محمد علی: لاکھوں میں ایک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمد علی کی موت سے واقعی فنِ اداکاری کا ایک باب ختم ہوگیا ہے کیونکہ مرحوم، اداکاری کے اس مکتبہ خیال سے تعلق رکھتے تھے جس میں جسمانی حرکات و سکنات کے ساتھ ساتھ آواز کی ادائیگی، تلفظ کی صحت اور زبان کی نزاکتوں کو بھی برابر کی اہمیت دی جاتی تھی۔ یہ اسکول آف ایکٹنگ پاک و ہند کے سینما میں سہراب مُودی سے شروع ہو کر پرتھوی راج کپور تک آتا ہے۔ پاکستان میں اسکے واحد نمائندے محمد علی ہی تھے۔ اگر اس ملک میں فلمی صنعت زندہ رہتی تو شاید طلعت حسین اس روایت کو آگے بڑھا سکتے لیکن فی الحال یہ باب ہمیشہ کے لیئے بند ہوتا محسوس ہو رہاہے۔ محمد علی دس برس کی عمر میں والدین کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور سندھ میں آباد ہوئے۔ اُن کے والد مرشد علی ذکروفکر میں مگن رہنے والے درویش صفت انسان تھے۔ گھر کا عمومی ماحول مذہبی تھا۔ اعزاواقربا میں کئی افراد ذاکر تھے چنانچہ آواز کی بنیادی تربیت تو اندرونِ خانہ ہی ہو گئی تھی اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں پہنچے تو گویا اِس سونے پر سہاگہ ہوگیا۔ تاہم اس سونے کو کندن بنانے کا سہرا بابائے ریڈیو سید ذوالفقار علی بخاری کے سر ہے جنھوں نے محمد علی کو اپنے سایہء عاطفت میں لے کر آواز کی ایسی تراش خراش کی کہ ملک بھر میں کوئی بھی صداکار محمد علی کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ یہ سن پچاس کی دہائی کے آخری سال تھے۔ محمد علی کی آواز ذوالفقار بخاری سے ادائیگی کے سارے گُر سیکھنے کے بعد چینخ چینخ کر کہہ رہی تھی: آخر کار اس وسعتِ بیان کا انتظام بھی خود بخاری صاحب ہی نے کر دیا اور 1962 میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’چراغ جلتا رہا‘ میں محمد علی کو کام دِلوایا۔ اسی فلم میں اداکارہ زیبا بھی پہلی بار نمودار ہوئیں جنھیں برسوں بعد محمد علی کی جیون ساتھی بننا تھا اور اتفاق سے ریڈیو پاکستان کے نوجوان صداکار طلعت حسین کو بھی اسی فلم میں اداکاری کا پہلا چانس مِلا۔ چراغ جلتا رہا ایک ایسی فلم تھی جو محمد علی کے لیئے اسم بامسمٰی ثابت ہوئی۔ یعنی اس فلم کے بعد محمد علی کے فن کا چراغ برسوں تک روشن رہا۔ چراغ جلتا رہا سے لیکر ’محبت ہو تو ایسی‘ (1989) تک اپنی 27 سالہ فلمی زندگی میں محمد علی نے کوئی تین سو فلموں میں کام کیا۔ کیرئر کے آغاز میں انھوں نے ’مسٹر ایکس‘ جیسی ناکام ایکشن فلموں سے لیکر نیلا پربت جیسے فلاپ تجربات تک ہر طرح کی فلم قبول کر لی لیکن 1964 میں ہدایتکار جمیل اختر کی فلم ’خاموش رہو‘ کے بعد وہ خاصے محتاط ہو گئے اور صرف ایسے کردار قبول کرنے شروع کر دیئے جو اُن کی شخصیت اور فن کے شایانِ شان تھے۔ 1965 سے 1980 تک کے پندرہ برس محمد علی کی اداکاری کے عروج کا زمانہ ہیں۔ یاد رہے کہ یہ دور اچھے اداکاروں سے خالی نہیں تھا اور متوازی سطح پر وحید مراد اور ندیم جیسے ہیرو بھی اپنے کمالات دکھا رہے تھے۔ لیکن یہ دونوں گیت گانے اور ہیروئن کے پیچھے پیچھے بھاگنے والے منچلے ہیرو تھے جبکہ محمد علی نے روزِ اوّل سے اپنے لیئے جذباتی اداکاری کی مشکل ڈگر چن لی تھی چنانچہ محض احمد رشدی کے گائے ہوئے گیت پر ہونٹ ہلا دینے سے محمد علی کا مقصد پورا نہ ہوتا تھا بلکہ اسے دِل کی گہرائی سے نکلے ہوئے جذبات کی ادائیگی کے لیئے ٹھوس مکالمات کی ضرورت تھی اور یہی وہ مقام تھا جہاں پھیپھڑوں میں بھرے سانس، ڈایافرام کے سکڑاؤ، ناک اور گلے کے خلا میں سرسراتی سانس اور زبان کی رطوبت کا امتزاج مِل کر ذوالفقار بخاری کے تربیت یافتہ آواز کے اس دھنی کو مائیکرو فون سے کھِلواڑ کے لیئے کھُلا چھوڑ دیتے اور پھر اقلیمِ صدا میں بس اِسی شیر کی دھاڑ سنائی دیتی تھی۔ صداکاری کی طرح چہرے کے عضلات پر کنٹرول کا فن محمد علی کی گھٹی میں نہیں پڑا تھا بلکہ یہ اس نے سخت محنت اور مشقت سے سیکھا تھا لیکن جب اس پر دسترس حاصل ہو گئی تو فنِ صداکاری کے ساتھ مِل کر اِس نے ایسے دو آتشے کا روپ دھار لیا جس نے ربع صدی تک فلم نگری پر محمد علی کے راج کو مستحکم رکھا۔
آگ کا دریا، جیسے جانتے نہیں، انسان اور آدمیت، انصاف اور قانون، شمع، بھروسہ اور صاعقہ جیسی فلمیں روز روز نہیں بنتیں کیونکہ محمد علی جیسے فنکار بھی روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ فن کی دنیا سے باہر محمد علی ایک انسان دوست غریب پرور اور دیالُو شخص تھے۔ اُن کے کچھ خیراتی کام تو دنیا بھر نے دیکھے ہیں لیکن اپنی کچھ نیکیوں پر انھوں نے ساری عمر پردہ ڈالے رکھا۔ راقم الحروف ایک ایسی ماں کو جانتا ہے جسکی بیٹی کا چہرہ بھری جوانی میں داغ دار ہو گیا تھا اور ماں کے پاس پلاسٹک سرجری کے ذرائع نہ تھے۔ اسے کہیں سے پتا چلا کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پلاسٹک سرجن محمد علی کا دوست ہے۔ ماں نے اپنی بیٹی کے لیئے محمد علی سے رابطہ کیا۔ اِس سے پہلے کہ ماں اپنا دکھڑا تفصیل سے سناتی مرحوم محمد علی سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے۔ فوراً ٹیلی فون اٹھایا دوست کو فون کیا اور لڑکی کے مفت علاج کا بندوبست کر دیا۔ لیکن اس طرح کے کتنے واقعات ہونگے جو منظرِ عام پر تو نہیں آئے مگر مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دینے کی سفارش ضرور کر رہے ہونگے۔ | اسی بارے میں لالی وڈ کی کہانی: اور پھرٹی وی آگیا!19 March, 2006 | فن فنکار چاکلیٹی ہیرو کے زوال کی کہانی10 February, 2006 | فن فنکار جنگجو ہیرو بمقابلہ رومانوی ہیرو26 December, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||