| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گمنام ناول نگار بکر انعام جیت گئے
پہلی دفعہ ناول لکھنے والے آسٹریلوی ناول نگار ڈی بی سی پیئر کو سن دو ہزار تین کا بُکر انعام دیا گیا ہے۔ انہیں یہ انعام ان کے مزاحیہ ناول ورنن گوڈ لِٹل پر دیا گیا ہے۔ برطانیہ کا یہ اعلیٰ ترین ادبی انعام گزشتہ بارہ مہینوں کے بہترین ناول کو دیا جاتا ہے جس کے مصنف دولتِ مشترکہ کے کسی ملک یا جمہوریہ آئرلینڈ سے ہوں۔ پیئر کو اس انعام میں پچاس ہزار پاؤنڈ انعامی رقم دی گئی ہے اور اس کے علاوہ کتابوں کی خریدوفروخت اور پبلسٹی سے بھی انہیں رقم ملے گی۔ ورنن گوڈ لِٹل جدید امریکہ پر ایک طنز ہے اور یہ کہانی امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک دس سالہ بچے کی کہانی ہے جو ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتا ہے جہاں ایک مسلح شخص نے مقامی سکینڈری سکول کے سولہ طالبِ علموں کا قتل عام کر دیا تھا۔
بیالیس سالہ پیئر تیسرے آسٹریلوی باشندے ہیں جنہوں نے گزشتہ پینتیس سالوں میں یہ انعام جیتا ہے۔ ججوں کے چیئرمین پروفیسر جان کیرے نے کہا ہے کہ انہوں نے پیئر کو ایک کے مقابلے میں چار ووٹ سے چنا ہے۔ پیئر کا اصل نام پیٹر فِنلے ہے اور انکے فرضی نام ڈی بی سی سے بنتا ہے ڈرٹی بٹ کلین یعنی گندے مگر صاف پیئر۔ انعام جیتنے کے بعد انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انعام کی بیشتر رقم ان پر چڑھا ہوا قرضہ اتارنے میں صرف ہو جائے گی۔ ’یہ میری جیب کو چھو بھی نہیں سکے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ (رقم) قرض خواہوں کو چلے جائے گی۔ اگر وہ یہاں موجود نہیں ہیں تو مجھے یقین ہے ایک منٹ کے بعد وہ یہاں پہنچنے والے ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||