BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگالی آرٹ اور پنجابی ایکشن

کویتا: سن 80 کے عشرے کی مقبول اداکارہ
کویتا: سن 80 کے عشرے کی مقبول اداکارہ
مشرقی پاکستان سے آنے والے فلمی کارکنوں اور اداکاروں پر اچھی کاکردگی کی مہر ثبت تھی۔ جس طرح شبنم اور رحمان نے اداکاری کے میدان میں اپنا الگ الگ انداز دکھایا تھا اسی طرح روبن گھوش نے موسیقی میں اور نذرالاسلام نے ہدایتکاری میں رنگ جمایا۔

ڈھاکہ انڈسٹری کے پیچھے کلکتہ سکول کی تخلیقی قوت کارفرما تھی اور نیو تھیٹرز کی شاندار روایت کی گونج بہت عرصہ بعد تک بھی سنائی دے رہی تھی۔

اداکار رحمان نے جو بنگلہ دیش قائم ہونے کے بعد وہیں منتقل ہو گئے تھے، اپنے آخری دنوں کے ایک انٹرویو میں پنجاب اور بنگال کے فنکارانہ مزاج کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈھا کے میں فلمی لوگ اپنے فارغ اوقات میں شعر و ادب کی کتابیں پڑھتے تھے یا سنگیت سے دل بہلاتے تھے لیکن لاہور کے فلمی کارکنوں کا محبوب ترین مشغلہ گوجرانوالہ جا کر چِڑے اور کباب تکّے کھانا تھا۔

شعر و ادب اور رقص و موسیقی کی روایت میں ڈوبے ہوئے بنگالی فنکاروں کے لیئے کڑاہی تکّے کی دُکانوں سے بھرا ہوا میکلوڈ روڈ ایک انوکھا تجربہ تھا لیکن یہ لوگ اپنا، ادب، آرٹ کلچر وغیرہ کا پس منظر ترک نہیں کر سکتے تھے چنانچہ اِن کے کام میں ایک خاص طرح کی ’ کوالِٹی‘ اور نفاست ہمیشہ موجود رہی۔

سلطان راہی کے بعد ایکشن فلموں کے مقبول ترین اداکار مصطفٰی قریشی

پاکستان کی فلم انڈسٹری میں سن 80 کے عشرے کا آغاز بنگالی ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم ’بندش‘ سے ہوا تھا جس کا مفصّل ذکر ہم پچھلی بار کر چکے ہیں لیکن سن 80 کی دوسری اہم ترین فلم بھی نذرالاسلام ہی کی ڈائریکشن میں بنی تھی، نام تھا: ’نہیں۔ابھی نہیں‘۔

کہانی کے اعتبار سے یہ فلم یقیناً ایک آرٹ مووی تھی کیونکہ اس میں کہیں بھی بارہ مصالحے والی فلمی کہانی کا فارمولہ نظر نہیں آتا ۔

فیصل رحمان گاؤں سے آیا ہوا ایک سیدھا سادہ طالبعلم ہے اور اسی بھولپن میں اپنے سے کئی سال بڑی عورت (شبنم) کے عشق میں گرفتار ہوجاتا ہے، لیکن جب شادی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو وہی شبنم جو اتنی مہرومحبت سے پیش آیا کرتی تھی، یک دم طیش میں آجاتی ہے اور اسے گھر سے نکل جانے کو کہتی ہے۔ اب فیصل پر انکشاف ہوتا ہے کہ شبنم تو اسے اپنے چھوٹے بھائی کی جگہ سمجھتی تھی جس کا بچپن ہی میں انتقال ہو چکا تھا۔

فیصل اس انکشاف پر اتنا بددل ہوتا ہے کہ خودکشی کی کوشش کرتا ہے لیکن بروقت امداد اور والدین کی بھاگ دوڑ اور کوشش سے اس کی جان بچ جاتی ہے۔ اس نئی عطا ہونے والی زندگی میں فیصل ایک بالکل نیا انسان بن کر نمودار ہوتا ہے۔ وہ ساری توجہ پڑھائی پر صَرف کر دیتا ہے اور جب اس کی زندگی میں آرزو نامی ایک نوجوان شوخ اور چنچل حسینہ داخل ہوتی ہے جو کہ ہر لحاظ سے اس کے جوڑ کی ہے تو فیصل ایک لمحے کو کچھ سوچتا ہے۔۔۔ اور دِل میں لڑکی کو قبول کر لیتا ہے، لیکن تعلیم ختم کرنے سے پہلے وہ عشق کے چّکر میں نہیں پڑنا چاہتا، چنانچہ لڑکی کو صرف اتنا جواب دیتا ہے:’نہیں۔ابھی نہیں‘ اور یہی اس فلم کا ٹائٹل ہے۔

جاوید شیخ اور نیلی کی جوڑی نے دھوم مچا دی

جیسا کہ آپ خود محسوس کر سکتے ہیں کہ اس کہانی میں کسی کمرشل فارمولے پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ عنفوانِ شباب کی سرمستی کو موضوع بنایا گیا ہے۔

یہ کہانی اُس وقت کے اُبھرتے ہوئے رائٹر سیّد نور نے لکھی تھی جوکہ چار سال قبل فلم ’سوسائٹی گرل‘ کا سکرپٹ لکھ کر فلمی مصنّفین کے قافلے میں شامل ہوئے تھے اور ایک ہی برس پہلے انھوں نے ٹی وی ڈرامے’دبئی چلو‘ کو فلمی تقاضوں کے مطابق ایک سکرین پلے کی شکل میں ڈھال کر اپنی قوتِ تحریر کا لوہا منوایا تھا۔

یہ زمانہ وہ تھا جب فلم رائٹنگ کے میدان کے واحد شہسوار ناصر ادیب تھے اور فلم نگری کے کونے کونے میں انہیں کے نام کا ڈنکہ بج رہا تھا۔

ایک ایسے مستند فلم رائٹر کے مقابلے میں نوجوان سید نور کی حیثیت شہباز کے مقابل ممولے سے زیادہ نہ تھی لیکن ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات سب کو نظر آرہے تھے۔

مولاجٹ کی بے مثال کامیابی کے بعد ناصر ادیب سکرپٹ رائٹروں کے سردار قرار دیا جا چکے تھے لیکن ان کے موضوعات زن، زر اور زمین سے باہر نہ نکل سکے تھے جبکہ سیّد نور نے ایک ’ٹین ایجر ‘ کے جسمانی اور ذہنی اُبال کو موضوع بنا کر ثابت کر دیا تھا کہ وہ محبت کی تکون کے فارمولے سے باہر نکل کر بھی سوچ سکتے ہیں۔

نیلی اپنے وقت کی معروف اداکارہ تھیں

ناصر ادیب نے بھی 1988 میں اپنی ٹوپی سے ایک نیا خرگوش نکالا لیکن اُس کی تفصیل میں جانے سے پہلے اُس عشرے کے دوران پاکستانی فلم کی عمومی حالت پر ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔

پاکستان میں یہ ضیاالحق کا دور تھا جب آرٹ اور کلچر کے خلاف ایک غیر اعلانیہ سی جنگ جاری تھی۔ رقص اور پاپ میوزک پر باقاعدہ پابندی عائد تھی۔ تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلم پر سخت ترین سنسر نافذ تھا۔ شراب نوشی، جُوا، ریس اور طوائفوں کے مناظر دکھانا ممنوع تھا۔ کسی شادی شدہ مرد یا عورت کا کہیں اور معاشقہ نہیں دکھایا جا سکتا تھا اور کسی سرکاری افسر خاص طور پر پولیس والوں کو رشوت لیتے ہوئے دکھانے کی اجازت نہیں تھی۔

ٹیلی ویژن اور فلم کے لئے الگ الگ سنسر قوانین تھے۔ ٹی وی پر بد عنوان پولیس والوں کو بے نقاب کرنے کی اجازت تھی لیکن فلم میں اس پر پابندی تھی۔ دوسری جانب ٹی وی پر کوئی عورت دوپٹے کے بغیر نمودار نہ ہو سکتی تھی خواہ اُس کا کردار ایک بُری عورت ہی کا کیوں نہ ہو۔

1986 میں کچھ عرصے کے لیئے ٹی وی میں مردوں کے سوٹ پہننے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی اور کُرتے کا سب سے اوپر والا بٹن بند کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا۔

نادرہ کا دورِ عروج مختصر مگر بھرپور تھا

اسی طرح کی مضحکہ خیز صورتِ حال فلمی مناظر میں اُس وقت پیش آتی جب چَھٹے ہوئے بدمعاش اپنے خفیہ تہہ خانے کے اندرعیش و عشرت میں ڈُوبے دکھائے جاتے لیکن ساقی کے فرائض انجام دینے والی خاتون اُن کے گلاسوں میں شراب کی جگہ کوکا کولا اُنڈیل رہی ہوتی۔

اِن تمام تر پابندیوں کے باوجود سن 80 کے عشرے میں ساڑھے آٹھ سو کے قریب فلمیں پروڈیوس ہوئیں جن میں نصف کے قریب پنجابی فلمیں تھیں، ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ اُردو فلمیں اور اُن سے ذرا ہی کم پشتو فلمیں تھیں۔

اِن فلموں کی فہرست پر ایک سرسری سی نگاہ بھی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ صحیح معنوں میں ایکشن فلموں کا دور تھا مثلاً دشمن میرا یار، حراست، شکنجہ، بدمعاشی بند، سمگلر، یار دُشمن، بہرام ڈاکُو، لہو دے رشتے، جھگڑا، دُشمن دار، کالا روپیہ، خانِ اعظم، گبھرو، شیر میدان دا، جُرم تے انصاف، گَن مین، کالا دھن گورے لوگ، جٹ دا ویر، سنگرام، وریام، اتھرا تے جی دار، قانون شکن، بشیرا تے قانون، توڑ دیو زنجیراں، رُستم، زہریلا دُشمن، جی او شیرا، سلطان تے وریام، اُجرتی قاتل، ہنڈرڈ رائفلز، کالیا، بلیک میل، وحشی ڈاکو، چڑھدا سورج، جرم اور سزا، ایجنٹ 009 ، خطرہ 440 وولٹ، مراد خان، ہیبت خان، دہشت خان، کالا سمندر، بارڈر بُلٹ، باغی شیر، وڈا خان، وحشی ٹولہ، جہاد، جگّا تے شیرا، ایمان تے فرنگی اور آگ کا سمندر وغیرہ۔

ظاہر ہے اِن ایکشن فلموں میں سے بہت کم ایسی تھیں جو کہ باکس آفس پہ کامیاب ہوئیں کیونکہ اِن فلموں کی اکثریت محض بھیڑ چال کے تحت پروڈیوس ہوئی تھی۔

آج کی نشست ختم کرنے سے قبل اُس ایکشن فلم کے بارے میں کچھ گفتگو ضروری ہے جس کی جانب ہم نے کچھ دیر پہلے اشارہ کیا تھا۔ یعنی 1988 میں بننے والی فلم ’میڈم باوری‘۔

پنجاب اور بنگال کا فرق
 ڈھا کے میں فلمی لوگ اپنے فارغ اوقات میں شعر و ادب کی کتابیں پڑھتے تھے یا سنگیت سے دل بہلاتے تھے لیکن لاہور کے فلمی کارکنوں کا محبوب ترین مشغلہ گوجرانوالے جاکر چِڑے اور کباب تکّے کھانا تھا
اداکار رحمان

اس فلم کا عالمی شہرت یافتہ ناول ’مادام بواری‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ناصر ادیب نے ہر طرح کے سنسر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اس کہانی میں ایسا مصالحہ بھر دیا تھا کہ یہ گستاوفلابئیر کے کلاسیکی ناول سے بھی زیادہ متنازعہ بن گئی تھی۔

ناصر ادیب کی کہانی ایک ایسی نادار عورت کے گرد گھومتی ہے جو بھوک، غُربت، ارد گرد کے لوگوں کی جِنسی ہوس، پولیس کے ظلم و ستم اور عدالتی نظام کے کھوکھلے پن سے تنگ آ کر بغاوت پر اُتر آتی ہے اور موقعہ ملنے پر سب سے گِن گِن کے بدلے لیتی ہے۔

اس فلم میں لڑائی مار کُٹائی کے مناظر سے لیکر منشیات کی سمگلنگ، بلیک میلنگ، ریپ، جیل سے فرار، اصلی اور نقلی پولیس مقابلے اور تھانے کچہری سے لیکر ہسپتال اور پاگل خانے تک ہر وہ لوکیشن اور سچویشن موجود تھی جو ایک ایکشن فلم کو کامیابی کی ضمانت بخشتی ہے۔

سن 80 کے عشرے کے آخری برسوں میں بننے والی یہ فلم اس لحاظ سے بھی قابلِ ذِکر ہے کہ بنگالی ڈائریکٹر نذرالاسلام نے اُردو کے بعد پنجابی فلموں کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا تھا: میڈم باوری کے دو ورژن اُردو اور پنجابی میں الگ الگ تیار ہوئے۔ یہ ذُو لِسانی تجربہ اتنا کامیاب رہا کہ اسکے بعد دونوں زبانوں میں فلم بنانے کا رواج چل نکلا اور میڈم باوری کے بعد ایک سال کے اندر اندر کم از کم چھ فلمیں ایسی ریلیز ہوئیں جو بیک وقت اُردو اور پنجابی میں تیار ہوئی تھیں یعنی: بادشاہ (کویتا۔ اسماعیل شاہ) رنگیلے جاسوس (نیلی۔ جاوید شیخ) ناگن جوگی (نادرہ۔ غلام محی الدین) امیر خان (نیلی سلطان راہی) زخمی عورت (نادرہ۔ جاوید شیخ) اور قیامت سے قیامت تک (نائلہ۔ عجب گُل)۔

اسی بارے میں
لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا!
19 March, 2006 | فن فنکار
وحید مُراد کا زمانہ
03 February, 2006 | فن فنکار
جب پہلی بامقصد فلم بنی
30 September, 2005 | فن فنکار
لالی وڈ آج اور کل، قسط 11
19 September, 2005 | فن فنکار
لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط
23 August, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد