BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 March, 2004, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تم کو اپنی تلاش کرنی ہے‘

بھارت
روایتوں میں جکڑی بھارتی ناری
پریٹی زنٹا کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ بھارتی عورت مردوں کے تسلط سے نکل کر اپنی قسمت خود بنائے۔

بقول پریٹی زنٹا ’ہمارے بھارتی معاشرے میں جب تک لڑکی باپ کے گھر میں ہوتی ہے وہ باپ کی دست نگر ہوتی ہے پھر شادی ہوتی ہے تو شوہر کی ہاں اور ناں پر عمل کرتی ہے اور بڑھاپے میں بیٹے کی محتاج، لیکن میں ایسا نہیں چاہتی بھارتی عورت کو اپنی قسمت اب خود بنانا ہوگی۔ اور جب میں بچی تھی تو میرے والد نے بھی مجھ سے یہی کہا تھا۔‘

بقول پریٹی زنٹا’ میرے والدنے میرے لئے یہ ممکن بنایا تھا اور آج میں جہاں کھڑی ہوں اسی کی بدولت ہوں‘۔

بھارتی عورت کو بدلنا ہو گا
 ’آج میرے والد تو نہیں رہے مگر میں جو بھی ہوں، وہی ہوں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یعنی خود مختار،پر اعتماد اور اپنی قسمت کی مالک‘۔
پریٹی زنٹا

پریٹی زنٹا نے آج کی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آج میرے والد تو نہیں رہے مگر میں جو بھی ہوں،وہی ہوں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یعنی خود مختار،پر اعتماد اور اپنی قسمت کی مالک‘۔

بی بی سی نیوز آن لائن کے لئے اپنے اس کالم میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’اگر میری زندگی ایک فلم ہوتی تو میرے والد ہی میرے واحد ہیرو ہوتے‘۔

لہذا ’میں آج کی ایک جدید جہت رکھنے والی بھارتی ناری ہوں۔ میں اپنی قدروں اور ثقافت کو نہیں بھولی ہوں۔

میں آگے بڑھنے کی لگن رکھتی ہوں اور کام کرنا چاہتی ہوں‘۔ مگر پھر بھی ایک مسًلہ ہے۔

News image
بھارتی عورت کو بدلنا ہوگا

بقول پریٹی زنٹا میری لگن اور ہمت تو اپنی جگہ لیکن بھارت میں رہتے ہوئے میں خود محفوظ نہیں سمجھتی اور میں ہی کیا بھارت کی کوئی بھی عورت سڑک پر چلتے ہوئے خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔

اور ایسا ہے کیوں؟ میں ہی آپ کو بتاتی ہوں’ ہمارے معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں عورت پر جملے بازی یا فقرے کسنا ایک لازمی جز سا بن گیا ہے چاہے وہ آتے جاتے سڑک کنارے ہوں یا عورتوں کو جنسی حد تک حملوں کا نشانہ بنانا ہو‘۔

ان سب کے جواب میں میرے پاس جو حل ہے وہ بھی جان لیجیئے

بھرے بازار میں گھبرانے کی ضرورت نہیں
 ’اگر آپ کے ساتھ بھی بھرے بازار میں کوئی بدتمیزی کی جرات کر بیٹھے تو میرا طریقہ تو یہ کہتا ہے کہ پلٹیں اور پلٹ کر منہ پر ایک پر اعتماد تھپڑ رسید کریں جیسا کہ چند برس پہلے میں نے دہلی کے ایک مصروف بازار میں کیا تھا
پریٹی زنٹا
’اگر آپ کے ساتھ بھی بھرے بازار میں کوئی بدتمیزی کی جرات کر بیٹھے تو میرا طریقہ تو یہ کہتا ہے کہ پلٹیں اور پلٹ کر منہ پر ایک پر اعتماد تھپڑ رسید کریں جیسا کہ چند برس پہلے میں نے دہلی کے ایک مصروف بازار میں کیا تھا‘۔

لیکن ایسے واقعات عورتوں سے کا وقار اور ان کی آزادی ضرور متاثر ہوتے ہیں۔

بقول پریٹی زنٹا ’میں تو ایک فلم سٹار ہوں سو ایسے نا خوشگوار واقعات میرے ساتھ اب کم ہی ہوتے ہیں۔ میرے محافظ میرے ساتھ ہوتے ہیں مگر بھارت کی ایک عام عورت کا محافظ کون ہوگا؟

اپنے کالم کے اختتام پر پریٹی زنٹا نے حالات و واقعات کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ
’ اگر سب کا نہیں تو بعض مردوں کا مسًلہ ہے کیا؟ یوں بھی ہمارے ملک بھارت میں عورتوں سے متعلق مسائل کوذراکم ہی گھاس ڈالی جاتی ہے۔ لیکن میں ہمیشہ سے امید پرست ہوں۔ وقت اور روایتیں بدلیں گی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد