سلمان رُشدی پاکستانی فلم میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تو لیجئے پاکستان کی فلمی تاریخ کا قافلہ اب 1990 کے عشرے میں داخل ہو رہا ہے۔ سن نوّے کی فلمی دہائی واضح طور پر دو حصّوں میں بٹی ہوئی ہے: پہلے پانچ برسوں میں ہر طرف سلطان راہی دکھائی دیتے ہیں اور آخری پانچ برسوں میں اُن کی اچانک موت سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے فلم ساز ہاتھ پاؤں مارتے نظر آتے ہیں۔ فلموں کو بیک وقت اُردو اور پنجابی میں بنانے کا جو رواج سن اسی کی دہائی میں چل نکلا تھا وہ آئندہ عشرے میں بھی جاری رہا اور ذُو لسانی فلموں کی ایک بڑی تعداد منظرِعام پر آئی۔ صرف 1990 کے ایک سال میں ایسی9 فلمیں ریلیز ہوئیں یعنی جنگجو گوریلے (نیلی۔ جاوید شیخ)، مِس قلوپطرہ (بابرہ۔ غلام محی الدین۔ سلطان راہی)، تیزاب (گوری۔ عجب گُل)، راجہ (ندیم۔ نادرہ)، نگینہ (شان۔ مدیحہ شاہ)، کالا پانی (بابرہ۔ عجب گُل)، زہریلے (ریما۔ جاوید شیخ)، نمبر ون (سلمیٰ آغا۔ اظہار قاضی)، اور ڈاکہ (عجب گُل۔ شاہدہ منی)۔ یہ تمام فلمیں بیک وقت اُردو اور پنجابی میں تیار ہوئی تھیں لیکن اس سلسلے کی معروف ترین فلم لاہور میں ایورنیو سٹوڈیو کے مالک ایس اے گُل نے تیار کی، نام تھا ’انٹر نیشنل گوریلے‘ اور موضوع تھا سلمان رُشدی۔ 1990 میں ریلینر ہونے والی اس فلم کے مصنف تھے ناصر ادیب جِن کا ذکر ہم مولا جٹ اور میڈم باوری کے ضمن میں پہلے بھی کر چکے ہیں۔
دنیا کے مختلف شہروں میں کئی ماہ تک اس ناول اور اسکے مصنف کے خلاف احتجاج جاری رہا تھا اور چوراہوں میں اس کتاب کی کاپیاں نذرِآتش کرنے کے مناظر ہر روز ٹی وی پر دیکھے جا سکتے تھے۔ ایران کی مذہبی قیادت کی جانب سے رُشدی کے قتل کا فتویٰ جاری ہونے کے بعد کئی مسلم ملکوں کے افراد رُشدی کی تلاش میں قریہ قریہ گھوم رہے تھے اور رُشدی سرکاری پہرے اور ذاتی محافظوں کے تنگ حلقے میں ایک قیدی کی زندگی گزار رہا تھے۔ رُشدی کا آبائی وطن بھارت تھا لیکن وہ برطانیہ کے شہری بن چُکا تھے۔ ان کے متنازعہ ناول کے خلاف سب سے شدید ردِ عمل بھی بھارت، پاکستان اور انگلستان میں ہوا۔ ایک ایسی صورتِ حال پر فلم تحریر کرنا جو لمحہ بہ لمحہ بدل رہی ہو ایک بہت بڑا چیلنج تھا چنانچہ اسے قبول کرنے کے لئےمشہور مصنف ناصر ادیب ہی کو آگے آنا پڑا۔ 27 اپریل 1990 کو ریلیز ہونے والی فلم ’انٹرنیشنل گوریلے‘ کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ یہودیوں کے ایجنٹ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانا چاہتے ہیں جِن کا سر خیل سلمان رُشدی ہے اور وہ مقامی پولیس کی اعلیٰ کمان میں اثر و رسوخ پیدا کر چکا ہے۔
اُدھر رُشدی ایک دور دراز یورپی جزیرے میں مقیم ہے جِس کے ارد گرد سخت پہرہ ہے۔ اُسے اپنے جاسوسوں کے ذریعے خبر مِل جاتی ہے کہ پاکستانی سرفروش اُس کی تلاش میں وہاں تک آن پہنچے ہیں۔ رُشدی ان حملہ آوروں کو ہلاک کروانےکی کئی کوششیں کرتا ہے لیکن کامیابی نہیں ہوتی۔ اس دوران میں دو عرب شیخ اسلحہ کا سودا کرنے کی غرض سے رُشدی تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور جلد ہی اُس کے بے تکلف دوست اور قریبی ہم راز بن جاتے ہیں لیکن جونہی موقع ملتا ہے یہ دونوں جعلی شیخ (رنگیلا اور البیلا) سکیورٹی کے سارے راز پاکستانی سرفروشوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ حالات کا پانسہ پلٹتا دیکھ کر رُشدی ایک نئی چال چلتا ہے اور دھوکے سے ایک سرفروش (مصطفٰی قریشی) کی بیوی کو جزیرے میں بلا لیتا ہے۔ جونہی بیوی ائرپورٹ پہ پہنچتی ہے رُشدی اُسے اغوا کر کے اپنی پناہ گاہ میں قید کر دیتا ہے تاکہ حملہ آوروں کو بلیک میل کر سکے۔ اپنی بے پناہ عسکری طاقت اور ایک بہت بڑی ذاتی ملیشیا کی بدولت رُشدی ہر حملے میں بچ نکلتا ہے لیکن آخر کار سرفروشوں کی دُعائیں رنگ لاتی ہیں اور وہی رُشدی، جسے کوئی زمینی طاقت زیر نہ کر سکی تھی، اُس پر آسمانی بجلی گرتی ہے اور وہ بھسم ہو کر رہ جاتا ہے۔
رُشدی کا کردار ادا کرنے کے لئے افضال احمد کا انتخاب انتہائی موزوں تھا کیونکہ رشدی کو تکّبر اور نخوت والا کردار بنا کر پیش کیا گیا تھا لہذا اس کی نمائندگی اِس خوبی سے کوئی اور اداکار نہ کر سکتا تھا۔ ایک بدعنوان پولیس افسر کے روپ میں ٹیلی وژن کے پروردہ فنکار منصور بلوچ نے بھی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ہدایتکار جان محمد نے تمام فنکاروں سے ان کی بہترین پرفارمنس حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ میں انٹرنیشنل گوریلے کی نمائش کو ابتدا میں اس بنیاد پر ممنوع قرار دے دیا گیا تھا کہ اس میں ایک زندہ سلامت برطانوی شہری (سلمان رُشدی) کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اور مذہبی بنیاد پر اسکی کردار کشی کی گئی ہے۔ تاہم خود روپوش سلمان رشدی نے انہی دنوں اخبارات میں ایک بیان جاری کیا کہ پاکستانی مصنّف اور ہدایتکار کو آزادیء اظہار کا پورا حق ہے چنانچہ فلم کی نمائش پر پابندی نہیں ہونی چاہیئے۔ انٹرنیشنل گوریلے کی عالمگیر کامیابی کے فوراً بعد ہدایتکار عزیز تبسم نے جنگجو گوریلے کے نام سے ایک ایکشن فلم ریلیز کی لیکن جاوید شیخ، نیلی عجب گُل اور مصطفٰی قریشی جیسی اعلٰی کاسٹ کے باوجود اسے وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو انٹرنیشنل گوریلے کے مقدّر میں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||