BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 05:56 GMT 10:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیفڈک، رنگیلا اور مولا جٹ

جاوید جبار
جاوید جبار نیفڈک کی فلم مسافر کی شوٹنگ کے دوران
پاکستان کی فلمی تاریخ میں سن ستر کی دہائی کو ہم نے دو حوالوں سے دیکھا ہے: وحید مراد کا عروج و زوال اور بُھٹّو دَور کی فلمی ’’اِصلاحات‘‘ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اُس دور کی سب سے رنگیلی کہانی کا ذکر ابھی باقی ہے __ یعنی خود اداکار رنگیلا کی داستانِ عروج و زوال و عروج __ جی ہاں یہ آخری لفظ کتابت کی غلطی نہیں ہے بلکہ رنگیلا واقعی دنیا کے اُن معددے چند فنکاروں میں شامل ہے جو اپنے مکمل زوال کے بعد ایک بار پھر اُبھر کر سامنے آگئے۔

فن کار لوگ اپنی حساس طبعیت کی وجہ سے عموماً اپنے زوال کا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے لیکن رنگیلا اپنی ذاتی زندگی میں مشقت کی بھٹی سے تپ کے نکلا ہوا ایسا کندن بن چکا تھا کہ کاروباری اونچ نیچ کے حادثات اسکی چمک دمک کو ماند نہ کر سکے۔

عثمان پیرزادہ اور شمیم ہلالی 1975 میں
ویسے تو سن ستر کی دہائی شروع ہونے سے ذرا قبل ہی رنگیلا نے ’دیا اور طوفان‘ بنا کر ثابت کر دیا تھا کہ اس میں محض ایک مسخرے سے زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں تاہم اٹھارہ ستمبر 1970 کا دِن اس لحاظ سے یاد گار رہے گا کہ اس روز فلم ’رنگیلا‘ ریلیز ہوئی۔

اداکار رنگیلا میں اب اتنی خود اعتمادی آ چکی تھی کہ وہ اپنے نام پر فلم کا نام رکھ سکتے تھے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جب انھوں نے 1972 میں اپنے لئے ڈبل رول والی ایک کہانی تیار کی تو اُسی خود اعتمادی سے اسکا نام ’دو رنگیلے‘ رکھا اور یہ بھی سُپر ہٹ ثابت ہوئی۔ انھی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ایک برس بعد معروف فلم ساز و ہدایتکار شباب کیرانوی نے اَُس وقت کے دو مقبول ترین کامیڈی اداکاروں کے لئے ایک فلم لکھوائی اور بڑے دھڑّلے سے فلم کا نام رکھا: رنگیلا اور منور ظریف۔

1973 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم بھی بہت کامیاب رہی لیکن اُسی برس مکمل ہونے والی رنگیلا کی ذاتی فلم ’’کبڑا عاشق ‘‘ ریلیز ہوئی تو رنگیلے کا سنہرا امیج ایک دھماکے سے چکنا چور ہوگیا۔ اس فلم کی تکمیل پر رنگیلا نے تن من دھن قربان کردیا تھا اور اسکے خیال میں یہ عالمی سطح کا ایک شاہکار تھا لیکن حقیقت اسکے بالکل بر عکس نکلی تاہم یہ امر قابلِ غور ہےکہ شہرت و ناموری کے بلند مینار سے گرنے کے بعد رنگیلے نے وحید مُراد کی طرح جان سے ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا سفر نئے سرے سے شروع کر دیا۔

 ’’ حقیقت تو یہ ہے کہ ناصر ادیب نے جس خوبصورتی سے ’تصادم‘ کے عالمی فارمولے کو پنجاب کے ماحول میں ڈھالا اُس پر مصنف کو صرف داد ہی دی جاسکتی ہے‘‘
ہیرو، ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور رائیٹر کے اعلیٰ مناصب سے وہ یک دم ایک ایکسٹرا کی سطح پر آن گرا تھا لیکن قسمت نے جو مذاق اس کے ساتھ کیا تھا رنگیلے نے بھی اسے ہنسی میں اُڑا دیا اور فلموں میں چھوٹے موٹے رول قبول کرنے شروع کر دیئے اور یوں برسوں کی مشقت جھیل کر وہ ایک بار پھر فلم بینوں کے لئے قابلِ قبول بن گیا۔
’مگر یہ حوصلہء مردِ ہیچ کا رہ نہیں‘

سن ستر کے عشرے میں اگرچہ بھٹو حکومت کی دلچسپی کے باعث فلمی صنعت میں بہتری کے بہت سے امکانات پیدا ہوئے تھے لیکن اُن سے بھرپور فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔

پاکستان میں کامیاب ترین کاروبار کرنے والی فلم مولاجٹ

نیفڈک کا ادارہ جسکے قیام کا مقصد اچھی فلم سازی کے لئے سازگار حالات پیدا کرنا تھا، وہ خود خام فلم کا اجارہ دار بن گیا اور اس نے اپنی فلمیں بھی پروڈیوس کرنی شروع کر دیں، لیکن کثیر سرمائے سے بنی ہوئی ’خاک اور خون‘ اور ’مسافر‘ جسکا اصل نام تھا:
Beyond the last mountain
تماشائیوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت فلموں کی ترقی کے لئے قائم ہونے والا یہ سرکاری ادارہ سفید ہاتھی کی صورت اختیار کر رہا تھا۔ اس وقت مارکیٹ میں خوفناک، ان داتا، آئینہ، سلاخیں (حسن عسکری)، پلے بوائے اور مولا جٹ جیسی سُپر ہٹ فلمیں بھی چل رہی تھیں جو کہ بغیر کسی سرکاری امداد کے بنی تھیں، بلکہ نیفڈک کی پیدا کردہ مشکلات اور ضیاء دَور کے سخت ترین سینسر قوانین کی مار سہہ کر بھی سینما گھروں کی رونق قائم رکھے ہوئے تھیں۔

اصلی کُبڑا عاشق: انتھونی کوئن
اس ضمن میں مولاجٹ خصوصی تذکرے کی مستحق ہے کیونکہ اس فلم نے مقبولیت کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔ اسے بنانے والے سیدھے سادے فلمی لوگ تھے جنھوں نے نہ تو فلمی تاریخ کے مطالعے کا دعویٰ کیا تھا اور نہ ہی امریکہ یا برطانیہ سے فلم سازی کی تربیت حاصل کی تھی۔ کارپردازانِ نیفڈک کی زبان میں یہ سستی اور غیر معیاری فلمیں بنانے والے لوگ تھے اور فلمی دانش وری انھیں چھُو کے بھی نہ گزری تھی لیکن کوئی بھی انصاف پسند نقاد اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مولا جٹ میں مرکزی کردار کی ساخت اور اسکے مقابل اتنے ہی طاقت ور ولن کا وجود ہالی وُڈ کا وہ آزمودہ نسخہ تھا جس پر مبنی ویسٹرن فلمیں کئی عشروں تک دنیا بھر کے سینما گھروں پر حکمرانی کرتی رہی ہیں۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ اسی امریکی فارمولے کو جب جاپانی ہدایتکار کروساوا نے سیون سمورائی میں استعمال کیا تو دنیا بھر کے فلمی نقّادوں نے اسے داد دی لیکن جب ایک پاکستانی مصنف ناصر ادیب نے اس فارمولے پر مولاجٹ لکھی تو اہلِ نیفڈک نے اسے ایک چِیپ (سستی) اور غیر میعاری فلم قرار دیا اور کہا کہ اس سے عوام کا ذوق خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ناصر ادیب نے جس خوبصورتی سے ’’تصادم‘‘ کے عالمی فارمولے کو پنجاب کے ماحول میں ڈھالا اُس پر مصنف کو صرف داد ہی دی جاسکتی ہے، رہے نیفڈک والوں کے اعتراضات تو عوامی ذوق کو بلند کرنے کے لئے اس ادارے کی اپنی کارکردگی کیا تھی؟

خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

نیفڈک کی تعمیر ہی میں اسکی خرابی کی صورت مضمر تھی چنانچہ اپنے قیام کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ ادارہ ڈانواں ڈول ہو گیا اور اسکا مقصد محض کچھ اعلیٰ سرکاری افسروں کی کھپت بن کے رہ گیا چنانچہ نیفڈک کے بند ہوجانے پر تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی البتہ اتنے برس تک اسکے چلتے رہنے پر حیرت ضرور ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی
23 February, 2005 | فن فنکار
’اب پاکستان نہیں جاؤں گی‘
16 April, 2005 | فن فنکار
لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط
23 August, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد