BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 February, 2006, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وحید مُراد کا زمانہ

وحید مراد
وحید مراد فلم ارمان کے ایک منظر میں
پاکستا ن کی فلمی صنعت میں سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کو بجا طور پر وحید مُراد کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس دور میں سنتوش، درپن، سدھیر، اعجاز، حبیب اور بعد میں محمد علی اور ندیم نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن اِن میں سے کوئی اداکار بھی وہ داستانی حیثیت اختیار نہ کر سکا۔ جو وحید مُراد کو حاصل ہوئی۔

آخر ایسا کیوں ہوا؟
شاید اس لئے کہ وحید مُراد کی ذاتی کہانی ایک مکمل اور کامیاب المیے کے تمام عناصر خود میں سموئے ہوئے ہے۔

تو کیا دیگر ہم عصر اداکاروں کی ذاتی زندگی میں کوئی ڈرامائی پہلو نہیں تھا؟ محمد علی ریڈیو پاکستان حیدر آباد پہ محض ایک صدا کار تھے لیکن زینہ بہ زینہ ترقی کی منزلیں طے کرتے اور بادِ مخالف کی تُندی سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے ایک دِن انتہائی شان و شوکت سے پردہء سیمیں پہ نمودار ہوئے۔ کیا یہ ایک ڈرامائی کہانی نہیں ہے؟

نذیر بیگ کو کراچی، لاہور، پنڈی کہیں بھی ریڈیو ٹی وی نے گھاس نہ ڈالی تھی اور انھیں بھارت پار کر کے ڈھاکے جانا پڑا جہاں ہفتے میں ایک آدھ بار ٹی وی پرغزل گانے کا موقع مِل جا تا تھا، لیکن جب ہدایت کار احتشام کی نظرِ کرم اس نوجوان پر پڑی تو فلم چکوری وجود میں آئی اور وہی نوجوان راتوں رات پاکستان کا ہیرو نمبر ون بن گیا جسے اب ہم ندیم کے نام سے جانتے ہیں۔ تو کیا ندیم کی داستانِ حیات دلچسپ نہیں ہے؟

یقیناً یہ دونوں کہانیاں جدوجہدِ اور کامیابی کی عظیم مثالیں ہیں جبکہ وحید مُراد کو نہ تو سٹوڈیو پہنچنے کےلئے کبھی بسوں اور رکشوں میں دھکے کھانے پڑے اور نہ ہی کام مانگنے کے لئے ڈائریکٹروں پروڈیوسروں کے در پہ حاضری دینی پڑی۔ وہ تو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئے تھے اور اپنے والد کی بدولت بیس برس کی عمر ہی میں فلموں کے تقسیم کار بن چُکے تھے۔

23 سال کی عمر میں وہ ہیرو کی شہرت کا مزہ چکھ چُکے تھے اور 28 برس کی عمر میں انھیں پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم کے کہانی کار، ہیرو اور پروڈیوسر ہونے کا اعزاز مِل چُکا تھا۔

وحید مراد فلم میں اداکارہ رانی کے ہمراہ ڈرائیور کے روپ میں

جو شخص زندگی کی ساری کامیابیاں مقدّر میں لکھوا نے کے بعد اِس دُنیا میں آیا ہو اور جِسے شہرتِ عام کی منزل تک پہچنے کے لئے ایک تِنکا تک نہ ہلانا پڑا ہو، اسکی بظاہر سیدھی اور سپاٹ زندگی میں عوام کو کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟

لیکن حقیقت یہ ہےکہ اپنے مداحوں کی جِتنی بڑی کھیپ وحید مُراد نے تیار کی وہ پاکستان کے کسی ہیرو کو نصیب نہیں ہوئی۔ یہ واحد ہیرو تھا جسکے مداحوں نے منظم ہو کر فین کلب تشکیل دیئے اور آج اسکی موت کے بائیس برس بعد بھی یہ مداح اسکی یاد میں اجتماعات کرتے ہیں، اسکی فلموں کے خصوصی شو منعقد کراتے ہیں، اسکی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور اس کے نام پر فلم ایوارڈ جاری کرتے ہیں۔

وحید مُراد کی اِس غیر معمولی مقبولیت کے باعث بعض اوقات اسکا موازنہ ایلوس پریسلے سے بھی کیا جاتا ہے جو وحید مُراد سے دس برس پہلے اسی طرح شہرت کی چوٹی پہ پہنچ کر اچانک موت کی وادی میں کُود گیا تھا۔

حید مُراد کی گولڈن جوبلی فلمیں
 اولاد، دامن، ہیرا اور پتھر، کنیز، ارمان (پلاٹینم جوبلی) جوش، جاگ اُٹھا انسان، دیور بھابھی، انسانیت، دِل میرا دھڑکن تیری، سالگرہ، عندلیب، نیند ہماری خواب تمھارے، انجمن (پلاٹنیم جوبلی) مستانہ ماہی، خلش، عشق میرا ناں، تُم سلامت رہو، پھول میرے گُلشن کا، دُشمن، شمع، جوگی، محبت زندگی ہے، صورت اور سیرت، جب جب پھول کھلے، شبانہ، سہیلی (1978)، پرکھ، خدا اور محبت، آواز (پلاٹینم جوبلی) ، بہن بھائی، عورت راج، پیاری، کالا دھندا گورے لوگ، کِرن اور کلی۔

یونانی المیے کا ہیرو زندگی کی تمام کٹھنائیاں طے کرتا ہوا منزلِ مقصود تک پہنچ جاتا ہے لیکن شخصیت کا کوئی چھوٹا سا سقم، طبعیت کی ذرا سی بے چینی، دِل کی کوئی معمولی سی بھول اسے زندگی بھر کی جدوجہد کے ثمر سے محروم کر دیتی ہے۔

وحید مُراد بھی ایسے ہی ایک ’ ٹریجک فلاء‘ کا شکار ہوئے۔ تو آئیے اُن کی کامیابیوں بھری زندگی میں وہ نقطہ تلاش کیا جائے جو بالآخر اُن کی مکمل تباہی کا باعث بنا۔

وحید مُراد کے والد نثار مُراد کراچی میں کامیاب ڈسٹری بیوٹر تھے۔ 1962 میں وحید مُراد نے کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔ اے (انگلش) کیا اور اسکے بعد والد کے کاروبار میں پورے طور پر شریک ہوتے ہوئے اپنی پہلی فلم ’ اولاد‘ کا آغاز کیا جِس کے ڈائریکٹر ایس ایم یوسف تھےاور اداکاروں میں نیّر سلطانہ اوردرپن شامل تھے۔ وحید مُراد نے اس فلم میں ایک رول بھی ادا کیا لیکن ان کی اداکاری کے اصل جوہر تب کُھلے جب اُن کے دوست پرویز ملک امریکہ سے فلم سازی کا ڈپلومہ لے کر لوٹے اور انھوں نے وحید مُراد کی فلم ہیرا اور پتھر کی ہدایتکاری کے فرائض سنبھال لئے۔

اس فلم میں وحید مُراد نے ایک گدھا گاڑی والے کا کردار ادا کیا جو کہ زیبا کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ فلم کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور وحید مُراد کو 1964 کے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔

وحید کی زندگی
 جو شخص زندگی کی ساری کامیابیاں مقدّر میں لکھوا نے کے بعد اِس دُنیا میں آیا ہو اور جِسے شہرتِ عام کی منزل تک پہچنے کے لئے ایک تِنکا تک نہ ہلانا پڑا ہو، اسکی بظاہر سیدھی اور سپاٹ زندگی میں عوام کو کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟

بعد میں وحید مُراد، پرویز ملک، موسیقار سہیل رعنا اور گیت نگار مسرور انور کی ایک ایسی ٹیم تیار ہو گئی جِس نے انڈسٹری کو پےدرپے کامیاب فلمیں دیں لیکن اس سے پہلے وحید مُراد نے مختلف ہدایتکاروں کے ساتھ کام کیا جن میں قدیر غوری، شوکت ہاشمی، ایس ایم یوسف اور حسن طارق شامل تھے۔

اپنی ذاتی کمپنی ’ فلم آرٹس‘ کے بینر تلے 1966 میں وحید مُراد نے ’ ارمان‘ بنائی۔ اسکی کہانی انھوں نے خود سوچی تھی، ہیرو بھی خود تھے اور پروڈیوسر بھی، ڈائریکٹر اُن کے دوست پرویز ملک تھے، نغمہ نگار مسرور انور اور موسیقار سہیل رعنا اور یہی چاروں ’فلم آرٹس‘ نامی کمپنی کے بُنیادی ستون تھے۔

