1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1920 کے عشرے میں لاہور میں فلم سازی کا جو نازک سا پودا عبدالرشید کاردار، ایم اسماعیل اور اُن کے ساتھیوں نے لگایا تھا سن 80 کی دہائی تک، وہ ایک تناور درخت میں بدل چکا تھا۔ پاکستان کی فلمی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے پچھلی نشست میں ٹیلی ویژن کی آمد اور فلموں پر اسکے اثرات کا ذکر کیا تھا۔ 80 کے عشرے میں داخل ہونے سے پہلے ہم 1979 پر ایک بھرپور نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری فلمی دنیا میں یہ ایک تاریخ ساز سال تھا۔ ہمارے جو قارئین شروع سے اِن مضامین کا مطالعہ کرتے رہے ہیں انھوں نے محسوس کیا ہو گا کہ 1965 کے بعد ہماری فلموں کا جو سنہری دور شروع ہوا وہ کم و پیش پندہ برس تک جاری رہا۔ اِن پندرہ برسوں میں ایک ہزار سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں پانچ سو سے کچھ زیادہ اُردو فلمیں اور ساڑھے چارسو کے قریب پنجابی فلمیں تھیں۔ اس عرصہ میں ایک وقت ایسا بھی آیا (1970) جب پہلی بار پنجابی فلموں کی تعداد اُردو فلموں سے بڑھ گئی۔ 76، 75، 1974 کے تین برسوں میں فلموں کی تعداد جس مقام پر پہنچ چکی تھی وہ عروج پاکستانی فلم کو پھر دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ بہر حال آج کی نشست میں ہمیں 1979 کا ذکر کرنا ہے:
بہن بھائی، پاکیزہ، مسٹر رانجھا، نیا انداز، ہتھیار، عورت راج، وحشی گُجّر، خوشبو، مِس ہانگ کانگ اور آگ۔ اسی برس ہماری فلمی تاریخ کی کامیاب ترین فلم مولاجٹ بھی ریلیز ہوئی جسکے بارے میں کچھ تعارفی باتیں ہم پچھلی ایک نشست میں کر چکے ہیں لیکن یہ ایک ایسی فلم تھی جس پر شاید برسوں تک بات ہوتی رہے گی کیونکہ یہ فلم لاہور کے گلستان سینما میں مسلسل 130 ہفتوں تک چلتی رہی تھی اور اپنی اوّلین نمائش کے دوران مجموعی طور پر 310 ہفتوں تک چلی تھی۔ اُسکے بعد بھی یہ اُترنے کا نام نہ لے رہی تھی لیکن انسانی ٹانگ کاٹنے کے ایک پُر تشدد منظر پر اعتراض کے باعث چلتی فلم کو بین کر دیا گیا ورنہ یقیناً مولا جٹ بھارتی فلم ’شعلے‘ کا ریکارڈ توڑ دیتی جو اس نے مسلمل پانچ برس تک چل کر قائم کیاتھا۔ مولا جٹ پہلی فلم تھی جِس نے لاہور کے علاوہ راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں بھی الگ الگ گولڈن جوبلی کی اور گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور سرگودھا میں الگ الگ سلور جوبلی کی۔ جہاں تک فلم اور ٹیلی ویژن کے رابطوں کا سوال ہے 1979 میں ریلیز ہونے والی فلم ’دبئی چلو‘ بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ فلم صرف دوماہ میں تیار کی گئی تھی اور اسکا ماخذ اسی نام کا ایک ٹی وی ڈراما تھا۔ ہدایتکار حیدر چوہدری نے پوری کوشش کی کہ ٹی وی ڈرامے کی مکمل کاسٹ فلم میں سمو دی جائے اور ڈرامے کے سیٹ حتٰی کہ کرداروں کے لباس بھی ٹی وی ڈرامے کے عین مطابق رکھے گئے تھے۔ فلم کا سکرپٹ سیّد نور نے تحریر کیا تھا اور فلمی ضروریات کے مطابق جہاں انھیں کتربیونت کی ضرورت پڑی وہ کر لی، مثلاً گانے اور فائِٹ کی سچویشن بنانے کے لئے، لیکن کہانی کے بنیادی ڈھانچے کو نہیں چھیڑا گیا تھا۔
اس فلم کی کامیابی کے دو فوری نتائج سامنے آئے، ایک تو سید نور کی حیثیت بطور ایک فلم رائٹر کے مستحکم ہو گئی، دوسرے علی اعجاز فلموں کے کامیاب ترین اداکار کے طور پر سامنے آئے۔ ننھے کے ساتھ اُن کی جوڑی بنانے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی تھیں لیکن دوبئی چلو کے بعد یہ مزاحیہ جوڑی ایسی ہِٹ ہوئی کہ ننھے کی موت سے کچھ عرصہ پہلے تک قائم و دائم رہی۔ اسی برس ریلیز ہونے والی اُردو فلموں میں کم از کم دو فلمیں ایسی تھیں جنھیں سُپر ہٹ قرار دیا جا سکتا ہے یعنی پاکیزہ اور مِس ہانگ کانگ۔ اِن دونوں فلموں میں ٹی وی اداکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، پاکیزہ میں شبنم اور ندیم کی معروف و مقبول جوڑی کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن سے بِندیا، راحت کاظمی، نوین تاجک، جمشید انصاری اور جمیل فخری کو مدعو کیا گیا تھا جبکہ شمیم آراء کی پروڈکشن مِس ہانگ کانگ میں تقریباً ساری کاسٹ ہی ٹیلی ویژن سے لی گئی تھی یعنی بابرہ شریف، آصف رضا میر، عثمان پیر زادہ، ننھا، منور سعید، زیبا شہناز اور اسماعیل تارہ وغیرہ۔ آئندہ نشست میں ہم 1980 کے عشرے میں داخل ہونگے اور اُردو، پنجابی فلموں کے ساتھ ساتھ پشتو فلموں کے انقلاب پر بھی ایک نگاہ ڈالیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||