’گستاخِ رسول سامنے آیا تو قتل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب اسمبلی کے سپیکر افضل ساہی نے کہا ہے کہ شاتمِ رسول واجب القتل ہے اور ان کے سامنے کوئی گستاخ رسول آیا تو وہ خود اسے قتل کر دیں گے۔ یہ بات انہوں نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سلمان رشدی کے معاملہ پر ہونے والی بحث کے دوران کہی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی کا کہنا تھا کہ شاتمِ رسول کا قتل واجب ہے لیکن یہ گستاخ رسول کو ختم کرنے والے پر منحصر ہے کہ خود کو بھی ختم کرتا ہے یا نہیں۔ ان کے بقول اگر ان کے سامنے کوئی شاتمِ رسول آیا تو وہ اسے ضرور قتل کریں۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران بے نظیر بھٹو کے سلمان رشدی کے حوالے سے بیان پر ہنگامہ آرائی بھی ہوئی۔ حکمران جماعت نے وزیرِاعلیٰ پرویز الٰہی کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے رویے اور بے نظیر بھٹو کے بیان پر احتجاجی واک آؤٹ بھی کیا۔ اجلاس میں حکومتی ارکان نے بے نظیر بھٹو کے خلاف نعرے بازی کی اور ایوان میں پلے کارڈ لہرائے۔ حکومتی ارکان نے ’سلمان رشدی کی تصویر، بےنظیر بےنظیر‘ کے نعرے کے علاوہ نعرۂ تکبیر سمیت دیگر مذہبی نعرے لگائے۔ ایک حکومتی رکن صبغت اللہ نے وزیرِاعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ سلمان رشدی کے سر کی قیمت مقرر کی جائے جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزب مخالف قاسم ضیاء کا کہنا تھا کہ خود کش حملے جائز نہیں ہیں اور وفاقی وزیر اعجاز الحق نے خودکش حملے کو جائز قرار دے کر پوری امت مسلمہ کے خلاف سازش کی ہے ۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران حکومتی رکن زینت خان اپنی نشست سے اٹھ کر اپوزیشن بنچوں کی طرف آئیں جہاں ان کی پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی عظمی بخاری کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی جس پر سپیکر نے حکومتی رکن اسمبلی کو تین دن کے لیے ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے سے روک دیا۔ | اسی بارے میں رشدی:ملتان میں احتجاجی مظاہرے 20 June, 2007 | پاکستان احتجاج میں عراق اور مصر بھی شامل21 June, 2007 | پاکستان پاکستانی احتجاج، برطانوی تشویش19 June, 2007 | پاکستان سرحد اسمبلی میں بھی قراردادِ مذمت 19 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||