مجاجن: ایک حوصلہ بخش فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فلم کا جنازہ نکل چکا ہے‘ ’بھارتی فلموں کی نمائش ہمارے سینما گھروں کی نجات کا آخری ذریعہ ہے‘ ’ہماری فلم نگری ایک ویرانے میں تبدیل ہو چکی ہے‘ ’اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا‘ ایسے مایوس کُن نعروں کے جلو میں اگر درمیانے درجے کی ایک فلم بھی نمائش کے لئے سامنے آجائے تو اسے ایک مثبت قدم سمجھنا چاہیئے، لیکن سیّد نور کی ’مجاجن‘ تو اس درجے سے بہت آگے کے بات ہے۔ گُجّر اور جاٹ سُورماؤں کی گنڈاسا بازی سے بھرے ہمارے فلم بازار میں ’مجاجن‘ یقیناً ہوا کا تازہ جھونکا ہے اور فلمی کاروبار سے وابستہ لوگوں کے لئے اُمّید کی ایک کِرن بھی کیونکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو مکمل تباہی سے صرف ایک ہی چیز بچا سکتی ہے -- معیاری فلمیں۔ مجاجن کس حد تک عام ڈگر سے ہٹی ہوئی کہانی ہے، اسکا اندازہ اس امر سے کر لیجئے کہ ہیرو (شان) شروع ہی سے ایک شادی شدہ آدمی ہے لیکن یہ ایسی شادی ہے کہ اسے دو دلوں کا ملاپ یا دو روحوں کا سنجوگ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ دو خاندانوں کا بندھن ہے اور میاں بیوی کی حیثیت اونچے خاندان کی بساط پہ رکھے دو مہروں سے زیادہ نہیں ہے۔ شان اور اسکی بیگم (مدیحہ شاہ) اپنی اس حیثیت سے بخوبی واقف ہیں۔ اس باہمی لاتعلقی کو زیادہ گمبھیر بنانے کے لئے مصّنف نے ایک قتل کا قصّہ بھی شاملِ داستان کیا ہے لیکن وہ نہ بھی ہوتا تو کہانی کے ڈھانچے پر کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ واقعات میں انقلابی موڑ اُس وقت آتا ہے جب ایک میراثن (صائمہ) اپنی سنگیت منڈلی سمیت اُس بستی میں آن وارد ہوتی ہے اور ہمارا سیّد زادہ ہیرو اس پر دل و جان سے فریفتہ ہو جاتا ہے۔
مدیحہ کا دوسرا بھائی قتل کا بدلہ لینے پر تُلا ہوا ہے، خود مدیحہ زخمی ناگن کی طرح پھُنکار رہی ہے۔ شان کا انتہائی محبت کرنے والا باپ جو کڑے سے کڑے وقت میں بھی بیٹے کی ڈھال بن کر طعنوں کے تیر کھاتا رہا ہے، اب مجبور ہوکر نہ صرف پیچھے ہٹ جاتا ہے بلکہ کُنبے کے تحفظ کا واسطہ دے کر میراثن سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس بستی سے اپنا خیمہ اکھاڑ لے۔ میراثن اُس قریے سے کوچ کر جاتی ہے لیکن شان کے دِل سے نہیں نکل پاتی۔ قوتِ عشق شان میں اتنی ہمت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ معاشرے کی سب پابندیوں اور شریکوں کے پھیلائے ہوئے سارے جال توڑ کر اپنی محبوبہ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے لیکن دونوں روحوں کو باہمی ملاپ کے لئے اپنے اپنے جسم کی قید سے بھی رہائی حاصل کرنی پڑتی ہے۔۔۔ کہانی کا کریڈٹ رخسانہ نور کے نام ہے جبکہ سکرین پلے، مکالمے اور ہدایتکاری پر خود سیّد نور کا نام ہے۔ زندگی بسر کرنے کی صوفیانہ روایت کے اشارے، مرکزی کرداروں کے حوالے سے تمام فلم میں بکھرے پڑے ہیں اور آخری مناظر میں بلھے شاہ کی زندگی کے ایک مبیّنہ واقعے سے براہِ راست بھی اِستفادہ کیا گیا ہے۔ موسیقار ذوالفقار علی کا واحد کمال اِسی موقعے پر سامنے آتا ہے جہاں انھوں نے ’تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا کے‘ جانے پہچانے بول ایک بار پھر فلم بینوں کے سامنے پیش کئے ہیں اور انھیں مسحور کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
شان کو اگرچہ پنجاب کے فلم سازوں نے گنڈاسے اور کلاشنکوف سے آزاد ہونے کی اجازت کم ہی دی ہے لیکن جب کبھی اسے گھسی پٹی ڈگر سے دوچار قدم اِدھر اُدھر ہونے کا موقعہ ملتا ہے، وہ ناظرین کو یاد دلاتا ہے کہ سلطان راہی کا جانشین بننا اسکی ذاتی خواہش نہیں تھی بلکہ فلم سازوں نے اس پر زبردستی یہ کردار مُسّلط کر دیا ہے۔ فلم مجاجن کے کئی مناظر میں دیکھنے والوں کو اس شان کی جھلک نظر آتی ہے جِسے انھوں نے زارا شیخ کے ساتھ بلیک اینڈ وائٹ میوزک ویڈیو میں دیکھا ہے، اور ناظرین کی خواہش ہے کہ مستقبل میں وہ اُس شان کو -- اصلی شان کو – اسکی اداکاری کے تمام تر امکانات کے ساتھ سکرین پر دیکھ سکیں۔ مسعود بٹ ایک منجھے ہوئے فوٹو گرافر ہیں اور چھ سات برس پہلے فلم بندی کے دوران ایک بم بلاسٹ میں اپنے ہاتھوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ تاہم یہ محرومی اُن کی مہارت پر اثر انداز نہیں ہوئی اور وہ آج بھی اپنے شعبے میں بہترین کارکردگی کے مالک ہیں۔ زیرِ نظر فلم میں بھی انھوں نے ہر فریم میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||