پریتی زنٹا کا اخبار کے خلاف مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بولی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے ممبئی کے اخبار ’مڈ ڈے‘ کےخلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ ممبئی کے گرگام علاقہ میں واقع ایک عدالت کے میٹرو پولٹین مجسٹریٹ دلیپ جوشی کے سامنے پریتی کے وکیل نے مقدمے کی دستاویزات پیش کیں۔ مجسٹریٹ نے کیس کی سماعت تیرہ دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ حال ہی میں سلمان خان اور ایشوریہ رائے کی گفتگو کی متنازعہ ٹیپ ایک ٹی وی چینل نے دکھائی تھی جس میں بظاہر سلمان خان ایشوریہ رائے سے شراب کے نشے میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس گفتگو کے دوران پریتی زنٹا کا بھی ذکر آیا تھا اور ان کا تذکرہ اچھے لفظوں میں نہیں کیا گیا تھا۔اس وقت مذکورہ اخبار نے اس مبینہ گفتگو کے اقتباسات شائع کیے تھے۔ پریتی نے اس وقت اخبار کو ایک نوٹس جاری کیا تھا لیکن اب ٹیپ کی سچائی سامنے آنے کے بعد پریتی نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اخبار کی ڈپٹی ایڈیٹر لاجونتی ڈی سوزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اخبار نے پریتی کے نوٹس کا جواب بھی دیا تھا لیکن اس کے بعد اب اچانک کیا بات ہو ئی یہ ان کے علم میں نہیں ہے۔ لاجونتی کا کہنا ہے کہ انہیں خود اس بات کا دکھ ہے کہ پریتی کا نام اس طرح کیسیٹ میں گفتگو کے دوران لیا گیا تھا۔لاجونتی نے قبول کیا کہ کسی بھی شخص کے بارے میں کچھ بھی شائع کرنے سے پہلے اس کا موقف بھی جاننے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی صحافت کا اصول بھی ہے لیکن یہ بدقسمتی تھی کہ اس وقت پریتی سے رابطہ کرنے کی رپورٹر کی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ اس ٹیپ کی وجہ سے پورے بھارت میں ہنگامہ ہوا تھا اور مہاراشٹر کی حکومت نے اس کی تفتیش کے احکامات بھی دیے تھے۔ سلمان خان اور ایشوریہ رائے کی آواز کے نمونوں کی چنڈی گڑھ کی فورینسک لیباریٹری میں جانچ ہوئی تھی۔جانچ کے بعد جو رپورٹ سامنے آئی تھی اس کے مطابق ٹیپ کی آوازیں سلمان اور ایشوریہ رائے کی نہیں تھیں۔ معروف صحافی سنیل شیودسانی کا خیال ہے کہ پریتی اخبار کے جواب سے یا تو مطمئن نہیں تھیں یا پھر لیباریٹری کی جانچ میں جب یہ بات سامنے آگئی کہ وہ آوازیں ہی سلمان اور ایشوریہ کی نہیں ہیں تو پھر اخبار نے جو کچھ شائع کیا وہ جھوٹ تھا اور اس سے ان کا وقار مجروح ہوا ہے۔ پریتی کا کہنا ہے کہ کیس داخل کرنے سے ان کا مقصد رقم کا مطالبہ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ صحافت کو اپنے اصولوں کو مدنظر رکھ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’اخبار سچ لکھے ،سچ لکھنے سے کسی نے منع نہیں کیا ہے ۔لوگوں کو سچ جاننے کا حق حاصل ہے لیکن صحافی سماج اور عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔‘ پریتی نے مزید کہا کہ ’میرے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ایک غلط تاثر پیدا کرتا ہے اس لیے میرا کہنا ہے کہ چاہے وہ کوئی اخبار ہی کیوں نہ ہو کسی کے بھی بارے میں کچھ بھی لکھ کر اس کی عزت سے نہیں کھیل سکتا۔امریکہ میں کئی اخبار ہیں لیکن وہاں ایسا نہیں ہوتا ہے ۔‘ پریتی گزشتہ کئی مہینوں سے ملک سے باہر امریکہ اور کئی یورپی ممالک میں فلموں کی شوٹنگ میں مصروف تھیں جس میں فلم ’جان من‘ بھی شامل ہے جس میں ان کے مد مقابل سلمان خان ہیرو ہیں۔ پریتی نے وطن واپسی کے بعد یہ مقدمہ دائر کیا ہے جس کے بعد ایک بار پھر وہ ساری باتیں تازہ ہو گئی ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں پریٹی: دو دفعہ موت کے منہ میں18 February, 2005 | فن فنکار ’ثقافتی تبادلے عوام کو قریب لائیں گے‘28 August, 2004 | فن فنکار ’تم کو اپنی تلاش کرنی ہے‘31 March, 2004 | فن فنکار اک نئے انداز میں03 February, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||