سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے ملکہ الزبیتھ کی جانب سے ناول نگار سلمان رشدی کو ادب کی خدمات کے صلے میں ’نائٹ ہوڈ‘ یعنی سر کا خطاب دیے جانے پر تنقید کی ہے۔ یاد رہے کہ منصف سلمان رشدی کو اپنی کتاب ’دی سٹینک ورسس‘ کی اشاعت کے بعد ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کے عائد کردہ کفر کے فتوے کے بعد کئی سال روپوشی میں گزارنے پڑے۔ ان کی کتاب سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی اور 1989 میں ایرانی فتوے کے بعد ان کے سر پر انعام رکھا گیا تھا۔ برطانوی ملکہ نے اپنی سالگرہ کے اعزازات کی لسٹ (برتھ ڈے اونرز لسٹ) میں ناول نگار سلمان رشدی سمیت کئی افراد کو سر کے خطاب سے نوازا ہے جن میں مشہور کرکٹر اور نامور آل راؤنڈر آئن بوتھم بھی شامل ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان علی محمد حسینی کا کہنا ہے کہ ایک ’مرتد‘ کی عزت افزائی کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ برطانوی حکام اسلام فوبیا میں مبتلا ہیں۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی سُر کے خطاب کے پوری طرح اہل ہیں۔ تاہم 1999 میں دوبارہ منظرِ عام پر آنے کے بعد بھی بھارتی نژاد مصنف نے تنازعات کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مسلمان عورتوں کے حجاب کے مسئلے پر سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا کی حمایت کی اور اسلامی ٹوٹلیرینزم یا مرکزی مطلق العنانیت کے متعلق خبردار کیا۔
سلمان رشدی نے انگلینڈ میں رگبی سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیمرج یونیورسٹی میں تاریخ پڑھی۔ اس کے بعد لندن میں اشتہارات کے پیشے سے منسلک رہنے کے بعد وہ کُل وقتی مصنف بن گئے۔ ان کا پہلا ناول ’گرئمس‘ 1975 میں شائع ہوا لیکن عام پبلک اور ادبی حلقوں میں اسے اتنی پذیرائی نہیں ملی۔ تاہم ان کا دوسرا ناول ’مڈ نائٹ چلڈرن‘ ان کی ادبی شہرت کا سبب بنا۔ اس کی وجہ سے انہیں 1981 میں بکر پرائز ملا اور 1993 میں اس سے بھی بڑھ کر ’بکر آف بکر‘ کے اعزاز سے نوازا گیا کیونکہ بکر ایوارڈ کی پچیس سالہ تاریخ میں اسے سب سے بہترین ناول قرار دیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں سلمان رشدی ’بےعزتی‘ پر خفا26 December, 2004 | صفحۂ اول رشدی کے خلاف فتوی موجود ہے13 February, 2005 | آس پاس اسلام میں اجتہاد کی ضرورت ہے: رشدی11 August, 2005 | آس پاس سلمان رُشدی پاکستانی فلم میں03 May, 2006 | فن فنکار رشدی ’بیڈ سیکس فکشن ایوارڈ‘ کیلیے نامزد29 November, 2005 | فن فنکار رشدی کےناول پرمبنی ڈرامہ17.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||