’تم کو اپنی تلاش کرنی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پریٹی زنٹا کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ بھارتی عورت مردوں کے تسلط سے نکل کر اپنی قسمت خود بنائے۔ بقول پریٹی زنٹا ’ہمارے بھارتی معاشرے میں جب تک لڑکی باپ کے گھر میں ہوتی ہے وہ باپ کی دست نگر ہوتی ہے پھر شادی ہوتی ہے تو شوہر کی ہاں اور ناں پر عمل کرتی ہے اور بڑھاپے میں بیٹے کی محتاج، لیکن میں ایسا نہیں چاہتی بھارتی عورت کو اپنی قسمت اب خود بنانا ہوگی۔ اور جب میں بچی تھی تو میرے والد نے بھی مجھ سے یہی کہا تھا۔‘ بقول پریٹی زنٹا’ میرے والدنے میرے لئے یہ ممکن بنایا تھا اور آج میں جہاں کھڑی ہوں اسی کی بدولت ہوں‘۔
پریٹی زنٹا نے آج کی عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آج میرے والد تو نہیں رہے مگر میں جو بھی ہوں،وہی ہوں جیسا وہ چاہتے تھے۔ یعنی خود مختار،پر اعتماد اور اپنی قسمت کی مالک‘۔ بی بی سی نیوز آن لائن کے لئے اپنے اس کالم میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’اگر میری زندگی ایک فلم ہوتی تو میرے والد ہی میرے واحد ہیرو ہوتے‘۔ لہذا ’میں آج کی ایک جدید جہت رکھنے والی بھارتی ناری ہوں۔ میں اپنی قدروں اور ثقافت کو نہیں بھولی ہوں۔ میں آگے بڑھنے کی لگن رکھتی ہوں اور کام کرنا چاہتی ہوں‘۔ مگر پھر بھی ایک مسًلہ ہے۔
بقول پریٹی زنٹا میری لگن اور ہمت تو اپنی جگہ لیکن بھارت میں رہتے ہوئے میں خود محفوظ نہیں سمجھتی اور میں ہی کیا بھارت کی کوئی بھی عورت سڑک پر چلتے ہوئے خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔ اور ایسا ہے کیوں؟ میں ہی آپ کو بتاتی ہوں’ ہمارے معاشرے میں کسی نہ کسی شکل میں عورت پر جملے بازی یا فقرے کسنا ایک لازمی جز سا بن گیا ہے چاہے وہ آتے جاتے سڑک کنارے ہوں یا عورتوں کو جنسی حد تک حملوں کا نشانہ بنانا ہو‘۔ ان سب کے جواب میں میرے پاس جو حل ہے وہ بھی جان لیجیئے
لیکن ایسے واقعات عورتوں سے کا وقار اور ان کی آزادی ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ بقول پریٹی زنٹا ’میں تو ایک فلم سٹار ہوں سو ایسے نا خوشگوار واقعات میرے ساتھ اب کم ہی ہوتے ہیں۔ میرے محافظ میرے ساتھ ہوتے ہیں مگر بھارت کی ایک عام عورت کا محافظ کون ہوگا؟ اپنے کالم کے اختتام پر پریٹی زنٹا نے حالات و واقعات کو سمیٹتے ہوئے لکھا ہے کہ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||