اداکارہ صائمہ فلسماز بن گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ سال پہلے اداکارہ کی حیثیت سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والی صائمہ اب پروڈکشن کے میدان میں اتر رہی ہیں۔ بطورفلمساز ان کی پہلی فلم مجاجن ہے جس کی عکسبندی آجکل ایورنیو سٹوڈیو میں ہورہی ہے- صائمہ اس فلم میں اداکاری بھی کر رہی ہیں- صائمہ کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کی ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے جن کے کریڈٹ پر کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں۔گزشتہ چودہ برسوں میں صائمہ کی ڈیڑھ سو کے قریب فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں اور اب بھی زیادہ تر فلموں میں انہیں ہی کاسٹ کیا جا رہا ہے۔ صائمہ نے جس وقت فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اس وقت انجمن اور سلطان راہی کی جوڑی ہٹ تھی اورانجمن اپنے کیریئر کی بلندیوں پر تھیں- اسے صائمہ کی خوش قسمتی کہا جاسکتا ہے کہ صائمہ کی فلم انڈسٹری میں آمد کے کچھ ہی عرصہ بعد انجمن نے شادی کر لی اور فلم انڈسٹری چھوڑ دی- اب صائمہ کے لیے میدان خالی تھا چنانچہ صائمہ نے سخت محنت کی اور فلم انڈسٹری پر چھا گئیں-
سلطان راہی کی وفات کے بعد صائمہ کے مقابل تنظیم حسن‘ سعود‘ غلام محی الدین‘ جاوید شیخ‘ اقبال گوندل‘ اظہار قاضی‘ معمر رانا‘ شان‘ بابرعلی اور شامل خان کو کاسٹ کیا گیا- ان میں سے معمر رانا اور شان کے ساتھ صائمہ کی فلمیں زیادہ کامیاب رہیں- معمر رانا کے ساتھ صائمہ کی فلم چوڑیاں نے تو کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بطور فلمساز وہ کیسی اننگز کھیلتی ہیں۔ آیا اداکارہ کی حیثیت سے حاصل کی گئی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے یا بحران سے دوچار لالی ووڈ میں فلمسازی کا یہ باب ان کی فنی کتاب کا اختتامیہ ثابت ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||