پریٹی: دو دفعہ موت کے منہ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جو ہماری ساری زندگی کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے لمحے ہماری سوچ، اور رویوں کو بدل ڈالتے ہیں۔ ایسے ہی لمحے میرے زندگی میں آئے اور چلے گئے۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے باوجود میں زندہ ہوں اور اپنے ان لمحات کے بارے بات کرنے کے قابل ہوں۔ پہلا واقعہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں گیارہ دسمبر کو اس وقت پیش آیا جب میں ایک بالی وڈ شو میں حصہ لے رہی تھی جو کولمبو میں واقع ایک کرکٹ گروانڈ میں منعقد کیا جا رہا تھا۔ شو کے ختم ہونے میں بس چند منٹ ہی رہ گے تھے جب شاہ رخ خان ڈانسروں کے ساتھ پرفارمنس دینے میں مصروف تھے اور میں اپنی باری کے انتظار کر رہی تھی۔ اچانک مجھے ایک آدمی ہوا میں آڑتا ہوا نظر آیا۔ شاہ رخ خان اپنے دائیں اور بائیں دیکھتے ہیں اور سٹیج پر موجود ڈانسر فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے۔ میں سٹیج پر آگے بڑھی ا ور کیا دیکھتی ہوں کہ ہر طرف خون ہی خون ہے۔ اس تقریب کی پہلی قطار میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے اور جس میں دو لوگ درجن سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔جب میں سٹیچ کے پچھلے حصے سے باہر آ رہی تھی تو میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کا ایک بازو اڑ چکا تھا اور پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ کوئی ہے جو میری مدد کرئے لیکن ہر کوئی اپنی جان بچانے کے فکر میں وہاں سے بھاگ رہا تھا۔ میں بھی اس میک اپ اور مختصر لباس پہنے اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ رہی تھی۔ مجھے نہیں معلوم دھماکہ کرنے والوں کے کیا عزائم تھا اور انہوں نے کیوں ایسے کیا۔ زندگی میں دوسری بار موت میر ے اتنے قریب سے گزری کہ میں اپنے بچ جانے پر حیران ہوں۔ میں نے زندگی کی مصروفیتوں سے جان چھڑا کر بحرہ ہند میں واقع تھائی لینڈ کے ایک جزیرے پر کرسمس منانے کا پروگرام بنایا۔ میں پچیس دسمبر کو تھائی لینڈ کے شہر پوکھٹ میں نے ایک ولا کرائے پر لیا اور فیصلہ کیا کہ سال بھر کی ساری تھکاوٹ اس تفریحی مقام پر اتاروں گی۔ کرسمس کی شام میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ گزاری۔ ہم نے اکھٹے ڈنر کیااور صبح کے دو بجے واپس اپنے ولا میں واپس پہنچی تو اتنی تھک چکی تھی کہ میں فوراً سو گئی۔ سونے کے دوران میں نے شور سنا لیکن میری نیند اتنی گہری تھی کہ بستر پر ہی گروٹیں بدلتی رہی اور دل ہی دل میں شور مچانے کو لعن طعن کرتی رہی۔ اچانک دروازے پر کوئی زور زور سے کھٹکھاتا ہے اور جب نیند کی حالت میں دروازہ کھولتی ہوں تو وہاں میرا ایک دوست کھڑا ہے۔ اس نے بتایا کہ سمندری لہر آئی ہوئی ہے اور ہمیں وہاں سے فوراً نکل جانا چاہیے۔ جب میں وہاں سے نکلتی ہوں تو ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ تب مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ موت میرے کتنے قریب سے ہو کر گذر گئی ہے ۔ میں سونامی کی لہروں کے دوران سوئی رہی اور یہ سب کچھ وہاں ہوا جہاں چھ ہزار سے زیادہ لوگ سونامی کی لہروں کا شکار ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||