خطاب کیا۔
مقررین نے عوام سے اپیل کی برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور حکومت سفارتی تعلقات ختم کر دے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن اسلامی دنیا کا مجاہد ہے اور پاکستان حکومت کو بھی اس کو نشان حیدر دینا چاہیئے۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا تھا برطانوی حکومت کے فیصلے پر او آئی سی خاموش ہے اور مسلم حکمرانوں نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، وہ مغرب کے پٹھو ہیں۔ پروفیسر غفور احمد نے کہا کہ برطانیہ نے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیکر مسلمان دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شیطانی آیات‘ حالیہ دنوں میں نہیں بلکہ یہ بیس سال قبل لکھی گئی ہے۔ اس کی اشاعت کے وقت بھی دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا، آج ٹونی بلیئر کی حکومت کو خیال آیا کہ رشدی کو سر کا خطاب دیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ ’رشدی کو سر کا خطاب ان کی ادبی خدمات پر دیا گیا ہے، مگر دنیا جانتی ہے کے ان کی کتابیں غیر معیاری ہیں۔ انہوں نے کوئی خدمات نہیں کیں صرف ایک خدمت کی ہے کہ وہ مسلمان اور ان کے اکابرین کی تذلیل کرنا ہے۔‘ ’برطانیہ نے ان تمام لوگوں کی توہین کی ہے جنہیں اس سے پہلے سرکار کا خطاب دیا گیا تھا۔‘ پروفیسر غفور احمد کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے لیے ایک ارب پچاس کروڑ عوام مسلمانوں سے دشمنی مول لینا کوئی اچھا سودا نہیں ہوگا۔ مولانا غفور حیدری کا کہنا تھا کہ جو پیغمبر اسلام کا منکر ہے وہ واجب القتل ہے۔ ’یہ ہر مسلمان کی رائے ہے اگر اعجاز الحق یا پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے ایسا کہا ہے تو بلکل درست کہا ہے۔‘ |
اسی بارے میں ’گستاخِ رسول سامنے آیا تو قتل‘21 June, 2007 | پاکستان رشدی کا خطاب ، ارباب کا جواب21 June, 2007 | پاکستان رشدی’سر‘ تو بن لادن ’سیف اللہ‘21 June, 2007 | پاکستان احتجاج میں عراق اور مصر بھی شامل21 June, 2007 | پاکستان رشدی:ملتان میں احتجاجی مظاہرے 20 June, 2007 | پاکستان سرحد اسمبلی میں بھی قراردادِ مذمت 19 June, 2007 | پاکستان پاکستانی احتجاج، برطانوی تشویش19 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||