پاکستانی احتجاج، برطانوی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دیے جانے پر پاکستان نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے منگل کو برطانوی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج نوٹ کروایا ہے جبکہ برطانوی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر ردعمل کے حوالے سے بیان پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔ اعجاز الحق نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سلمان رشدی کو خطاب دیے جانے کے ردعمل میں خود کش حملے ہو سکتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کو یقین ہے کہ سلمان نے اسلام کی توہین کی ہے۔ برطانوی ہائی کمشنر رابرٹ برنکلے کے ترجمان کا کہنا تھا’ برطانوی حکومت کے نزدیک خود کش حملوں کا کوئی بھی جواز نہیں پیش کیا جا سکتا‘۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر کی طلبی کی تصدیق کی اور بتایا کہ برطانوی ہائی کمشنر کو پاکستانی پارلیمان سے اس بارے میں منظور کردہ قرار داد کی کاپی بھی دی گئی ہے۔ تسنیم اسلم کے مطابق’ہم نے انہیں کہا کہ برطانیہ اور پاکستان بین المذاہب اور بین التہذیبی ہم آہنگی کے متعدد اقدامات پر کام کر رہے ہیں اور سلمان رشدی جیسے متنازعہ شخص کو، جن کی تحریریں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے گہری تکلیف کا باعث ہیں، سر کا خطاب دیے جانے جیسے اقدامات ہماری مشترکہ کوششوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوں گے‘۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا پاکستان نے برطانیہ سے سلمان رشدی کو دیا گیا خطاب واپس لینے کے لیے کہا ہے تو انہوں نے اس کی نفی کی البتہ انہوں نے کہا کہ برطانوی ہائی کمشنر کو پارلیمان سے اس بارے میں مشترکہ طور پر منظور کردہ قرار داد کی کاپی دی گئی ہے۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی کی مشترکہ کوششوں کے حوالے سے حکومتِ پاکستان نے ہمیشہ برطانیہ سے یہ توقع کی ہے کہ وہ پاکستان کا شراکت دار ہے کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں عیسائی آبادی ہے اور انہیں مسلم دنیا کی بھی سمجھ ہے۔
ان کا کہنا تھا’جب ڈنمارک میں خاکوں کا معاملہ ہوا تو ہم نے سمجھا کہ برطانوی سوچ کافی تعمیری تھی۔ ہم توقع کر رہے تھے کہ وہ بین التہذیبی ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے مگر سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ کا خطاب دینے سے مایوسی ہوئی ہے‘۔ واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی اور سرحد کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرار دادوں کے ذریعے سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دینے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سلمان رشدی نے ’سیٹنک ورسز‘ نامی کتاب لکھی تھی جس کے بعد دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے تھے اور کتاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خمینی نے اس کتاب کے حوالے سے سلمان رشدی کو واجب القتل قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں سرحد اسمبلی میں بھی قراردادِ مذمت 19 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت17 June, 2007 | آس پاس سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت16 June, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||