بولتی فلم: عالم آراء کے بعد ہیر رانجھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برِصغیر میں آج سے پورے 75 برس پہلے ناطق فلموں کا آغاز ہوا تھا۔ بمبئی میں پہلی باقاعدہ فلم اگرچہ 1913 میں بن چکی تھی جسکے خالق دادا صاحب پھالکے تھے لیکن یہ ایک خاموش فلم تھی کیونکہ آواز کو فلم کے ساتھ ریکارڈ کرنے کا انتظام ابھی مغربی دنیا میں بھی شروع نہیں ہوا تھا۔ آواز کو برقیاتی طریقے سے ریکارڈ کرنے کا اوّلین تجربہ 1876 میں ہوا تھا جس کے لئے ایک بہت بڑی چرخی پر ایک موٹی تار لپیٹ کر بچوں کی نظم کا یہ مصرع ریکارڈ کیا گیا تھا: Mary had a little lamb یہ چرخی اور تار اب بھی لندن کے سائنس میوزیم میں موجود ہے اور دنیا کی پہلی ریکارڈ شدہ آواز بھی اُس میوزیم میں ایک ہیڈ فون کے ذریعے سنی جا سکتی ہے۔ آواز کو 78 آر پی ایم کی ڈسک پر ریکارڈ کرنے کا رواج برسوں تک جاری رہا جس کے بعد ٹیپ کا زمانہ آگیا اور آج کل ہم ایک قدم آگے پہنچ کر سی ڈی اور فلیش ڈرائیو کا استعمال کر رہے ہیں۔ گویا ڈھائی تین سو گانوں کی ریکارڈنگ ہم ایک ماچس کے رقبے میں قید کر سکتے ہیں۔
The Jazz Singer ہندوستان میں پہلی بولتی فلم بنانے کا اعزاز اردشیر ایرانی نے حاصل کیا اور آج سے پورے 75 سال پہلے مارچ 1931 میں عالم آراء منظرِ عام پر آئی۔ افسوس کہ تاریخی اہمیت کی اس فلم کا نیگیٹو حادثاتِ زمانہ کے نذر ہوگیا اور اسکا کوئی پرنٹ بھی صحیح سلامت حالت میں موجود نہیں ہے۔ پُونا انسٹی ٹیوٹ میں موجود چند کٹے پھٹے ٹکڑوں سے اس فلم کی ساخت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔ سن 1930 کا عشرہ دنیا بھر کی فلمی صنعت کے لئے ایک انقلاب آفرین دور تھا۔ برطانوی ہدایتکار الفریڈ ہچکاک نے 1929 میں اپنی شہرہ آفاق فلم بلیک میل بنائی لیکن ابھی نمائش کے نوبت نہیں آئی تھی کہ تقسیم کاروں کی جانب سے پُر زور مطالبہ ہوا کہ اس خاموش فلم کو ناطق فلم میں تبدیل کردیا جائے۔ ہچکاک اس پر تیار نہ تھا لیکن بہت دباؤ پڑنے پر اُس نے بلیک میل کا ایک علیحدہ ورژن آواز کے ساتھ بھی تیار کر دیا۔ آج یہ فلم خاموش اور ناطق دونوں صورتوں میں موجود ہے اور برٹش فلم انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری میں فلم ٹکنیک کے طالب علموں کو دعوتِ دیدار دیتی ہے۔
فلم کی کہانی پنجاب کے معروف ترین رومان کے گرد گھومتی تھی یعنی ہیر رانجھا کی کہانی۔ اسکی پروڈکشن کا پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ جب ہندوستان کی پہلی بولتی فلم لاہور میں نمائش کے لئے آئی تو تہلکہ مچ گیا اور ریجنٹ سینما میں انتظامیہ نے خود ہی دو آنے والی ٹکٹ کا ریٹ چھ آنے کر دیا۔ تقسیم کار حکیم رام پرشاد نے اس فلم سے اتنا پیسہ کمایا کے انھوں نے بھی ایک ناطق فلم بنانے کا اعلان کردیا اور یہی فلم ہیر رانجھا تھی۔ اسکی کہانی تو سبھی جانتے تھے۔ کردارنگاری اور مکالمات کے لئے لاہور میں دیال سنگھ کالج کے لیکچرار سید عابد علی عابد کی خدمات حاصل کی گئیں اور ہدایتکاری کے لئے پنجاب میں فلم کے مردِ اوّل میاں عبدالرشید کاردار سے رابطہ کیا گیا جوکہ بمبئی جاکر آباد ہو چکے تھے۔ لاہور کی اس پہلی ناطق فلم میں ہیرو کا کردار معروف موسیقار اور خوبرو پنجابی نوجوان رفیق غزنوی نے ادا کیا اور ہیروئن کے لئے امرتسر کی حسینہ انور بیگم کا انتخاب کیا گیا۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کر سکی لیکن اس نے کئی دلچسپ واقعات کو جنم دیا۔ مثلاً اسکے ہیرو رفیق غزنوی اور انور بیگم میں سچ مُچ کا رومانس شروع ہو گیا جو کہ بعد میں شادی پر منتج ہوا۔
1932 ہی میں لاہور کی دوسری ناطق فلم رادھے شیام بھی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی جسکے فلم ساز اور ہدایت کار آر ایل شوری تھے اوراسی سال پاکدامن رقاصہ عرف پوتر نرتکی اور دیش بندھو کی فلم بندی بھی شروع ہو گئی۔ انکے علاوہ لاہور میں ایک اور ناطق فلم ’محبت کی مار‘ بھی شروع ہوئی جسکے ہیرو اُس زمانے کے معروف اداکار ہیرا لال تھے۔ برِصغیر کی ابتدائی فلموں کے بارے میں یہ معلومات مختلف رسائل وجرائد کے مضامین اور کالموں میں بکھری پڑی ہیں اور انھیں جمع کرنے کے لئے جس عرق ریزی اور شب بیداری کی ضرورت تھی وہ کسی باہمت اور باحوصلہ شخص ہی کا کام تھا۔ پاکستان کے خاموش فلمی موّرخ یاسین گوریجہ کی زندگی کا یہ آخری کارنامہ اب مطبوعہ شکل میں سامنے آگیا ہے۔ عنوان ہے: کتاب کے شروع میں فلم سازی کی اُن ابتدائی کوششوں کا ذکر ہے جو فرانس میں ہوئیں اور اُن فرانسیسی فلموں کا تذکرہ بھی ہے جن کی نمائش لومیئر برادران کی طرف سے بمبئی میں کی گئی۔ یٰسین گوریجہ کی اس تاریخی دستاویز کا اہم ترین حصّہ وہ ہے جس میں اوّلین فلم سے لیکر کتاب کی اشاعت تک بننے والی تمام ہندوستانی فلموں کی فہرست درج ہے۔ اور یہ محض فلموں کے نام ہی نہیں ہیں بلکہ اُن کے اداکاروں، ہدایتکاروں، موسیقاروں اور پروڈکشن کمپنیوں کی تفصیل بھی موجود ہے۔ کتاب کو مزید کارآمد بنانے کے لئے ہندوستانی فلم انڈسٹری کے تمام اہم پروڈیوسروں، ڈائریکٹروں، اداکاروں، موسیقاروں، کیمرہ مینوں اور فلم ایڈیٹروں وغیرہ کے نام پتے اور فون نمبر بھی کتاب میں موجود ہیں اور اس طرح یہ ہندوستانی فلمی تاریخ کے ساتھ ساتھ انڈین سینما کی ایک کارآمد ہینڈبک بھی بن گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||