BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی فلموں کا ’دورِ سلطانی‘

سلطان راہی
سلطان راہی کی ایک دن میں پانچ فلمیں ریلیز ہوئیں
پاکستانی فلموں کے زرخیز دور (80 -1965) کا ذکر ختم کرنے سے پہلے اس کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ انتہائی ضروری ہے، یعنی پاکستانی سینما کے میدان میں پشتو فلموں کی آمد۔

یوں تو سن ستر کے آس پاس ہمیں پشتو فلموں کی اِکا دُکّا مثالیں نظر آجاتی ہیں لیکن سن 74، 75 اور 76 کے تین برسوں میں سولہ پشتو فلمیں منظرِ عام پر آئیں جِن میں: دِیدن، دہقان، ناوےدیوشے، خانہ بدوش، بازاؤ شہباز، کوچوان اور ارمان (یاسمین خان ، آصف خان) کو خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔

اگر لاہور کے کسی عام شہری سے سوال کیا جائے کہ پشتو فلمیں سب سے زیادہ کس شہر میں دیکھی جاتی ہیں تو وہ کھٹاک سے جواب دے گا’پشاور‘ لیکن یہ تاثر غلط ہے کہ پشتو فلمیں اہلِ پشاور یا اہلِ کوئٹہ کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ اِس وقت ساری دنیا میں پٹھان بھائیوں کی سب سے بڑی تعداد کراچی میں آباد ہے اور پشتو فلموں کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی شہر کراچی ہی رہا ہے۔

پنجابی فلموں کی طرح پشتو فلمیں بھی مردانگی، دوست کی خاطر قربانی، قول نبھانے کے لیئے جان کی بازی، غیرت کی خاطر خون خرابہ اور انتقام وغیرہ کے موضوعات پر بنائی جاتی ہیں۔ رقص، موسیقی، فائٹ اور سٹنٹ یہاں بھی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سلطان راہی 1980 کے عشرے میں پاکستان کی فلم نگری کا بے تاج بادشاہ بن گئے

1980 کے عشرے کا آغاز ہوا تو گنڈاسا بدست سلطان راہی ہماری سکرین کی دنیا پر ایک دیو کی طرح چھائے ہوئے تھے اور آنے والے پندرہ برسوں میں کوئی دنیاوی طاقت سلطان راہی کو اس ہمہ گیر منصب سے ہلا نہ سکی لیکن جنوری 1996 میں موت کے بے رحم پنجے نے شہرت و مقبولیت کے تخت سے کھینچ کر اُنہیں عدم کے لق و دق صحرا میں لے جا پھینکا۔ جب سلطان راہی نے اس دنیا سے کُوچ کیا تو اُن کی 54 فلمیں زیرِ تکمیل تھیں جو کہ دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے۔

سلطان راہی کی سلطانی و حکمرانی کے یہ پندرہ برس ہماری فلمی تاریخ میں ایکشن فلموں کا زمانہ شمار ہوتے ہیں لیکن اس منصب تک پہنچنے کے لئے سلطان راہی کو جدو جہد کے ایک طویل دور سے گزرنا پڑا تھا۔

راقِم نے اپنے ہائی سکول کے زمانے میں (64-1963 ) لاہور کے اوپن ائر تھیٹر میں ایک کھیل دیکھا تھا: ’کاغذ کے پھول‘جس میں سلطان راہی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ دیگر اداکاروں میں مجھے صرف عطیہ شرف اور راج رانی (نجمہ بیگم) کی جھلک یاد رہ گئی ہے۔

سلطان راہی کو اُردو کی اُس ڈرائنگ روم کامیڈی میں دیکھنے کے بعد کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ درست شین۔قاف کے ساتھ ایسی نستعلیق زبان بولنے والا یہ نوجوان ایک روز خون آلود گنڈاسوں اور گولیاں اگلتی کلاشنکوفوں والی جدال و قتال سے بھرپور پنجابی فلموں کا سُپر سٹار بنے گا۔۔۔ لیکن فلم نگری میں کچھ بھی ممکن ہے۔

پشتو فلموں کی نوعیت
 پنجابی فلموں کی طرح پشتو فلمیں بھی مردانگی ، دوست کی خاطر قربانی، قول نبھانے کے لئے جان کی بازی، غیرت کی خاطر خون خرابہ اور انتقام وغیرہ کے موضوعات پر بنائی جاتی ہیں۔ رقص، موسیقی، فائٹ اور سٹنٹ یہاں بھی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سلطان راہی نے سن پچاس کے عشرے میں ایک ایکسٹرا بوائے کے طور پر فلمی کیرئرکا آغاز کیا تھا لیکن انھیں نمایاں کردار سن ستر کے عشرے میں ملنے شروع ہوئے جن میں بشیرا (1972 ) اور وحشی جٹ (1975 ) نے اُن کی بقیہ فلمی زندگی کا راستہ متعین کر دیا۔ مولا جٹ کی بے مثال کامیابی کے کچھ عرصہ بعد اُن کی پانچ فلمیں ایک ہی دن ریلیز ہوئیں ۔ دِن تھا 12 اگست 1981 کا اور فلمیں تھیں:
شیر خان، سالا صاحب، چن وریام، اتھرا پُتر اور ملے گا ظلم دا بدلہ۔

اس موقع پر ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا جب ’شیر خان‘ اور ’سالا صاحب‘ نے ڈبل ڈائمنڈ جوبلی (دو سو ہفتے) اور ’چن وریام‘ نے سنگل ڈائمنڈ جوبلی کی۔

اس دور کی نمایاں خصوصیت پشتو فلموں کی کمرشل کامیابی تھی

پاکستانی فلموں کے اس ’دورِ سلطانی‘ میں کل 929 فلمیں بنیں جن میں سب سے زیادہ تعداد پنجابی فلموں کی تھی یعنی چار سو کے قریب، جبکہ اُردو فلموں کی تعداد ڈھائی سو سے بھی کم رہی۔

اس دور کی نمایاں خصوصیت پشتو فلموں کی کمرشل کامیابی تھی اوریہ تعداد میں بھی اُردو فلموں سے ذرا ہی کم تھیں۔ کراچی کے بعد صوبہ سرحد اور کوئٹہ میں ان کی خاصی پذیرائی تھی اور مشرقِ وسطیٰ میں آباد پٹھان مزدور ان فلموں کے اہم ناظرین میں سے تھے۔

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ پاکستان کی فلمی دنیا میں سن 80 کی دہائی کا آغاز ہی ایک سُپر ہٹ بلکہ میگاہٹ فلم سے ہوا۔ گیارہ جنوری 1980 کو ریلیز ہونے والی فلم ’بندش‘ اُردو کی پہلی فلم تھی جس نے لاہور میں پلاٹنیم جوبلی کی۔ مصنّف بشیر نیاز کے سکرپٹ کو بنگالی ہدایتکار نذر الاسلام نے ڈائریکٹ کیا تھا اور کاسٹ میں شبنم، ندیم، ڈایانا کرسٹینا، رائے مارٹن، طالش، علاؤالدین اور طلعت حسین وغیرہ شامل تھے۔

فلم بندش پر مزید بات کرنے سے پہلے ہم آپکو انگریز مُصنّف جیمز ہلٹن کے ناول Random Harvest کے بارے میں کچھ بتانا چاہتے ہیں۔

پہلی جنگِ عظیم میں شدید گولہ باری کے دوران ایک برطانوی سپاہی اپنے ہوش و حواس گم کر بیٹھتا ہے۔ کافی عرصہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد جب وہ ہوش میں آتا ہے تو اپنے ماضی کو سراسر بھُول چکا ہوتا ہے۔

آوارہ گردی کے دوران ایک کلب میں اسکی ملاقات ایک گانے والی لڑکی سے ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد یہ دونوں شادی کر لیتے ہیں اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔ اُن کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوتا ہے جو اُن کی ازدواجی زندگی میں مسرتیں بھر دیتا ہے۔۔۔ لیکن پھر ایک روز ِاس آدمی کی کار کو حادثہ پیش آتا ہے اور جب وہ ہوش میں آتا ہے تو ماضی قریب کی باتیں ذہن سے محو ہو جاتی ہیں اور ماضی بعید کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

فلموں کے اس ’دورِ سلطانی‘ میں کل 929 فلمیں بنیں

چنانچہ وہ ایک بار پھر جنگ سے پہلے کا نوجوان بن جاتا ہے جب وہ ایک امیر کبیر خاندان کا نازوں پلا بیٹا تھا۔ نئی بیوی اور بچّے کی یاد اس کے ذہن کی سلیٹ سے یکسر مِٹ جاتی ہے۔ وہ اپنے اصل گھر لوٹ جاتا ہے اور جب بیوی روتی دھوتی وہاں پہنچتی ہے تو اسے پہچان ہی نہیں پاتا۔۔۔

آپ نے 1941 میں شائع ہونے والا یہ انگریزی ناول شاید نہ پڑھا ہو لیکن کہانی آپ کے لئے اجنبی نہیں ہوگی کیونکہ آپ نے اس موضوع پر کئی فلمیں دیکھی ہوں گی۔

یاداشت کا گم جانا بڑا ڈرامائی موضوع ہے اور یاداشت کی واپسی اس سے بھی بڑا ڈرامہ ہے اور جہاں یہ دونوں عناصر یکجا ہو جائیں وہاں تو ڈرامہ ہی ڈرامہ ہے۔

آپ نے پاکستانی فلم ’دامن‘میں سنتوش کمار کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتے دیکھا ہو گا۔ مرحوم یٰسین گوریجہ کی تحقیق کے مطابق 1943 کی فلم پردیسی (موتی لال، خورشید) اور 1944 کی ’’داسی‘‘ (نجم الحسن، راگنی) کی کہانیاں بھی اسی ڈرامے پر استوار کی گئی تھیں۔

ندیم اور شبنم

تقسیمِ ہند کے بعد بمبئی، مدارس اور کلکتے میں اس موضوع پر کئی فلمیں بنیں جن میں ’جب جب پھول کھلے‘ کو خاصی شہرت ملی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1942 میں بننے والی انگریزی فلم ’رینڈم ہارویسٹ‘ کے بعد سے اب تک جتنی بار بھی یہ کہانی فلمائی گئی ہے، کبھی ناکام نہیں ہوئی۔

1980 کی پاکستانی فلم ’بندش‘ بھی کامیابیوں کے اس طویل سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ فلم انڈونیشیا کے تعاون سے پروڈیوس ہوئی تھی اور اس میں ہیرو (ندیم) ایک کاروباری شخص ہے جبکہ شبنم ایک ائر ہوسٹس ہے۔ سنگاپور میں دونوں کی ملاقات ہوتی ہے جو محبت میں تبدیل ہو کر شادی پر منتج ہوتی ہے۔ خوشحال ازدواجی زندگی کے دوران ان کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر وہی کہانی چلتی ہے جو کئی بار کئی فلموں میں چل چکی ہے ۔۔۔

آزمودہ کہانی کے علاوہ اس فلم کی موسیقی بھی اسکی زبردست کامیابی کا سبب بنی۔ روبن گھوش کی دھنیں اور تسلیم فاضلی / سعید گیلانی کے گیت، پھر سونے پہ سہاگہ، چار بہترین گلوکاروں اور گلوکاراؤں کی آوازیں یعنی مہدی حسن، مہناز، نیرہ نور اور اخلاق احمد۔ آخرالذکر کا گایا ہوا ایک گیت تو آج تک ہمارے ایف۔ ایم سٹیشنوں سے گونجتا ہے۔

نہ سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جانِ من
تجھ کو میں دے سکوں گا

تو یہ تھی 1980 میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم، لیکن جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا یہ دہائی دراصل ایکشن فلموں کی دہائی تھی جن پر ہماری گفتگو آئندہ نشست میں جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
مجاجن: ایک حوصلہ بخش فلم
27 March, 2006 | فن فنکار
محمد علی: لاکھوں میں ایک
19 March, 2006 | فن فنکار
لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا!
19 March, 2006 | فن فنکار
فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی
11 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد