چاکلیٹی ہیرو کے زوال کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وُڈ یعنی لاہور کی فلمی صنعت کے ارتقاء کا جو جائزہ ہم نے 1924 کی خاموش فلم ’ڈاٹرز آف ُٹوڈے‘ سے لینا شروع کیا تھا، منزل بہ منزل چلتا ہوا سترہ قسطوں میں وحید مُراد کے زمانے تک آن پہنچا ہے۔ پچھلی بار ہم نے چاکلیٹ ہیرو کے عروج کی کہانی سنائی تھی آج اُس کے زوال کا قصّہ بیان کر رہے ہیں۔ 1966 میں ارمان کے سُپر ہٹ ہونے کی بعد وحید مُراد کو جو مزید کامیابیاں حاصل ہوئیں اُن میں ہدایتکار ایس ایم یوسف کی جوش، شیخ حسن کی جاگ اُٹھا انسان، حسن طارق کی دیور بھابھی، شباب کیرانوی کی انسانیت، پرویز ملک کی ’احسان‘ اور دوراہا، رفیق رضوی کی پھر صبح ہوگی، ایم ۔ اے رشید کی دِل میرا دھڑکن تیری، قمر زیدی کی سالگرہ اور فرید احمد کی عندلیب شامل تھیں۔ ہدایت کار پرویز ملک نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ نوجوانی ہی میں اتنی زبردست کامیابی حاصل کر لینے کے باعث وحید مُراد بہت بد دماغ ہو گئے تھے اور ہر کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر باندھنے لگے تھے چنانچہ اُن کے مستقل رائٹر، موسیقار، اور ہدایتکار اُن کی سنگت سے الگ ہوتے چلے گئے۔
اس طرح کا رومانوی ہیرو 1965 سے 1975 تک کے دس برسوں میں خاصا مقبول رہا لیکن لوگ ایک ہی طرح کی فلمیں دیکھ دیکھ کر اُکتا چُکے تھے۔ فلم ساز صرف آزمائی ہوئی چیز پہ پیسہ لگانے کے لئے تیار تھے۔ 1971 میں وحید مُراد کی پنجابی فلم مستانہ ماہی نے گولڈن جوبلی کی اور اسکا گانا ’سیوّ نی میرا ماہی۔۔۔۔‘ گلی گلی گایا جانے لگا۔ اس مقبولیت سے فائدہ اُٹھا کر ہدایتکار افتخار خان نے دوبارہ قسمت آزمائی کی اور وحید مُراد کی ایک اور پنجابی فلم تیار کی جسکا نام ہی سیّو نی میرا ماہی رکھا۔اِس میں پہلے کی طرح سلونی کو ہیروئن لیا گیا اور وہ تمام حربے آزمائے گئے جو ڈائریکٹر کے خیال میں پہلی کامیابی کا سبب بنے تھے، لیکن 1974 میں بننے والی سیّو نی میرا ماہی اِتنی بُری طرح فلاپ ہوئی کہ عرصہ دراز تک وحید مُراد پنجابی فلم کے قریب نہ پھٹکے۔ اُردو فلموں میں بھی صورتِ حال مختلف نہ تھی جہاں انھیں مستانی محبوبہ اور محبوب میرا مستانہ جیسی فلموں میں لگے بندھے کردار دیئے جا رہے تھے ۔
1980 کا سورج طلوع ہوا تو اس نے وحید مُراد کو ایک ناکام، مایوس، پراگندہ فکر اورجھنجھلائے ہوئے انسان کے روپ میں دیکھا۔ شہرت کی ہر جائی دیوی اب ڈھاکے سے آنے والے نئے ہیرو ندیم پر عنایات کی بارش کر رہی تھی۔ وحید کے پُرانے ساتھی پرویز، مسرور اور سہیل جنھیں خود وحید نے رعونت سے ُٹھکرا دیا تھا، اپنے اپنے میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ ر ہے تھے۔ ’ کرن اور کلی‘ وحید مراد کو اپنی زندگی میں ملنے والی آخری کامیابی تھی۔ 1981 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے آگے پیچھے انکی تین چار فلمیں فلاپ ہوئیں۔ اگلے برس بھی اُنکی کوئی فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی فلمی اخبارچوں میں اب وحید مُراد کے خلاف اُن سب لوگوں نے اپنا غصّہ اگلنا شروع کر دیا جو وحید کے ساتھ ماضی میں کام کر چکے تھے اور اسکے رویے سے نالاں تھے۔ ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ 44 سالہ وحید مُراد میں اب دم خم باقی نہیں ہے۔ وہ ایک چلا ہوا کارتوس ہے۔ اسے خود ہی ایک طرف ہٹ کر نوجوان ندیم کے لئے راستہ صاف کر دینا چاہیئے۔ وحید کو اب محمد علی اور ندیم کی فلموں میں سائیڈ رول ملنے لگے جو انھوں نے بادلِ نخواستہ قبول تو کر لئے لیکن دِل ہی دِل میں کُڑھتے رہے۔ انھی دِنوں انکی شراب نوشی تفریحِ طبع کی حدود سے نِکل کر الکحولزم کے دائرے میں داخل ہوگئی۔
وحید مُراد کام مانگنے کے لئے اپنے پُرانے دوستوں کے پاس تو نہیں گئے لیکن اسی دوران اُن کا پُرانا پٹھان ڈرائیور اور گھریلو ملازم بدر مُنیر پشتو فلموں کا معروف سٹار بن چُکا تھا بلکہ اپنی فلمیں بھی پروڈیوس کر رہا تھا ۔ نمک حلال ملازم نے پُرانے مالک سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنی پشتو فلم ’پختون پہ ولائت کمبا‘ میں کام دیا جو وحید مُراد نے قبول کر لیا ۔ اسی دوران انھیں معدے کا السر ہو گیا اور نوبت ایک پیچیدہ آپریشن تک پہنچی جسکے بعد ان کا وزن بہت کم ہو گیا اور چہرے کی رونق بھی ماند پڑ گئی۔ اُن کی تمام تر توقعات اب اپنی نئی فلم ’ ہیرو‘ سے وابستہ تھیں۔ 1983 میں ایک ٹی وی شو کے دوران انھوں نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا کہ نئی فلم ریلیز ہوتے ہی وہ پھر سے ملک کے نمبر ون ہیرو بن جائیں گے۔ اپنی اُکتاہٹ اور بے چینی دُور کرنے کے لئے وحید مُراد نے انتہائی تیز رفتاری سے کار چلانے کا مشغلہ اپنا لیا تھا۔ کئی بار حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا لیکن 1983 میں اس طرح کی تیز ڈرائیونگ کے دوران اُن کی گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی۔ ان کی جان تو بچ گئی لیکن چہرے پر زخم کا گہرا نشان پڑ گیا۔ شدید مایوسی کے عالم میں وہ اپنے پُرانے دوست پرویز ملک کے پاس گئےاور زندگی میں پہلی بار اُن سے کام مانگا۔ پرویز ملک نے اُن کے زخم زدہ چہرے کی طرف دیکھ کر کہا تم ٹھیک ہو جاؤ تو کام ہی کام ہے۔ وحید مُراد نے فوراً کراچی جا کر چہرے کی پلاسٹک سرجری کرانے کا منصوبہ بنایا کیونکہ فلم ہیرو کا کچھ کام بھی ابھی باقی تھا جسکے لئے چہرے کی درستگی لازمی تھی۔ کراچی میں اب انکا ہنستا بستا گھر موجود نہیں تھا۔ بیوی امریکہ جا چُکی تھی اور بیٹا اپنی نانی کے یہاں مقیم تھا۔ اپنے اپریشن سے ایک دِن پہلے وحید نے بیٹے کی سالگرہ منائی، اسے بہت سے تحفے دیئے اور رات سونے کے لئے اپنی منہ بولی بہن ممتاز ایوب کے گھر چلے گئے۔ اس رات کیا ہوا کوئی نہیں جانتا۔ وحید مُراد کے کمرے کا دروازہ دِن چڑھے تک نہ کُھلا تو میزبانوں کو دروازہ توڑنا پڑا۔ کمرے کے فرش پر پاکستان کا ایلوس پریسلے مُردہ پڑا تھا۔ اسکے منہ میں پان کا بیڑا تھا لیکن پان میں کیا تھا اسکی خبر کسی کو نہیں کیونکہ پوسٹ مارٹم اور مواد کے تجزیئے کے بغیر کچھ کہنا ممکن نہ تھا۔ ثروت و ناموری کی دیوی کو نئے احکامات مِل چُکے تھے۔ وہ شہرتِ عام کی شمع اور بقائے دوام کا لبادہ لے کر ندیم، شاہد اور جاوید شیخ کی تلاش میں نکل چُکی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||