| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مونیکا علی ’بُکر پرائز‘ کے لئے نامزد
برطانیہ کے مشہور ادبی انعام ’بُکر پرائز‘ کے لئے چھ حتمی نامزدگیوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور اس میں سر فہرست ایک بنگلہ دیشی نژاد مصنفہ کی کتاب ہے۔ پینتیس سالہ مونیکا علی کا اس سال چھپنے والا پہلا ناول ’برک لین‘ ادبی دنیا میں کافی مقبول ہوا ہے۔ اب برطانیہ کے سٹے بازوں نے اس کتاب کے بُکر انعام جیتنے کے امکانات کو دوسری کتابوں کے مقابلے میں بہت قوی قرار دیا ہے۔
’برک لین‘ نازنین نامی ایک کردار کی کہانی ہے جو شادی کے بعد بنگلہ دیش کے ایک گاؤں سے لندن کے مشرقی علاقہ بِرک لین میں رہنے آتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے اور جہاں غربت اور دیگر مسائل عام ہیں۔ نازنین خاموشی سے گھر کے کام اور خاوند کی خدمت میں لگی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کو اس اجنبی ماحول کی سمجھ آنے لگتی ہے۔ نازنین کے میاں کو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھی نوکری نہیں ملتی۔ نازنین خود ایک کپڑے بنانے والی فیکٹری کے لئے سلائی کا کام گھر سے کرنے لگتی ہے اور اسی طرح اس کی کریم سے ملاقات ہوتی جو اس کے پاس سلائی کا کام لے کر آتا ہے۔ کریم کے ذریعے نازنین کو برطانیہ میں مسلمان نوجوانوں کے مسائل اور ان نوجوانوں کو اسلام کے نام پر آپنے آپ کو منظم کرنے کے جذبے کا معلوم ہوتا ہے۔ برطانوی معاشرے میں بنگلہ دیشی نژآد خاندانوں کے مسائل اور پریشانیوں کو اس کہانی میں خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ لندن آنے والے ان تارکین وطن کی سب سے بڑی خواہش وطن واپسی کی ہے۔ لندن میں بیٹھ کر وہ وطن واپس جانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک مغربی اور غیر اسلامی معاشرے میں بچوں کی پرورش بھی ان تمام افراد کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ دکھایا گیا ہے۔کتاب میں والدین بچوں کی غیر مہذب حرکتوں سے پریشان ہوتے اور بچے یا تو والدین سے تنگ ہوتے ہیں یا پھر اپنی شناخت کے لئے ’مسلمان تنظیمیں‘ قائم کر لیتی ہیں۔ نازنین کی کہانی کے ساتھ اس کی بہن حسینہ کی کہانی بھی اس کے بنگلہ دیش سے بھیجے ہوئے خطوط کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ حسینہ دونوں بہنوں میں زیادہ خوبصورت تھی اور اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ ظالم میاں سے نجات حاصل کر کے وہ گھر سے بھاگ جاتی ہے اور ڈھاکہ میں اسے دیگر مشکلات اور مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’برک لین‘ برطانوی معاشرے میں تارکین وطن کی داستانوں کی ایک اور مثال ہے اور حال میں اس نوعیت کی کئی کہانیاو مقبول ہوئی ہیں جن میں مصنفہ زیڈی سمتھ کی کتاب ’وائٹ ٹیٹھ‘ قابل ذکر ہے، جس میں ایک بنگلہ دیشی خاندان اور ایک برطانوی اور ویسٹ انڈین مخلوط خاندان کی کہانی بیان کی گئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |