بُکر انعام، رشدی اب شامل نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی نژاد برطانوی مصبف سلمان رشدی کو اس سال کے اعلی ادبی اعزاز ’بکر پرائز‘ کی حتمی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ سلمان رشدی کو ان کی نئی کتاب ’شالیمار دی کلاون‘ کے لیے اس انعام کی ابتدائی فہرست میں شامل کیا گیا تھا لیکن جمعرات آٹھ ستمبر کو جاری ہونے والی حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں ہے۔ سلمان رشدی کو انیس سو اکیاسی میں ان کے مشہور ناول ’مِڈنائٹس چلڈرن‘ کے لیے بکر انعام ملا تھا۔ اس کے بعد اِسی ناول کو بکر انعام کے پچیس برس کے بہترین بکر انعام یافتہ کتب کا اعزاز ’بکر آف بکرز‘ کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ لیکن اس سال کے بکر انعام کی حتمی فہرست پر نا صرف سلمان رشدی بلکہ ماضی میں بکر انعام جیتنے والے دو اور مصنف اِئین مکیوان اور جے ایم کوٹزی بھی شامل نہیں۔ بُکر شارٹ لِسٹ میں کون سے مصنف شامل ہیں ہیں؟ جولین بارنز کو ان کی کتاب ’آرتھر اینڈ جارج‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ کہانی شرلوک ہولمز کے خالق سر آرتھر کونن ڈوئل کے بارے میں ایک سچے قصے پر مبنی ہے۔
جولین بارنز کو تیسری مرتبہ بکر انعم کے لیے منتخب گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ اپنے ناول ’فلوبیرٹس پیرٹ‘ اور ’انگلینڈ انگلینڈ‘ کے لیے نامزد ہوئے تھے تاہم دونوں مرتبہ یہ انعام نہ جیت سکے۔ جاپانی نژاد مصنف کازوو اشیگورو کو ان کی کتاب ’نیوور لیٹ می گو‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ اشیگورو اس فہرست میں واحد مصنف ہیں جو پہلے یہ انعام جیت چکے ہیں۔ ان کو یہ اعزاز انیس سو اناسی میں ان کے ناول ’ریمینز آف دی ڈے‘ کے لیے ملا تھا۔
زیڈئ سمتھ کو ان کی نئی کتاب ’آن بیوٹی‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے پہلے ناول ’وائٹ ٹیتھ‘ کے بعد برطانیہ میں انہیں صف اول کا ناول نگار سمجھا جاتا ہے۔ ائرِش ناول اور ڈرامہ نگار سیبیسٹیان بیری کو ان کی کتاب ’اے لانگ لانگ وے‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ ایک آیرِش فوجی کی کہانی ہے جو پہلی عالمی جنگ میں برطانوی فوج کے لیے لڑتا ہے۔ جان بینویل کا بھی تعلق ائرلینڈ سے ہے اور ان کو ان کی نئی کتاب ’دی سی‘ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ ایک شخص کی کہانی ہے جو بچپن میں اس کے ساتھ پیش آنے والے کچھ واقعات سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایلی سمتھ کو ان کے ناول ’دی ایکسِڈینٹل‘ کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ اس کہانی میں ایک خاندان کا چھٹیوں کے دوران ایک اجنبی لڑکی سے ملاقات کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ بکر انعام جیتنے والے مصنف کے نام کا اعلان دس اکتوبر کو ایک تقریب میں کیا جائے گا۔ جیتنے والے مصنف کو اس سے شہرت کے علاوہ پچاس ہزار پاؤنڈ رقم بھی ملے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||