اسلام میں اجتہاد کی ضرورت ہے: رشدی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متنازع مصنف سلمان رشدی نے کہا ہے کہ اسلام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اجتہاد کی ضرورت ہے۔ لندن کے اخبار دی ٹائمز میں چھپنے والے مضمون میں سلمان رشدی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کی ایک وسیع تر تشریح سے نا صرف مسلمانوں کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ مسلم کمیونٹی میں پائی جانے والے بیگانگی میں کمی آئے گی۔ سلمان رشدی کے مطابق اصلاح کے اس عمل سے ان جہادی عناصر پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی جو سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے کچھ علاقوں میں مسلمان دیگر کمیونٹیوں سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ سلمان رشدی نے کہا کہ ایسی صورت حال میں نوجوان نسل کے معاشرے سے کٹ جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ’ضرورت اس امر کی ہے کہ روایت سے آگے بڑھا جائے اور اصلاح کے اس عمل میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ’یہ اسلام کی تشکیل نو کی ایسی تحریک ہونی چاہیے جو نہ صرف جہادی عناصر کا مقابلہ کرے بلکہ روایت پسندوں کے زیر تسلط مدرسوں کے دروازے بھی کھولے جائیں اور تازہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ تبدیل ہونا چاہیے اور اسے ایک ’غلطیوں سے پاک‘ چیز سمجھنے کے بجائے اس کا ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت مطالعہ کیا جانا چاہیے۔ سلمان رشدی نے کہا کہ قرآن کے بارے میں ہمارے موجودہ رویے نے اس کے بارے میں کسی بھی طرح کی دانشورانہ گفتگو ناممکن بنا دیا ہے۔ ’تاہم اگر ہم قرآن کا ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت سے جائزہ لیں تو ہمارے لیے ممکن ہوگا کہ ہم اس کے ایسے نئی معانی تلاش کریں جو نئے زمانے کے عین مطابق ہوں۔‘ ’اسی طری ہم ساتویں صدی میں بنائے گئے قوانین کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر پائیں گے۔‘ ’اصلاحِ اسلام اس نقطے سے شروع ہونی چاہیے کہ ہم تسلیم کریں کہ تمام نظریات، چاہے وہ الوہی نظریات ہی کیوں نہ ہوں‘ کو وقت کے ساتھ بدلنا ہو گا۔‘ یادرہے کہ سلمان رشدی کی متنازع ناول ’دی سٹینک ورسز‘ کی اشاعت کے بعد ان کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ کئی سالوں تک عوامی زندگی سے الگ تھلگ کڑی سکیورٹی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ایران کے سابق روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے ان کے قتل کا فتویٰ فروری انیس سو نواسی میں دیا تھا۔ سلمان رشدی کا زیر اشاعت ناول ’شالیمار دی کلاؤن‘ ایک نوجوان مسلمان لڑکے کے بارے میں ہے جو کو انتہاپسند مذہبی عناصر کی رہنمائی نے ایک اسلامی ’دہشت گرد‘ بنا دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||