لالی وڈ: اور پھرٹی وی آگیا! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن ستر کے عشرے کا ذکر ختم کرنے سے پہلے اس اہم موضوع پر کچھ روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کو پاکستان ٹیلی ویژن نے کس حد تک متاثر کیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز تجرباتی سطح پر 1964 میں ہو گیا تھا اور لاہور میں ایک صنعتی میلے کے دوران ایک جاپانی کمپنی نے اسکی آزمائشی نشریات کا اہتمام کیا تھا۔ لیکن اُس وقت تک ٹی وی کی حیثیت ایک کھیل تماشے سے زیادہ نہ تھی۔ 1965 کی جنگ کے دوران ایوب خان کی حکومت نے محسوس کیا کہ شہری آبادی میں ٹیلی ویژن، پروپیگینڈے کا موّثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے چنانچہ جنگ ختم ہوتے ہی ٹیلی ویژن کی ترویج و ترقی پر پوری توجہ مبذول کی گئی اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، کراچی اور ڈھاکہ میں بھی ٹی وی نشریات کا آغاز ہو گیا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ٹیلی ویژن کا آغاز کرنے والے افراد میں سے بیشتر ڈرامے کے فن سے تعلق رکھتے تھے چنانچہ ابتدائی دور ہی میں پاکستان ٹیلی ویژن نے ڈرامے کے شعبے میں خاصی مہارت حاصل کر لی۔ یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ اگر اس ملک میں ٹیلی ویژن شروع کرنے والے لوگوں کا تعلق حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں یا دستاویزی فلموں سے ہوتا تو آج پی ٹی وی کی تاریخ کتنی مختلف ہوتی۔
خورشید انور اور روبن گھوش بھی مصروف تھے لیکن وہ صرف اپنی مرضی کا کام کرتے تھے -- تھوڑا اور سُتھرا۔ ملک میں سینماؤں کی تعداد بھی اپنے عروج پر تھی۔ فلمی چہل پہل کا اندازہ اس امر سے لگا لیجئے کہ صرف لاہور شہر میں اُس وقت 63 سینما گھر تھے (آج صرف 22 سینما گھر باقی ہیں اور یہ بھی سب کے سب زیرِاستعمال نہیں ہیں)۔ بازارِفلم کی اس رونق اور سرگرمی کے نتیجے میں حکومت کو سینما گھروں سے لاکھوں روپے ماہانہ کا تفریحی ٹیکس وصول ہوتا تھا۔
تو فلموں کی پذیرائی کے اس عالم میں ابتداء ہوئی پاکستان ٹیلی ویژن کی۔ ظاہر ہے کہ فلم انڈسٹری کا اوّلین ردِعمل خاصا مخاصمانہ تھا۔ فلمی لوگ اس نئے میڈیم کو اپنا رقیب سمجھ رہے تھے چنانچہ کسی طرح کا بھی تعاون ٹی وی والوں سے نہیں کیا جا رہا تھا۔ بہت سے فلم والے اس احساسِ کمتری میں مبتلا تھے کہ وہ اہلِ ٹی وی کی طرح اعلٰی تعلیم یافتہ نہیں ہیں جبکہ کچھ ٹیلی ویژن والوں کو اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ذرا زیادہ ہی زعم تھا اور اس سلسلے میں وہ فلم والوں کے طویل تجربے اور نامساعد حالات میں کام کرنے کی صلاحیت کو بھی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ ٹیلی ویژن پر جب بھی فلمی گیتوں یا فلمی انٹرویوز کا کوئی پروگرام نشر ہوتا، فلم انڈسٹری کی جانب سے کسی طرح کا تعاون نہ کیا جاتا تھا۔ کسی ٹی وی ڈرامے میں فلمی کرداروں کا مضحکہ اڑایا جاتا تو فلم انڈسٹری اسے اپنے خلاف ایک منظم سازش سمجھتی۔
دوسری جانب سن ستر کے عشرے میں فلم انڈسٹری کو اداکاری کے میدان میں تازہ خون مہیّا کرنے والا ادارہ پاکستان ٹیلی ویژن ہی تھا جو نئے آرٹسٹوں کے لئے ایک ایسی تربیت گاہ بن چکا تھا جہاں سے ٹریننگ ختم کرتے ہی فن کار کسی سٹوڈیو کا رُخ کرتے تھے تاکہ بڑی سکرین پر جلوہ گر ہو کر اُن لاکھوں کروڑوں ناظرین تک رسائی حاصل کر سکیں جو ٹیلی ویژن کے دائرہ کار سے باہر تھے اور جن کے لئے فِلم ہی تفریح کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ ٹیلی ویژن کی ابتدا کے ایک ہی برس بعد 1965 میں ٹی وی ڈرامے کے مردِ اوّل قوی خان کو فلم رواج میں کام مل گیا اور اُس سے اگلے برس الف اور نون کے معروف کردار رفیع خاورننھا کو شباب کیرانوی نے اپنی فلم وطن کا سپاہی میں ایک اہم کردار دے دیا۔ اِن کامیاب تجربات سے دوسرے پروڈیوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی چنانچہ 1967 میں طارق عزیز اور علی اعجاز کو فلم انسانیت میں کام مِل گیا اور عثمان پیر زادہ کو فلم سازش میں کاسٹ کر لیا گیا۔ 1968 میں مسعود اختر کو فلم سنگدل میں ایک اہم رول ملا اور ایک برس بعد ٹی وی کے معروف اداکار منور سعید کو فلم گھر داماد میں کاسٹ کر لیا گیا۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ بین الاقوامی شہرت کے اداکار ضیا محی الدین اُس وقت پاکستان ہی میں مقیم تھے اور اپنے ٹی وی شو کی بدولت خاص و عام میں مقبول تھے لیکن کسی پاکستانی فلم میں انھیں 1971 سے پہلے کام نہ مِل سکا اور ’مجرم کون‘ نامی اس فلم میں کام کرنے کے بعد یا تو اُن کی دلچسپی پاکستانی فلموں میں ختم ہو گئی یا پھر پاکستانی فلم پروڈیوسروں کو وہ راس نہ آئے۔ یہی صورتِ حال بہت سے دیگر ٹی وی آرٹسٹوں کے سلسلے میں بھی دیکھی گئی کہ وہ بڑے طمطراق سے چھوٹی سکرین چھوڑ کر بڑی سکرین کی طرف گئے لیکن ایک آدھ فلم کے بعد اُن کے قدم اُکھڑ گئے اور آہستہ آہستہ ٹی وی اور فلم کی دنیا میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ چھوٹی سکرین کا اداکار اپنے دائرہِ کار ہی میں کمالات دکھا سکتا ہے، فلم کی سکرین اُن کے بس کی بات نہیں۔ خود اکثر ٹی وی اداکاروں کا کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن کے صاف ستھرے ماحول میں کام کرنے کے بعد فلمی دُنیا کی آلائیشیں اُن سے برداشت نہ ہو سکیں اور انھوں نے چھوٹی سکرین کی جانب لوٹ جانے ہی میں عافیت سمجھی۔ وجہ کوئی بھی ہو، یہ ایک حقیقت ہے کہ سن ساٹھ اور ستر کے عشروں میں ٹی وی اداکاروں کی ایک بڑی تعداد فلم کی جانب راغب ہوئی لیکن وہاں قدم نہ جما سکی۔ ذیل میں ایسے اداکاروں اور اُن کی اوّلین فلموں کی ایک فہرست دی جا رہی ہے جس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے: ریحانہ صدیقی، فلم ہمدم 1967 ناکامی کی ان مثالوں کے ساتھ ساتھ ہمیں چند ایسے نام بھی ملتے ہیں جنھوں نے ٹیلی ویژن پر اداکاری کا آغاز کیا اور بڑی سکرین پر بھی کامیاب و کامران رہے مثلاً ننھا، علی اعجاز، شاہنواز، بابر علی، ریشم اور ثناء وغیرہ۔ اس سلسلے میں بابرہ شریف اور غلام محی الدین کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں کیونکہ اِن دونوں نے جِتنا نام ٹی وی پر کمایا اُس سے بڑھ کر شہرت فلمی دنیا میں حاصل کی۔ بابرہ شریف ٹی وی پہ چلنے والے واشنگ پاؤڈر کے ایک اشتہار میں نمودار ہو کر عوام میں مقبول ہوئی تھی اور بلیک اینڈ وائٹ زمانے میں اُس نے کئی ٹی وی ڈراموں میں کام کیا تھا۔ حسینہ معین کا لکھا اور کنور آفتاب کا پروڈیوس کیا ہوا کھیل ’ہیپی عید مبارک‘ بابرہ کے لئے انتہائی مبارک ثابت ہوا اور فلمی دنیا کے دروازے اس پر ہمیشہ کے لئے کُھل گئے۔ بابرہ شریف کی پہلی فلم ’انتظار‘ تھی جو کہ 1974 میں بنی اور اُسی سال ٹی وی ڈراموں کے معروف ہیرو غلام محی الدین کو بھی فلم دِل والے میں کام مِل گیا لیکن ان دونوں کی قسمت کا ستارہ 8 اگست 1975 کو چمکا جب شباب کیرانوی کی فلم میرا نام ہے محبت ریلیز ہوئی جس میں ہیرو اور ہیروئن کے کردار انھی دو سابقہ ٹی وی آرٹسٹوں کو ملے تھے۔ جاوید شیخ کا کیس اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ وہ ندیم، وحید مراد یا شاہد کے پائے کا کمرشل ہیرو تو ثابت نہ ہوا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلمی صنعت کے بارے میں اُس کا تجربہ انتہائی وسیع ہو گیا اور جس زبردست کامیابی کے خواب وہ اداکاری کے میدان میں دیکھ رہا تھا وہ بالآخر فلم سازی اور ہدایتکاری کے میدان میں پورے ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||