ہولنگ ہرسٹ بکر انعام جیت گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ناول نگارہولنگ ہرسٹ کو سن دو ہزارچار کا بُکر انعام دیا گیا ہے۔یہ انعام ان کے ناول’لائن آف بیوٹی‘ پر دیا گیا ہے۔ برطانیہ کا یہ اعلیٰ ترین ادبی انعام گزشتہ بارہ مہینوں کے بہترین ناول کو دیا جاتا ہے جس کے مصنف دولتِ مشترکہ کے کسی ملک یا جمہوریہ آئرلینڈ سے ہوں۔ پچاس سالہ ہولنگ ہرسٹ نے بکر انعام ملنے کے بعد کہا کہ وہ اس اعلان سے بہت ہی خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لگن کے ساتھ ادبی کام کرنے کے صلے میں ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس انعام سے پہلے انہیں پتا نہیں تھا کہ ادب میں وہ کس مقام پر ہیں اور وہ اپنے آپ کو باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ اس انعام کے حقدار نہیں ہیں۔ لائن آف بیوٹی کی کہانی مارگریٹ تھیچر کے دور کے گرد گھومتی ہے جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا ایک گریجویٹ نک گیسٹ جو ایک کنزرویٹو ممبر اسمبلی کے گھر میں رہتا ہے سیاہ فام کونسل ورکر کے ساتھ محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔نک گیسٹ بعد میں کوکین کے نشہ کے عادی ایک کروڑ پتی کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ بکر انعام کا اعلان کرنے والے بینچ کےسربراہ کرس سمتھ نے کہا ہے کہ اس سال انعام کے لیے نامزد ہونے ادیبوں نے کافی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہولنگ ہرسٹ کے تین ناولوں کے درمیان مقابلہ تھا لیکن بیوٹی آف لائن بہت ہی خوبصورت ناول ہے۔ کرس سمتھ نے کہا کہ ہولنگ ہرسٹ اس سے پہلے ہم جنسوں کے مشہور رائٹر تھے اب اس انعام کے بعد ان کے ادبی رتبے میں اضافہ ہو گا جس کے وہ حق دار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||