BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اک نئے انداز میں

اک نئے انداز کے ساتھ
اک نئے انداز کے ساتھ
اگر آپ ہندی فلموں کے دیوانے ہیں تو ٹنوں کے حساب سے پاپ کارن تیار رکھئے کیونکہ یہ سال بھارت کی فلمی صنعت کے لیے مبارک ترین ثابت ہونے والا ہے۔

اس سال ریلیز ہونے والی فلموں میں پیار محبت تو ہو گا ہی، لیکن ان میں انگریز کے راج سے لے کر کرگل کی لڑائی تک جیسے مختلف موضوعات بھی شامل ہیں۔ نامور ہدائیتکار یش چوپڑا سے لے کر نووارد فرحان اختر تک سبھی اس سال اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کر رہے ہیں۔

یہ سال بالی وڈ کے لیے اہم اس لئے ہے کہ نوجوان فلمسازوں نے پرانے رویوں کو ٹھکرا کر پہلی بار ایک نئی راہ کا تعین کیا ہے، اور ان کی کوشش اور ہمت سے ہی بالی وڈ کا ایک نیا اور زیادہ پر کشش چہرہ ابھر رہا ہے۔

ہم نے پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں لاجواب فلمیں بنائی ہیں۔ کاغذ کے پھول یاد ہے؟ اور مدر انڈیا، پاکیزہ، ہاف ٹکٹ، پڑوسن - - - کیا جادو تھا ان فلموں میں! جاندار اداکاری، شاندار موسیقی، مزیدار کامیڈی اور فلمسازی کا ایسا انداز جس میں تکنیک اور سادگی کا خوبصورت امتزاج ملتا تھا۔

یہ بالی وڈ کا سنہرا دور تھا۔

پریتی زنٹا
یہ سال بہترین ہو گا

پھر اسّی کا عشرہ آیا جو ’ایکشن‘ کی وبا ساتھ لایا۔ نازک پری جیسی ہیروئین کا وقت ختم ہوا اور اس کی جگہ لی باڈی بلڈر ہیرو نے۔ ہیروئین بیچاری کا کام صرف اتنا رہ گیا کہ اسے اغوا کیا جائے اور اس کے ساتھ زور زبردستی کی جائے، تاکہ ہیرو کو انتقام لینے کا موقعہ مل سکے۔

اس دور میں کچھ اچھی فلمیں بھی بنیں لیکن ان کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ امراؤ جان، نکاح، اور آہستہ آہستہ، جیسی ان فلموں نے اس زمانے کے مروجہ قوانین کو توڑ کر ہی اپنی حیثیت منوائی۔

یہ بالی وڈ کا تاریک ترین دور تھا۔

اسّی کی دہائی میں ’فارمولا فلم‘ کا جو رواج چلا وہ نوے کے عشرے میں بھی قائم رہا۔ ادھر ٹی وی چینل فلم بینوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے اور ادھر فلمساز اس چیلنج کا سامنا کرنے کی بجائے محفوظ سرمایہ کاری پر زور دے رہے تھے۔

ان کی سوچ یہ تھی کہ دو چار بڑے نام والے ایکٹر لو، ایک دو اچھے گانے ریکارڈ کروا لو، بھگوان سے ہاتھ جوڑ کر پرارتھنا کرو - - - اور اس نے چاہا تو فلم پیسے پورے کر جائے گی۔

بالی وڈ کے نئے چہرے کے خدوخال سن دو ہزار ایک میں بننا شروع ہوئے، ’دل چاہتا ہے‘ کی ریلیز کے ساتھ۔

نمرتا شرودکر
بالی وڈ کا نیا چہرہ

اس نئے بالی وڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اداکار اور ہدائیتکار سے زیادہ اہم سکرپٹ ہے۔ سٹوڈیو میں ڈبنگ کی بجائے سیٹ پر ہی مکالمے ریکارڈ کئے جاتے ہیں، اور اداکار اور فلمساز بھی اب ایک وقت میں ایک ہی فلم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے کام کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے اور کہانی کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے۔

ورنہ تو ہماری فلموں میں یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ لڑائی کے ایک منظر میں ہیرو کے منہ پر مکا لگا اور وہ زمین پر آ گرا۔ جب وہ اٹھا تو اس کی حجامت ہو چکی تھی۔ نہیں پٹائی والی حجامت نہیں، حجام والی۔

مجھے تو اس نئے بالی وڈ میں کام کرنے کا بہت مزا آ رہا ہے۔ مجھے یوں بھی ناچنا، گانا اور طرح طرح کے ملبوسات پہننا اچھا لگتا ہے۔ میں فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ ان چیزوں کو اتنی خوبصورتی سے صرف بالی وڈ ہی پیش کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد