| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’افغان عورت کی تقدیر نہیں بدلی‘
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھی افغان عورت کی حالت زار میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تقریباً دو سال پہلے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے کئی عورتوں کی زندگیاں بدلی گئی ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لڑکیاں سکول جارہی ہیں جبکہ کئی خواتین کام پر جارہی ہیں۔ لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عصمت دری کے خطرات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور آٹھ آٹھ سال تک کی لڑکیوں کی زبردستی شادیاں کرائی جارہی ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے خواتین کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اگرچہ طالبان کے خلاف جنگ کے موقعہ پر کئی عالمی رہنماؤں نے کہا تھا کہ جنگ کے نتیجے میں افغان عورتوں کو آزادی نصیب ہوگی لیکن اب بھی کئی بدنصیب افغان عورتیں اسی طرح جبر کا شکار ہیں جتنی پہلے تھیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ افغانستان کے آئین کے مسودے کے منظر عام پر آنے کے چند روز بیشتر جاری کی گئی ہے جس سے افغان معاشرے کے عورت کی طرف رویے میں نمایاں تبدیلی آنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔ لیکن اگر عورتیں کی آزادی سے متعلق یہ قوانین لویا جرگہ سے منظور بھی ہو گئے تو اس طرح کے خدشات موجود ہیں کہ ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکے گا۔ افغانستان کے زیادہ تر علاقے میں بدامنی کی سی صورت حال ہے اور صدر حامد کرزئی کا کنٹرول کابل تک محدود ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||