فلم ارمان نے باکس آفس پر کامیابی کے تمام گزشتہ ریکارڈ توڑ دیئے۔ یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ اس کا گیت ’ اکیلے نہ جانا ‘ اور ’کوکو کورینا‘ گلی گلی گُنگنایا جانے لگا۔

کاروباری رقیبوں نے وحید، پرویز، سہیل اور مسرور کی کمپنی کا نام ’چنڈال چوکڑی‘ رکھ دیا تھا اور اِن کی ہر نئی فلم کا اعلان دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دیتا تھا۔

’دشمن‘ تو فلم آرٹس کا کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود وحید مُراد نے اپنے ساتھیوں کو ناراض کر دیا۔ چاروں کی مُشترکہ جدوجہد سے کامیاب ہونے والی ہر فلم کا کریڈٹ وحید مُراد اکیلے لینا چاہتے تھے۔

مان باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث انھوں نے بانٹ کے کھانا شاید سیکھا ہی نہیں تھا۔

سالگرہ پہ ملنے والے تحفوں کی طرح وہ ہر فلم پہ ملنے والی داد و تحسین کو بِلا شرکتِ غیرے وصول کرنے کی کوشش کرتے۔ اُن کے اس رویّے پر سب سے پہلے پرویز ملک برہم ہوئے، اُن کے بعد سہیل رعنا اور مسرور انور نے بھی صدائے احتجاج بلند کی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ارمان کے بعد دوراہا، احسان، دیور بھابھی اور دِل میرا دھڑکن تیری کامیابی کے جھنڈے گاڑ چُکی تھیں اور ہیرو نمبر ون کے طور پر وحید مُراد کا مقام متعین ہو چُکا تھا۔ چنانچہ وہ دوستوں کی ناراضگی کو خاطر میں نہ لائے اور یوں ’فلم آرٹس‘ کا شیرازہ بکھر گیا۔

پرویز ملک نے اپنی علیحدہ فلم سازی شروع کردی اور وحید مُراد کی جگہ ڈھاکہ سے آنے والے نئے اداکار ندیم کو کاسٹ کرنا شروع کر دیا۔

وحید کاعروج و زوال
وحید مُراد کے عروج کی کہانی جتنی دلچسپ ہے اسکے زوال کا قصّہ بھی اتنا ہی عبرت انگیز ہے۔

ادھر وحید مُراد نے بھی یہ ثابت کرنے کی ٹھان لی تھی کہ ’فلم آرٹس‘ میرے دم قدم سے چل رہا تھا اور پرویز ملک کے بغیر بھی میں کامیاب فلمیں بنا سکتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے فلم ’ اشارہ‘ بنائی اور اسکی ڈائریکشن بھی خود ہی دی۔

وحید مُراد کے دعوؤں اور تمناؤں کے بر عکس یہ فلم بُری طرح فلاپ ہو گئی۔ چاکلیٹ ہیرو کےلئے یہ ناکامی ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ابھی وہ اس صدمے سے سنبھل نہ پائے تھے کہ زیبا نے اُن کے ساتھ ہیروئین آنے سے انکار کر دیا کیونکہ اُنکی شادی محمد علی سے ہو گئی تھی۔

اس دوران میں وحید مُراد نے شبنم کے ساتھ کچھ فلمیں کیں لیکن پھر شبنم کے شوہر روبن گھوش کی مداخلت پر یہ ہیروئن بھی ہاتھ سے گئی، حتٰی کہ نشو کے میاں نے بھی اسے وحید مُراد کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا۔

گویا ہر طرف سے ہمارے ہیرو کا حقّہ پانی بند ہو گیا۔ وحید مُراد کے عروج کی کہانی جتنی دلچسپ ہے اسکے زوال کا قصّہ بھی اتنا ہی عبرت انگیز ہے۔

ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ اُسے فلم میں کام مانگنے کے لئے اپنے گھریلو ملازم کے سامنے جھُکنا پڑا لیکن یہ ایک الگ کہانی ہے اور اسے ہم اپنی آئندہ نشست میں ہی بیان کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
فلمی صنعت، پنچولی کے بعد
16 June, 2005 | فن فنکار
لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط
23 August, 2005 | فن فنکار
جب پہلی بامقصد فلم بنی
30 September, 2005 | فن فنکار
جاوید شیخ کی بھارتی فلم تیار
15 November, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد